جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کا فتنہ الخوارج کےخلاف آپریشن، 13 دہشتگرد ہلاک
جنوبی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 13 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ قبل ازیں پاکستان نے افغانستان میں چار مقامات پر بمباری کی تصدیق کی تھی اور اور کہا تھا کہ ’خوارج‘ اور ان کے چار تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس دوران فورسز کی کارروائی میں 13 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ آپریشن سرا روغہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد فورسز پر حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کے جڑ سے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
اس قبل افغان حکومت نے بتایا تھا کہ پاکستان کی فورسز نے پکتیکا میں بمباری ہے جو تمام بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی اور صریح جارحیت ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے پاکستانی فوج کی اس کارروائی کو وحشیانہ حملہ قرار دیتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شام پکتیکا کے برمل علاقے میں پاکستانی فورس کی جانب سے بمباری کی گئی ہے۔ اس بمباری میں عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو وزیرستانی مہاجرین ہیں۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں۔
قبل ازیں پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بھی افغانستان کے اندر چار مقامات پر بمباری کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ یہاں ان کے بقول ’خوارج‘ اور ان کے چار تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان کے پکتیکا صوبے میں پاکستانی عسکریت پسندوں کے چار اہم ترین تربیتی مراکز پر حملہ کیا ہے جس میں 25 سے 30 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق کابل میں ہیں اور طالبان حکام ملاقاتیں کر رہے ہیں۔