افغانستان دہشتگردوں کو پاکستان پر فوقیت نہ دے: ڈی جی آئی ایس پی آر

  • جمعہ 27 / دسمبر / 2024

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشن لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بارہا نشاندہی کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کرتے آرہے ہیں۔ افغانستان خارجیوں اور دہشتگردوں کو پاکستان پر فوقیت نہ دے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے اور شواہد افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں تک جاتے ہیں۔ آرمی چیف اس حوالے سے واضح موقف رکھتے ہیں، پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔ آرمی چیف بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایک پاکستانی کی جان اور مال افغانستان پر مقدم ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے دل و جان سے کوششیں کیں۔ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔ کئی ملین افغان باشندوں کی دہائیوں سے ہم میزبانی کرتے آرہے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف طویل اور مشکل جنگ لڑ رہی ہیں۔ رواں سال 59 ہزار 775 آپریشنز کیے گئے۔ خوارج سمیت 925 دہشت گردوں اور خوارج کو واصل جہنم کیا گیا۔ سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا، ملک بھر میں تمام ادارے یومیہ 169 انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کیے گئے۔ کئی دہشتگردی کے منصوبے ناکام بنائے گئے، گرفتار ملزمان سے غیر ملکی اسلحہ بھی ملا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے نیٹ ورک پکڑنے اور دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کامیابیاں ملیں۔ ان آپریشنز کے دوران 73 ہائی ویلیو ٹارگٹس یعنی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ گزشتہ 5 سال کے دوران کسی ایک سال میں مرنے والے دہشتگردوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان میں فتنہ الخوارج کا سرغنہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2024 میں انسداد دہشتگردی کے آپریشنز کے دوران 383 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پوری قوم ان بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے، جنہوں نے ملک کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ ملک کی سلامتی اور امن کے لیے پیش کیا۔ یہ جنگ آخری دہشتگرد اور خوارج کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ویسٹرن بارڈر مینجمنٹ کے لیے کام آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ قبائلی اضلاع میں 72 فیصد علاقہ بارودی سرنگوں سے کلیئر کردیا گیا۔ ون ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ کے بعد غیرقانونی بارڈر کراسنگ، اسمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ پاسپورٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔ اب تک 8 لاکھ 15 ہزار سے زائد افغان باشندے اپنے ملک جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مشرقی سرحد پر خطرات کا ہمیں ادراک ہے۔ بھارت خطے میں اپنی اجارہ داری کے لیے جو اقدامات کر رہا ہے، پاکستان کی سول و عسکری قیادت اس سے بخوبی آگاہ ہے۔ بھارت نے اس سال کئی بار چھوٹی سطح پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کیں، جس میں 25 سیز فائر کی خلاف ورزیاں، 564 دیگر اور 161 فضائی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ متعدد فالس فلیگ آپریشنز بھی کیے گئے، جن کا مقصد بھارت کی اندرونی سیاست پر اثر انداز ہونا تھا۔

پاک فوج لائن آف کنٹرول پر بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاک فوج پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں عوام پر ہونے والے مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے آپریشنز کرکے کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ کشمیری عوام پر تشدد قابل مذمت ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال آرٹیکل 370 برقرار رکھ کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہر فورم پر کشمیریوں کی اصولی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج سخت ٹریننگ کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ہماری تربیت میں جذبہ شوق شہادت کا عنصر اہم جز ہے، اس تربیت کا مقصد روایتی اور غیر روایتی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ پاک فوج کا شمار دنیا کی ان چند افواج میں ہوتا ہے، جس کے افسران آگے بڑھ کر آپریشنز کی قیادت کرتے ہیں۔ ہماری تربیت کا موٹو ہے کہ ’وی ٹرین ایز وی فائٹ، وی فائٹ ایز وی ٹرین‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کے ٹریننگ کے حوالے سے احکام کی وجہ سے کثرت کے ساتھ تربیتی مشقیں کی جارہی ہیں، ہم تین سالہ پروگرام کے دوسرے سال میں ہیں، جس میں فارمیشنز لیول مشقیں کی جارہی ہیں۔ اگلے سال آرمی لیول مشقیں کی جائیں گی۔ آرمی کی 183 سے زائد یونٹس نے 2024 میں مشقوں میں شرکت کی، تقریباً اتنی ہی تعداد 2025 میں جنگی مشقوں میں شریک ہوگی۔