کُرم میں امن کے لیے فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے

  • بدھ 01 / جنوری / 2025

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں کرم کی صورتحال پر 3 ہفتے سے جاری گرینڈ جرگہ ختم ہوگیا ہے۔ امن قائم کرنے کے لیے فریقین نے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

جرگہ ممبر ملک ثواب خان نے بتایا کہ فریقین اپیکس کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔ معاملات طے ہوگئے اور تحفظات دور ہوگئے ہیں۔ فریقین کے درمیان معاہدے کا اعلان پشاور گورنر ہاؤس میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین 14 نکات پر رضا مند ہوگئے۔

پیش رفت کے حوالے سے ملک ثواب خان نے مزید بتایا کہ کوئی بھی فریق بغیر لائسنس کے اسلحہ نہیں رکھ سکے گا۔ فریقین مورچے خالی کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اسلحہ حکومتی سر پرستی میں جمع کیا جائے گا۔

ایک اور جرگہ ممبر ملک سید اصغر نے کہا کہ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ فریقین کے درمیان طے معاہدے کا اعلان پشاور گورنر ہاؤس میں ہوگا۔

واضح رہے کہ ضلع کُرم میں قیام امن کے لیے بیٹھنے والا گرینڈ جرگہ گزشتہ روز بھی امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ لوئر کرم کے 2 نمائندوں کی عدم شرکت کے باعث متحارب فریقین کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔ اس سے ایک روزقبل خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ منگل تک امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

تاہم گزشتہ روز ڈان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ لوئر کرم کے سنیوں کی نمائندگی کرنے والے جرگے کے 2 ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ اپر کرم کی جانب سے پہلے ہی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ دونوں فریقین نے معاہدے کے اہم نکات پر بھی اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ باضابطہ معاہدے پر دستخط محض ایک رسمی کارروائی ہے، جسے بدھ کو دونوں فریقین کی ملاقات کے بعد انجام دیا جائے گا۔

کُرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے بتایا تھا کہ لوئر کرم کے نمائندوں میں سے ایک سابق سینیٹر راشد احمد خان اپنے قریبی رشتہ دار کی موت کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔ اپر کُرم کی جانب سے پہلے ہی کرم امن معاہدے پر دستخط کیے جاچکے ہیں۔ دونوں فریق معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آج صبح 11 بجے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے جرگے کے رکن ملک سعید اصغر نے ڈان کو تصدیق کی تھی کہ وہ پہلے ہی امن معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں لیکن چونکہ دوسرا فریق منگل کو مکمل طور پر موجود نہیں تھا، لہٰذا وہ بدھ کو دوبارہ ملاقات کریں گے۔ اس سے ایک روز قبل بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ معاہدے کے بعد دونوں فریقین کو اپنے ہتھیار واپس کرنا ہوں گے اور بنکرز کو مسمار کرنے پڑیں گے۔  اس کے بعد پاراچنار جانے والی سڑکیں کھول دی جائیں گی۔

ضلع کو صوبے کے باقی حصوں سے ملانے والی مرکزی سڑک کئی ہفتوں سے بند ہے جس کے نتیجے میں خوردنی اشیا اور دیگر اجناس کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت نے اس علاقے میں امدادی سامان ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچایا ہے۔ ایدھی ٹرسٹ اور دیگر مخیر حضرات نے بھی مدد فراہم کی ہے۔ لیکن ملک کے باقی حصوں سے کٹے ہوئے لوگوں کی حالت اب بھی سنگین ہے۔

اس دوران پاراچنار پریس کلب کے باہر سڑکوں کی بندش کے خلاف دھرنا سردی کے باوجود جاری ہے۔ گزشتہ روز دھرنے کے دوران امن شاعری کا ایک سیشن بھی منعقد کیا گیا جہاں شعرا نے امن کے حوالے سے اپنے اشعار پیش کیے۔ سڑکوں کی بندش کے خلاف سلطان، گوسر اور بگن کے علاقوں میں بھی مظاہرے جاری رہے۔