نیا سال، نئی امیدیں
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 01 / جنوری / 2025
دن مہینے سال یونہی گزر جاتے ہیں اپنے روٹین ورک میں اس کا احساس ہی نہیں ہو پاتا۔ ہم بہتر سے بہترین کی جستجو میں سرگرداں رہتے ہیں، حتیٰ کہ ایک دن اسی کاوش میں خود بھی گزر جاتے ہیں۔
یہ دنیا جہاں دکھوں اور غموں کی آماجگاہ ہے وہیں سکھوں اور خوشیوں کا گہوارہ بھی ہے۔ ہر گزرتے لمحے تمنا رہتی ہے کہ ہم دکھوں سے مکتی پائیں اور خوشیوں یا راحتوں سے ہم آغوش ہوجائیں۔ مگر کیا کریں ہماری یہ دنیا دونوں کا مکسچر ہے کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے، ابھی کیا تھا ابھی کیا ہے۔ یونہی دنیا بدلتی ہے اسی کا نام دنیا ہے۔ بگڑے گی بنے گی دنیا یونہی رہے گی، بلکہ دکھ درد کے بالمقابل خوشیاں زیادہ عارضی ہیں۔
ہم لوگ ہر بدلتے سال یہ تمنا کرتے ہیں کہ پچھلے برس جو ناکامیاں ہوئیں اب کے برس بہر صورت انہیں کامیابیوں میں بدلیں گے۔ اپنے لیے دکھوں کی جگہ زیادہ سے زیادہ مسرتیں سمیٹیں گے۔ اسی آس یا امید پر ہم ہر نئے برس نئی تمنائیں باندھتے ہیں۔ مگر درویش اپنی اب تک کی زندگی کے حوادثات سے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دکھوں سے کامل مکتی ممکن ہی نہیں ہے۔ آپ کو زندگی میں چاہے جتنی بھی راحتیں میسر ہوں، کبھی مت بھولیے کسی بھی لمحے دکھ درد کی کوئی نہ کوئی چنگاری آپ کے دامن کو خاکستر بنا سکتی ہے۔ آپ کے من میں ہلکی یا گہری ٹیسیں لگا سکتی ہے لہذا یہ یقین کر لیں کہ پھولوں اور کانٹوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس لیے دکھوں کے ساتھ ہی جینے مسکرانے یا خوشیاں منانے اور بانٹنے کا فن سیکھ لیں۔ غموں کا دور بھی آئے تو مسکرا کر جیو ۔
گزرا سال 2024 ذاتی طور پر اس ناچیز درویش کے لیے “عام الحزن” ہوکر گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ نئے برس 2025 سے نئی خوشگوار امیدیں باندھے اس کا استقبال کر رہا ہے۔ اس وسیع کرۂ ارضی میں اس ہیچمدان کی کیا وقعت و حیثیت ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ سال 2024 ہمارے ملک اور دنیا بھر کے عامۃ الناس کے لیے کیسا رہا؟ یہ سال اس حوالے سے بھی کوئی بہت اچھا نہیں گردانا جا سکتا کہ ہمارے اس دیش کی جنتا جس طرح پہلے محرومیوں کا شکار رہ کر روتی رہی، اسی طرح اس برس بھی بلکتی رہی ہے۔ خواص یا ایلیٹ کلاس کے اللے تللے جیسے پہلے تھے ویسے ہی اس برس بھی رہے۔ لیکن عوامی دکھوں اور محرومیوں میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ وہی غربت، وہی مہنگائی، بےروزگاری، شدت پسندی کی اجارہ داری، وہی گھٹن، وہی جکڑ بندی، لیڈران کے وہی جھوٹے وعدے۔ البتہ نئے سال کے آغاز پر ایک اور نیا پانچ سالہ پلان یا چوسنی ضرور دی گئی ہے، جس کا نام ہے "اڑان پاکستان" یعنی اب یہ ملک ترقی و خوشحالی کی جانب اڑنے لگے گا غالب نے کیا خوب کہا تھا:
تیرے وعدے پرجیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا بلند پرواز شہباز جس طرح کی اڈاریاں مار رہا ہے، اسی نوع کی اڈاریاں وہ اگلے برسوں بھی مارنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ماضی کے احوال کی روشنی میں درویش کو تو اس کی توقع معدوم ہے۔ کیونکہ وہ بیچارہ جن بیساکھیوں پر کھڑا ہے، اس کے لیے ایک نیا جواں سال امیدوار بھی پوری طرح پرتول رہا ہے۔ اس لیے کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ یا پانچ برسوں کی تکمیل تک۔ بلند پرواز نے خود ہی اپنے ماضی کے تصوراتی خوابوں کی تعبیر اچھے الفاظ میں یہ کہتے ہوئے بیان کر دی ہے کہ انڈیا کو ترقی دینے کیلیے سابق بھارتی پرائم منسٹر منموہن سنگھ نے نواز شریف کے ماڈل کو اپنا لیا تھا جس کی وجہ سے ہندوستان بہت آگے چلا گیا۔ جبکہ خود ہم نے نواز شریف کے ماڈل کو نہیں اپنایا اس لیے آج پسماندہ ہی نہیں بھکاری بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ بالکل ویسی ہی بڑھک ہے جیسی ہمارے بہت سے خوش عقیدہ مسلمان بھائی اپنا تقابل مغرب سے کرتے ہوئے اکثر ایسے دعوے کرتے پاۓ جاتے ہیں کہ مغرب نے ہماری مقدس آئیڈیالوجی کو اپنا کر اتنی زبردست ترقی کی ہے جبکہ ہم نے چونکہ خود ان مقدسات کو نہیں اپنایا اس لیے ذلیل وخوار ہو کر پوری دنیا میں رل رہے ہیں۔
بلند پرواز نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے یہ پھلجڑی یا شرلی بھی چھوڑی ہے کہ ہم نے اس تضادستان کو ٹیکسستان بنا ڈالا ہے۔ پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ٹیکسز کم کرنے ہوں گے، میرا بس چلے تو میں ٹیکس دس سے پندرہ فیصد کم کردوں تاکہ چوری بھی کم ہو اور صلاحیت میں بھی بہتری آئے۔ جس ملک کا پرائم منسٹر بھی برملا اپنی بے بسی کا اظہار کررہا ہو خواہ حالات کے جبر سے یا کسی اور کے جبر سے، وہاں بھلائی، ترقی، یا خوشحالی کی صرف امیدیں ہی پالی جاسکتی ہیں۔
عالمی سطح پر ملاحظہ کریں تو یہ برس جاتے جاتے دو بہترین شخصیات کو اپنے ساتھ لے گیا ہے ایک عظیم امریکی پریزیڈنٹ جمی کارٹر اور دوسرے انڈیا کو بہتر پالیسیاں دینے والے دھیمے لہجے کے پرائم منسٹر من موہن سنگھ جن کی وفات پر پاکستان میں ان کی جنم بھومی گاہ کے باسی دکھی ہو کر نماز جنازہ کے دعائیہ کلمات ادا کر رہے تھے، جو عوامی سطح پر زبردست خراج تحسین ہے۔ ان ہر دو شخصیات کے حوالے سے خوشگوار پہلو یہ ہے کہ دونوں کو بھرپور آئیڈیل طویل زندگی میسر ہوئی۔ بالخصوص صدر جمی کارٹر کو جو دنیا میں ہیومن رائٹس کے علمبردار مانے جاتے تھے، جنہوں نے انتہائی اہم عالمی چپقلش کے دور میں اپنی قوم کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ یوں نوبل پرائز کے حقدار ٹھہرے۔ بالخصوص ہمارا خطہ پاکستان، ایران اور افغانستان، اس دور میں بڑی تبدیلیوں سے گزرے۔ اسی طرح مڈل ایسٹ کی بدلتی صورتحال سے بھی وہ بطریق احسن نمٹے۔
عالمی سطح پر 2024 کے آخری ایام سیریا کے حوالے سے بہت بڑے انقلاب یا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ شام میں نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط آمریت و جبر کی سیاہ رات اختتام پذیر ہوئی۔ آگے جو نئی سحر طلوع ہوئی ہے، اس نے ہنوز یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ صبح صادق ہے یا کاذب۔ مگر بے وجہ بدگمانی کی بجائے ہمیں اچھی امیدیں ہی استوار کرنی چاہیں تاکہ مڈل ایسٹ میں بہتا انسانی خون کسی طرح رک سکے۔ ارض مقدس کنعان میں امن و سلامتی ترقی و خوشحالی والی تین وزیتون کی نئی کونپلیں پھوٹ سکیں۔ اسی طرح نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی امن و ترقی کے حوالے سے دنیا کو بڑی توقعات ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی اپوزیشن پارٹی انہیں اپنے ملجی و ماوا اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اسی طرح افغانستان میں طالبان بھائیوں کے ساتھ ہمارے معاملات جس سطح پر چلے گئے ہیں، انہیں اور نہیں تو ہمارے پالیسی سازوں کی نااہلی و ناعاقبت اندیشی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے جو انڈیا دشمنی میں ہمسایوں سے اپنی منافرت کو قابو رکھنے سے قاصر رہے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ نئے سال میں ہم اپنی خارجہ پالیسی میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے، بالخصوص بھارت دشمنی کو خارجہ پالیسی کے محور کی حیثیت سے تبدیل کرنے کا بولڈ قدم اٹھائیں گے۔