نو مئی واقعات کے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کر دی گئیں: آئی ایس پی آر

  • جمعرات 02 / جنوری / 2025

پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ نو مئی 2023 کے واقعات میں ملوث 19 مجرموں کی رحم کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزائیں معاف کر دی ہیں۔

جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نو مئی واقعات میں ملوث مجموعی طور پر 67 'مجرمان' نے رحم کی اپیلیں دائر کی تھیں جن میں سے 19 کی سزا معاف کی گئی جب کہ 48 مجرمان کا معاملہ کورٹ آف اپیل میں جائے گا۔ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے جن افراد کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے حوالے سے فوج نے کہا ہے کہ 'مجرمان' کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے۔ دیگر تمام 'مجرمان' کے پاس بھی اپیل کا حق موجود ہے جب کہ قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

واضح رہے کہ نو مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریکِ انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔ مشتعل ہجوم میں شامل بعض افراد نے ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری و فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا تھا۔

بعدازاں نو مئی واقعات کے الزام میں 103 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن کے کیسز فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے تھے۔ گرفتار افراد میں سے 20 کو گزشتہ برس عید الفطر سے قبل رہا کیا گیا تھا۔ لیکن اس وقت یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ 85 افراد فوج کی تحویل میں ہیں جن پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔ تاہم عدالتی فیصلے کے پیشِ نظر ان کے فیصلے نہیں سنائے گئے تھے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 13 دسمبر 2024 کو فوجی عدالتوں کو نو مئی واقعات سے متعلق 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی۔

فوجی عدالتوں کی جانب سے نو مئی واقعات کے الزام میں گرفتار اب تک 85 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں جن پر یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سزا پانے والوں میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی شامل ہیں جنہیں 10 برس قیدِ بامشقت سنائی گئی ہے۔