لوئر کرم میں فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر، ایف سی اور پولیس اہلکاروں سمیت 6 زخمی

  • ہفتہ 04 / جنوری / 2025

خیبر پختونخوا کے ضلع کرم ایجنسی کے علاقے لوئر کرم میں پولیس، ایف سی پر حملے اور گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود، ایف سی اور پولیس کے 2 اہلکار اور 3 راہ گیر زخمی ہوگئے۔

لوئر کرم میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے پولیس اور ایف سی پر حملہ کیا گیا۔ علاقے میں سڑکیں بحال کروانے کے لیے جانے والے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود بھی زخمی ہوگئے، جنہیں تحصیل علی زئی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد بگن کے علاقے میں مزید نفری طلب کرکے علاقے کا محاصرہ کرلیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بگن میں فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 3 راہ گیر، ایک ایف سی اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ ڈی سی کرم جاوید اللہ محسود کو تحصیل ہسپتال کے آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) ٹل منتقل کر دیا گیا۔

بعد ازاں مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اور زخمی اہلکار کو ٹل سی ایم ایچ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید اللہ محسود کو ضروری سرجری کے بعد پشاور منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کو 3 گولیاں لگی ہیں تاہم حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کے قافلے کے لیے راستے کلیئر کرانے بگن گئے تھے۔ واضح رہے کہ بگن چار خیل کے علاقے میں 21 نومبر کو مسافروں کے قافلے پر فائرنگ میں 50 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ جس کے بعد کرم ایجنسی کے علاقے اپر کرم، بگن اور پارا چنار میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے، اس دوران فریقین کے مابین مسلح تصادم میں کئی درجن افراد جاں بحق ہوئے۔

دو روز قبل ہی خیبر پختونخوا کی حکومت اور مقامی قبائلی عمائدین کی کوششوں سے فریقین میں امن معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد آج صبح صوبائی حکومت نے 75 ٹرکوں میں امدادی سامان کرم کے لیے روانہ کیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر اسی امدادی سامان کے قافلے کے لیے سڑکیں بحال کروانے گئے اور خود فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والا 75 ٹرکوں کا قافلہ ٹل کے قریب روک دیا گیا ہے۔ ٹل اسکاؤٹس کے رضاکار وہاں موجود ہیں، قافلہ جلد دوبارہ کرم کے لیے روانہ ہوگا،۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ کرم کے حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں نے حالات کنٹرول کر رکھے ہیں۔ حملہ نامعلوم شرپسندوں کی مذموم سازش ہے۔ اہلسنت اور اہل تشیع دونوں فریقین سے پرامن رہنے اور سازش کی زد میں نہ آنے کی اپیل کی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کرم میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایک بیان میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ شرپسند عناصر عوام کے دشمن ہیں اور فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔ عوام شرپسند عناصر کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ صدر مملکت نے لوئر کرم میں فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر زخمی ہونے والوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بگن میں سرکاری گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ سیکیورٹی فورسز اور حکومت دہشتگردوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔

وزیراعظم نے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری قافلے پر حملہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی۔ انہوں نے ڈی سی کرم جاوید اللہ محسود اور زخمی ہونے والے ایف سی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کرم ایجنسی میں سرکاری قافلے پر فائرنگ قابل مذمت ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے۔