انسانی ارتقائی سفر اور ترک انقلاب
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 04 / جنوری / 2025
قدرت یا فطرت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ کب کون سا دن مہینہ یا سال آتا ہے اور کب گزر جاتا ہے، کب کسی کی پیدائش ہوتی ہے یا موت۔ کب کوئی بڑا انقلاب آتا ہے اور کب رد انقلاب۔ اس کیلیے کسی بڑی سے بڑی ہستی کی پیدائش بھی ایسے ہی ہے جیسے کسی معمولی مخلوق کی تخلیق۔
بظاہر ہم سورج کو جس طرح طلوع ہوتے دیکھتے ہیں، اسی طرح غروب ہوتے اور چاند کو کبھی ہم بہت چھوٹی جسامت میں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور کبھی فل جوبن پر آئے چودھویں کا چاند بنے ملاحظہ کرتے ہیں حالانکہ درحقیقت چاند نہ تو چھوٹا ہوتا ہے، نہ ہی بڑا۔ اسی طرح جیسے سورج طلوع ہوتا ہے، نہ غروب یہ گردش ایام یہ دن رات کا بدلنا سب فطرت کے شاہکار ہیں جو ازل سے یوں ہی ہیں اور ابد کا کوئی سرا کسی کو معلوم نہیں۔
یہ ماہ و سال کی تقسیم، یہ دن دیہاڑ، تہوار یہ برسیاں سالگرہیں، انسانی شعور کی کاوشوں کا شاہکار ہیں۔ ورنہ قدرت یا فطرت کو ان میں سے کسی کے ہونے نہ ہونے، جانے یا آنے ، سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج اگر ہم اس کائنات کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو انسانی شعوری کاوشوں اور انسانی جدوجہد کی عظمتوں پر ایمان لانا پڑے گا۔ کیونکہ خالص ہیومن سٹرگل سے اس کائنات میں جو عجائبات اور شاہکار تخلیق ہوئے ہیں۔ اس پورے انسانی انفرا سٹرکچر کو مائنس کریں تو پیچھے سواۓ قدرت کے حسین مناظر یا صحراؤں اور ویرانوں کے ایسا کچھ نہیں رہ جاتا جس پر انسانیت تفاخر کر سکے۔ ایسی صورت میں زندگی اتنی مشکل ویران اور ابتر لگے گی کہ انسان مرنے کے بعد بہشت کے قصے و افسانے سن سنا کر ہی تسکین حاصل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
اس پس منظر میں ہمارے شکر و سپاس کے اصلی و حقیقی حقدار دنیا کے وہ عظیم الشان فلاسفر اور سائنسدان ہیں جنہوں نے کائنات میں وہ کرشمے کر دکھائے جو برگزیدہ فرشتے یا ماورائی طاقت کی نمائندگی کے دعوے دار بھی نہ کر سکے۔ ان کے بعد وہ عالی مرتبت سیاست دان اور مدبرین ہیں جنہوں نے انسانی شعوری سفر کو موجودہ بلندیوں سے ہمکنار کیا۔ یونانی فلاسفرز سے عصر حاضر کے سائنٹیفک علوم میں ترقی تک بالخصوص مغربی سائنسدانوں، مدبروں اور سیاسی قائدین کی انتھک کاوشوں تک، جنہوں نے نہ صرف جدید ایجادات کے ذریعے انسانیت کی کایا پلٹ ڈالی بلکہ فکری و شعوری طور پر ہمیں یو این کا پلیٹ فارم ہی نہیں یو این ہیومن رائٹس کا وہ چارٹر بھی تھما ڈالا جس پر دنیا میں پوری طرح عمل درآمد ہو گیا تو ہمارے غالب جیسے حقائق آشنا شعرا کو اس نوع کی پھبتیاں نہیں کسنی پڑیں گی کہ:
نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو وعظ
کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
یا یہ کہ
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
شاید یہی وہ برتر انسانی اعمال اور جدوجہد سے لبریز کاوشیں ہیں جن کے صلے میں یہ دنیا بالاخر خوابوں جیسی تصوراتی نہیں بلکہ حقیقی زمینی جنت کانظارہ پیش کر سکتی ہے۔ ’سرگزشت آدم’ کے یہ الفاظ کتنے دلکش ہیں:
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا، کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو، کبھی کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے
کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا، کیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نے
سنایا ہند میں آکر سرود ربانی، پسند کی کبھی یونان کی سرزمیں میں نے
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی، بسایا خطہ جاپان و ملک چیں میں نے
لہو سے لال کیا سینکڑوں زمینوں کو ،جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں، سکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نے
کیا اسیر شعاعوں کو، برق مضطر کو، بنادی غیرت جنت یہ سر زمیں میں نے
قصہ مختصر “فرضی جنت” کے بالمقابل “ارضی جنت” کا یہ وجود عظمت شعور انسانی کا شاہکار ہے۔ درویش کے بس میں نہیں کہ عظمتوں کے ان میناروں کی داستان جہد کا بیان فرداََ فرداََ کر سکے یا اجمالاََ بھی ان پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے سب کچھ منصفانہ پیش کر سکے۔ اگر فطرت نے عرق ریزی کا چانس دیا تو اس پرپوری ایک کتاب پیش کرنے کی آرزو ہے۔ درویش کی زندگی میں 1979 کا سال سیکھنے کے لیے بہت کچھ دے کر گیا ہے۔ ایسے ایسے مدوجز اس برس اٹھے ہیں جن کے سامنے ہمارے بحر ہند کے جوار بھاٹا کی اہمیت بھی ماند دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ ہمارے اس خطے ہند کی چیر پھاڑ یا بربادی میں 1947 کی تباہ کاریوں کا کوئی تقابل نہیں، پون صدی گزرنے کے باوجود اس کی چنگاریاں ہماری نئی نسلوں کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ اور نہ ہی آئندہ شاید کئی صدیوں تک پیچھا چھوڑیں گی۔ لیکن شخصی و ذاتی طور پر ایک کلچرل مسلم کی حیثیت سے جس انقلاب یا کایا پلٹ نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ دنیا کے عظیم المرتبت انسان کمال اتاترک کا 1924 میں بپا ہونے والا ولولہ انگیز انقلاب تھا، جس نے ہمیشہ کے لیے دنیاۓ اسلام سے شخصی آمریت پر مبنی ہمہ گیر نظام خلافت کی جڑ کاٹ کر اس کا رخ جمہوریت اور منتخب پارلیمان کی طرف موڑ دیا۔ اور سادہ لو ح مسلم اقوام کو یہ ابدی پیغام دیا کہ تمہاری حقیقی قومیت کوئی فرسودہ، تصوراتی و روحانی قومیت نہیں بلکہ دیگر مہذب اقوام کی طرح وطنی قومیت ہی ہے۔
جس طرح ترکوں کی ترک اور عربوں کی عرب قومیت ہے، اس طرح ہندی مسلمانوں کی ہندی وطنی قومیت ہے۔ اسی سے کبھی اقبال کا “ہندی ترانہ” پھوٹا یہ کہ:
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا
یہ تو برٹش سرکار کی کمیونسٹ یلغار کے آگے بند باندھنے کی مجبوری تھی جو اس نے اپنے ہمنواؤں کو دیگر جہادی نعروں اور “خاص ہے ترکیب میں…” جیسے رولوں میں الجھا دیا۔ وگرنہ اتا ترک کے ہمہ گیر، ولولہ انگیز، جدیدیت سے لبریز، عظیم الشان انقلاب کو یہی ہر دو شخصیات حریص نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ اس قدر کہ ایک کی بیٹی نے اس کا نام ہی اتا ترک پر چھپنے والی کتاب کی مناسبت سے ”گرے وولف“ رکھ دیا۔ جبکہ دوسرا مرتے دم تک اتا ترک کے لیے درازی عمر کی دعائیں مانگتا رہا۔ان تمناؤں کے ساتھ کہ:
we too one day like Turks will have to re-evaluate our intellectual inheritance ”ہمیں بھی ترکوں کی طرح ایک دن اپنے عقلی و شعوری ورثے کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا“
درویش کی علم و تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے اپنے تمام احباب کی خدمت میں استدعا ہے کہ وہ ان امور پر غور فرمائیں کہ ہمارا وہ عقلی و شعوری ورثہ کیا ہے ؟ جس کا ترکوں کی طرح از سر نو جائزہ ہمارا اقبال لینا چاہتا تھا۔ پاکستانی قوم کے لیے یہ کس قدر دلچسپ اور حیرت انگیز قصہ ہے کہ اس کے ہر دو معماران اپنے ذاتی یا قومی مفادات کی خاطر مذہب کا جتنا بھی سیاسی وسماجی استعمال کرتے رہے، جس سے بجا طور پر انہیں اپنا سیاسی و سماجی قد کاٹھ اونچا کرنے میں معاونت نصیب ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ ان کے اندر سے ضمیر کی آوازوں نے انہیں اتاترک کی فکری عظمت اور عظیم ترک انقلاب کی برکات سے منکر نہیں ہونے دیا۔ جب یہاں پورے خطہ ہند میں تحریک خلافت زوروں پر تھی، بڑے بڑے سکہ بند لیڈران احیائے خلافت کے لیے تڑپ رہے تھے۔ علی برادران خلافت کے غم میں دبلے ہوئے جا رہے تھے، “بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پر دے دو”۔ عین اس دینی طوفان اور مذہبی جنونیت میں ان ہر دو شخصیات کے کردار کو ذرا باریک بینی سے ٹٹول کر دیکھو کہیں ایک دن کے لیے بھی اس گلے سڑے بوسیدہ نظام کے لیے ہمدردی کا ایک بول نہیں ملے گا بلکہ اس کی تحقیر اور مخالفت میں بہت کچھ سامنے ا ٓجائے گا۔
حکیم الامت کی تو اہم ترین کتاب جسے ان کے فرزند نے ہمیشہ اقبال کی اصل فکر قرار دیا Reconstruction Of Religious Thought in Islam کی بنیاد ہی اتا ترک اور ترکوں کی جدید کایاپلٹ ہے جسے وہ دیگر تمام مسلم اقوام کے لیے بطور رول ماڈل پیش کرتے ہیں۔ اگر آج یہ دونوں افراد زندہ ہوتے تو 1924 میں بپا ہونے والے اتا ترک کے اس آئیڈیل انقلاب کی یادیں تازہ کرتے ہوئے یا اس کی درخشاں روشنی اپنی اقوام میں پھیلانے کی خاطر 2024 کے سال کو اتاترک کے سال کی حیثیت سے قومی سطح پر مناتے۔ کسی بھی مسلم سماج کا یہ واحد انقلاب ہے جو پوری صدی گزارنے کے بعد بھی اپنی بنیادوں پر قائم و دائم ہے۔ اگرچہ خود ترکوں کے قدامت پرست ترجمان نے اتا ترک کے انقلاب کی بنیادیں کھودنے اور اسے ڈھا نے یا گرا دینے کی کوششوں میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی۔ جتنے سنگین حملے ہو سکتے تھے، وہ اس عظیم لیڈر اور اس کے انقلاب پر گزشتہ ربع صدی سے جاری و ساری ہیں۔ اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اس لبرل، سیکولر، ڈیموکریٹک انقلاب کو ڈھانے کی خواہش رکھنے والے اپنی قوم کے تمام فہمیدہ و تعلیم یافتہ طبقات کی حمایت سے ہاتھ دھوتے ہوۓ بشمول استنبول اور انقرہ، تمام بڑے تہذیبی مراکز سے فارغ ہو چکے ہیں۔
صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے ماہ و سال میں اتا ترک اور ترکوں کا ماڈریٹ ریولیوشن نئی آب و تاب کے ساتھ ایک مرتبہ پھر نئی تابانیوں کے ساتھ ابھرے گا اور بالآخر اقبال کی خواہش کے مطابق دیگر مسلم اقوام کے لیے ان کے اپنے اپنے خطوں میں رول ماڈل ثابت ہوگا۔