حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار

  • سوموار 06 / جنوری / 2025

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان  مذاکرات میں  تعطل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے تحریری طور پرمطالبات نہ دینے پر مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوئے ہیں۔

اسپیکرایازصادق بھی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلانے سے گریزاں ہیں۔ یہ غیر واضح ہے کہ مذاکرات کاتیسرا دور کب ہوگا۔پی ٹی آئی رہنما اسدقیصر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ میٹنگز میں ہماری  زبانی باتوں کو ہی تحریری مطالبات سمجھا جائے۔کسی صورت مذاکراتی عمل کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، حکومتی کمیٹی اصل فیصلہ سازوں اور سٹیک ہولڈرز کو بھی آن بورڈ لے۔

دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نےکہا ہے کہ مطالبات تحریری طور پرپیش نہیں ہوتے تومذاکرات مشکلات کاشکار ہوسکتےہیں۔ پی ٹی آئی نے دونوں میٹنگز میں تحریری مطالبات دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد تحریک انصاف تحریری چارٹر آف ڈیمانڈ کا فیصلہ کرے گی، چارٹر ماننے کی صورت میں تحریک انصاف کو حکومت سے تحریری معاہدہ  کرنا ہو گا۔ 

دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف کے وکلا نے پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کے لیے سپرٹینڈنٹ کو درخواست جمع کرا دی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق درخواست مین مؤقف اپنایا گیا کہ منگل کے روز وکلا کے بجائے مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سےملاقات کرائی جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات کے لیے انتظامات کیے جائیں۔ 7 رکنی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات کھلے ماحول میں کروائی جائے۔ رپورٹ کے مطابق جیل انتظامیہ کی جانب سے تاحال پی ٹی آئی وکلا کو جواب نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹوں کے درمیان اب تک دو ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ پہلی ملاقات 23 دسمبر 2023 کو ہوئی تھی جب کہ دوسری ملاقات 2 جنوری کو ہوئی۔

دونوں ملاقاتوں کے دوران مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیے گئے جب کہ حکومت نے اگلی ملاقات میں تمام مطالبات تحریری طور پر مانگے ہیں۔