عوام کے دن کب بدلیں گے؟
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 06 / جنوری / 2025
2024 کے جانے کے بعد سال 2025 کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔ پتہ نہیں وہ کون سے نجومی، پنڈت اور جوتشی ہیں جو ہر سال کے اچھے ہونے کی پیشن گوئیاں کر دیتے ہیں مگر ہر پرانا سال کئی پچھتاوے اور خسارے چھوڑ جاتا ہے۔
اکثر لوگ یہی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ:
کتاب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
ویسے بھی ہمارے ہاں بیچارے عوام ہمیشہ خسارے میں ہیں رہتے ہے جبکہ اشرافیہ اور حکمران طبقے کا سر کڑاہی اور ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہی ہوتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہمارے عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں اسی طرح ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس طرح ہمارے ہاں مہنگائی اور بے روزگاری میں آ ئے روز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے اراکین اسمبلی خوش قسمت ہیں کہ راتوں رات ان کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کاش ایسا کوئی الہ دین کا چراغ ہمارے بیچارے عوام اور سرکاری ملازمین کو بھی مل جاتا تو ان کے بھی وارے نیارے ہو جاتے۔ جو اکٹر اپنے مطالبات کے حل کے لئے سڑکوں ہر مار کھاتے اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاٹے نظر آ تے ہیں۔
بیچارے پنشروں پر تو یہ خبر بجلی بن کر گری ہے کہ ان کی پنشنوں میں اضافے کی بجائے الٹا کٹوتیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کئی بے چارے ریٹائرڈ بنک ملازمین پنشن می اضافے کے لئے سالہا سال سے عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ آ ئی اہم ایف کی کڑی شرائط بھی بس بیچارے عوام اور ملازمین کے لئے ہیں۔ اراکین اسمبلی اور بیوروکریسی کی بڑھتی تنخواہیں انہیں نظر نہیں آتیں۔ عوام بجلی گیس اور واسا کے روز بروز بڑھتے بل ادا کرتے ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری کے عفریت کا مقابلہ کرتے ہیں، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا تماشہ دیکھتے ہیں اور جن کے پاس پہلے ہی مراعات اور آ سائشیں ہیں ان کے بجلی گیس کے بل معاف کرنے کے ساتھ ساتھ پیٹرول بھی مفت دیا جاتا ہے۔
مال مفت دل بے رحم کا محاورہ بھی اب کچھ کچھ سمجھ آ نے لگا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود نہ تو کشکول توڑا ہے اور نہ ہی بیرونی قرضے لینے سے باز آ ئی ہے جس کا سود بھی روز بروز بڑھتا جاتا ہے گویا:
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
ہمارے عوام تبدیلی کی آس میں مسیحاؤں کی منتظر رہتے ہیں۔ مگر ان کے حالات کبھی نہیں بدلتے۔ حکمرانوں اور مسیحاؤں کے حالات البتہ ضرور بدل جاتے ہیں۔ ہمارے اراکین اسمبلی قانون سازی اور عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے اسمبلیوں کو اکھاڑے اور مچھلی منڈی جسے ماحول میں دیکھنا اور پیش کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ شاید ان کی انہی فنکارانہ صلاحیتوں اور دھینگا مشتی کے مناظر کی بدولت تنخواہوں میں خاظر خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔
کاش کبھی عوامی نمائیندے عوام کے دکھ درد بھی دور کرتے دکھائی دیتے۔ اور انہیں اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی بجائے عوام کی حالت زار بہتر بنانے کا خیال ہوتا۔ تو عوام کی حالت اور دن بدلتے بھی نظر آتے۔ اب تو مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ دکھائی دے رہا ہے۔ پچتھاووں اور گوشواروں کے خسارے کے ساتھ یہ سال بھی اب رخصت ہونے کو ہے خدا کرے آ نے والا نیا عیسوی سال بھی عوام کے لئے کوئی خیر کی خبریں لائے۔
ایک عرصے سے ہم جس راستے پر سفر کر رہے ہیں اس کے راستوں کی بھی کوئی خبر نہیں ہے بقول شاعر:
ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے
منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا
والی صورت حال کا سامنا کئے ہوئے ہیں۔ پھر بھی امید کے جگنو اور آس کے دیپ جلانے دعاگو ہیں کہ آ نے والے نئے سال میں مزید خساروں سے بچیں اور نئے سال کی پٹاری سے عوام کے لئے بھی کچھ اچھا مال نکل آ ئے۔