وفاقی حکومت کی ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں ختم، وزارتیں اور محکمے کم کرنے کا فیصلہ

  • منگل 07 / جنوری / 2025

پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی لانے کے لیے مختلف وزارتوں اور محکموں کی ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں ختم کی جا رہی ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس وقت تین لاکھ کے قریب خالی سرکاری آسامیاں ہیں جن میں سے 60 فی صد کو فوری ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کرنا، حکومت کے 900 ارب روپے کے جاری اخراجات میں کمی لانے کے سلسلے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان کی حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام میں بھی حکومتی حجم اور اخراجات کو کم کرنے کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ رائٹ سائزنگ کے ان تمام اقدامات کو وفاقی کابینہ کی منظوری حاصل ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پہلے چھ ماہ کی کوششوں سے پاکستان میکرو اکنامک استحکام میں بہترین جگہ پر ہے اور اب ہماری توجہ مستحکم گروتھ کی طرف ہے۔ حکومت بتدریج رائٹ سائزنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اور 43 وزارتوں اور 400 ذیلی محکموں کا جائزہ لینے کے بعد پہلے مرحلے میں وزارت کیڈ کو ختم کیا جا رہا ہے جب کہ وزارت کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کو ایک وزارت کا درجہ دیا جائے گا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پانچ وفاقی وزارتوں کے 80 اداروں کی تعداد کم کرکے 40 کردی گئی۔ وزیرِ اعظم نے جون 2024 میں وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کے لیے کمیٹی بنائی تھی۔ جن اداروں کی افادیت نہیں رہی، انہیں برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کا کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام پالیسیاں بنانا ہے، روزگار دینا نجی شعبے کا کام ہے۔ نجی شعبے کو ملکی معیشت کو سنبھالنا ہوگا۔  معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، اہداف درست سمت میں جا رہے ہیں۔ ہم حکومتی اخراجات کم کررہے ہیں، یہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کی جانب اہم قدم ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس ڈویژن، ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے 60 ذیلی اداروں میں سے 25 کو ختم، 20 میں کمی اور 9 کو ضم کیا جائے گا۔