لاس اینجلس میں تیز ہواؤں کے سبب آگ مزید پھیلنے کا اندیشہ، 24 افراد ہلاک
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگنے والی جنگلات کی آگ سے نقصانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکام نے مزید ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آگ کے سبب اموات کی تعداد 24 ہو گئی ہے۔
اتوار کی شب حکام نے مزید ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل اموات کی تعداد 16 بتائی گئی تھی۔ حکام کو خدشہ ہے کہ آگ کے سبب جل جانے والی املاک یا عمارتوں سے سرچ آپریشن میں مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔ ریاست کیلی فورنیا میں آگ مسلسل تباہی پھیلا رہی ہے اور چھ دن گزرنے کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
امریکہ کے ہنگامی امداد کے اداروں کے اعلیٰ حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تیز ہواؤں کے سبب آنے والے دنوں میں مزید خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ایڈمنسٹریٹر ڈین کریسویل کا ’سی این این‘ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ متاثر علاقے میں ہوائیں ممکنہ طور پر مزید تیز اور خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں کہ ہوائیں اب کیا رخ اختیار کریں گی۔ مقامی حکام بھی اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آگ اور بھی پھیل سکتی ہے جس سے مزید گنجان آبادی والے علاقوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔ آگ پھیلنے سے لاس اینجلس کے مزید اہم مقامات کو نقصان پہنچے گا جن میں اس کا میوزیم بھی شامل ہے۔ اس میوزیم میں کئی مشہور فن پارے موجود ہیں۔ لاس اینجلس کی سرکاری ’یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا‘ بھی اس آگ کی زد میں آنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے نشریاتی ادارے ’این بی سی‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ لاس اینجلس میں لگنے والی آگ سے نقصانات کے تخمینے اور متاثر ہونے والے رقبے کے سبب یہ امریکہ کی بدترین قدرتی آفت میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
اب تک لگائے جانے والے اندازوں کے مطابق اس آگ سے لگ بھگ 135 ارب ڈالر سے 150 ارب ڈالر کے نقصانات ہو چکے ہیں۔ آگ سے ہونے والے نقصانات کے اندازوں کا تخمینہ اس قدر زیادہ اس لیے بھی ہے کیوں کہ اس کی زد میں آنے والے گھروں اور دیگر املاک کی مالیت امریکہ بھر میں سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے آگ لگنے اور اس کے پھیلنے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بقول بعض اوقات آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کو پانی کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے آگ قابو سے باہر ہو جاتی ہے۔