القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلہ کا اعلان پھر مؤخر
سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ تیسری بار مؤخر کردیا گیا ہے۔ کیس کا فیصلہ اب جمعے کو سنایا جائے گا۔
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید 9 بجے سے کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا کمرہ عدالت میں نہیں پہنچے۔ جج ناصر جاوید نے کہاکہ بشریٰ بی بی کو آج فیصلہ کے سنانے کا علم تھا لیکن وہ عدالت پیش نہیں ہوئیں۔ عمران خان کو دو مرتبہ پیغام بھجوایا گیا لیکن وہ بھی تاحال پیش نہیں ہوئے۔ صبح ساڑھے 8 بجے سے عدالت موجود ہوں، نہ ملزمان اور نہ ہی ان کے وکلا پیش ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آج فیصلہ بالکل تیار اور دستخط شدہ میرے پاس ہے۔ ٹرائل کے دوران بھی ملزمان کو متعدد مواقع دیے گئے۔ یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ٹرائل ایک سال کے عرصے میں مکمل ہوا۔ نیب ریفرنس کا ٹرائل گزشتہ سال 18 دسمبر کو مکمل ہوا تھا۔ کیس کا فیصلہ ابتدائی طور پر 23 دسمبر کو سنایا جانا تھا۔
واضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔
یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔
عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا۔ رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور اسے قومی خزانے میں جمع کیا جانا تھا لیکن اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔
190 ملین پاؤنڈ کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مالی ریفرنس تھا جس کو یکم دسمبر 2023 کو احتساب عدالت میں دائر کیا گیا۔ ملزمان پر 27 فروری 2024 کوفرد جرم عائد ہوئی تھی۔ نیب نے ٹرائل کے دوران 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے۔ عمران خان کے وکلا کی جانب سے گواہان پر جرح بھی کی گئی۔
کیس کے اہم گواہان میں سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور زبیدہ جلال شامل تھیں۔ ریفرنس کی سماعت کے دوران 3 جج تبدیل ہوئے۔ ملزمان کی جانب سے 16 گواہان کو عدالتی گواہ کے طور پر طلب کرنے کی درخواست عدالت نے مسترد کی تھی۔ نیب کی جانب سے 6 رکنی پراسیکیوشن ٹیم نے کیس ٹرائل میں حصہ لیا۔
ریفرنس کے کل 8 ملزمان تھے جن میں 6 بیرون ملک فرار ہیں۔ صرف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے ٹرائل کا سامنا کیا۔ 6 جنوری 2024 کو عدالت نے فرحت شہزاد گوگی، زلفی بخاری اور شہزاد اکبر سمیت 6 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا تھا۔
دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم فیصلے کے لیے تیار ہوکر آئے تھے، جج صاحب نے اپنی مرضی سے فیصلہ مؤخر کیا، یہ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالتی عملے نے آج فیصلے سے متعلق آگاہ کردیا تھا۔ اب یہ فیصلہ 17 جنوری کو آئے گا۔ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوتی رہی ہے، ہمارے خلاف ٹرائل کورٹ کا رویہ غیر منصفانہ ہے۔