غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

  • منگل 14 / جنوری / 2025

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ بہت قریب ہے۔ پیر کو اپنے آخری فارن پالیسی خطاب میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت یرغمالوں کی رہائی ہو سکتی ہے۔ اور فلسطینیوں کے لیے امداد میں وسیع پیمانے میں اضافہ ہوگا۔

جو بائیڈن نے فارن پالیسی خطاب ایسے موقع پر کیا ہے جب ان کی مدتِ صدارت کا آخری ہفتہ شروع ہو چکا ہے اور آنے والے پیر کو نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ عہدہ سنبھال لیں گے۔ امریکہ، قطر اور مصر غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس اور اسرائیل کے درمیان بلاواسطہ مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق فریقین کے درمیان دوحہ میں منگل کو دوبارہ بات چیت کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت ہو چکی ہے جس سے اسرائیل اور حماس مرحلہ وار جنگ بندی کے معاہدے کے قریب آتے جا رہے ہیں۔ البتہ اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے فریقین حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ کئی برادریوں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے بقول فلسطینی عوام امن کے مستحق ہیں۔ صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت یرغمال رہا ہوں گے۔ جنگ بند ہو جائے گی۔ اسرائیل کی سیکیورٹی اس معاہدے میں شامل ہے۔ یہ معاہدہ فلسطینیوں کے لیے بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کا ضامن ہوگا جنہوں نے حماس کی شروع کی گئی اس جنگ سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر دہشت گرد حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق لگ بھگ 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔ اس حملے کے فوری بعد اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے حماس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔

ایک سال سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ کے دوران حماس کے زیرِ انتظام محکمۂ صحت کے مطابق 46 ہزار سے زائد فلسیطینیوں کی موت ہو چکی ہے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

سات اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی لڑائی کے ایک سال تین ماہ میں فریقین کے درمیان صرف ایک بار نومبر 2023 میں چند روز کی عارضی جنگ بندی ہوئی تھی۔ عارضی جنگ بندی میں حماس نے 80 یرغمالوں کو رہا کیا تھا جب کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کی جیلوں میں قید 240 فلسطینیوں کو آزادی ملی تھی۔

اب بھی لگ بھگ سو یرغمالی حماس کی تحویل میں ہیں جن کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان یرغمالوں میں سے 34 کی موت ہو چکی ہے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات اہم مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان مذاکرات سے 33 یرغمالوں کی رہائی کا امکان ہے۔ اسرائیلی حکام کے بقول اب بھی 98 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدون سار کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والی پیش رفت گزشتہ کوششوں سے بہت بہتر ہے۔ میں اپنے امریکی دوستوں کا ان کی کوششوں پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو وہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے معاہدے کے حوالے سے کر رہے ہیں۔

حماس کے عہدیداران کا بھی کہنا ہے کہ کچھ اہم ترین ایشوز پر مذاکرات میں پیش رفت ہو چکی ہے۔ باقی ایشوز پر بھی جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یرغمالوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ رواں ہفتے کے اختتام تک ہو جائے گا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ایک جانب جنگ بندی مذاکرات پر پیش رفت ہو رہی ہے تو دوسری جانب غزہ میں جاری جنگ میں اسرائیل کی فوج کے ان اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو لڑائی کے خلاف بات کر رہے ہیں یا وہ مزید جنگ میں شامل نہیں رہنا چاہتے۔

اب تک لڑائی کے خلاف بات کرنے والے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ تاہم کچھ اہلکار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لگ بھگ 200 اہلکاروں نے ایک ایسے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے جنگ بندی کا معاہدہ نہیں کیا تو وہ لڑائی میں مزید حصہ نہیں لیں گے۔

اسرائیلی فوج کے ان اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ ابتدا ہے وہ چاہتے ہیں کہ مزید اہلکار بھی اسی طرح سامنے آئیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں جنگ بندی معاہدے کے حق میں اور مخالفت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔