ائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ
قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں بدھ کو رات گئے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ امید ہے کہ یہ جنگ کے اختتام کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
نائب وزیر اعظم کملا ہیرس اور وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ’غزہ میں لڑائی رک سکے گی، فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور یرغمالیوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ 15 ماہ کی قید کے بعد ملنے کا موقع ملے گا۔‘
امریکہ نے غزہ میں 15 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کے لیے کچھ وسیع شرائط وضع کی تھیں۔ اس کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے حکام قطر، مصر اور امریکہ کے ثالثوں کے ذریعے تفصیلات پر بات چیت کر رہے تھے۔ معاہدے کا مسودہ تین مراحل پر مشتمل ہے جس کے بارے قطری وزیرِ اعظم کو امید ہے کہ یہ ’مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق مجوزہ امن منصوبے کا پہلا مرحلہ 42 دن یا 60 دن تک جاری رہنے والی جنگ بندی ہے۔ حماس معاہدے کے پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔ اس کے بعد آئندہ ہفتوں میں مزید یرغمالیوں کی رہائی کا عمل روک دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ و بیمار افراد کو رہا کیا جائے گا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں میں سے 94 غزہ میں موجود ہیں جن میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔ چار اسرائیلی ایسے بھی ہیں جنھیں جنگ سے پہلے اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے دو ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی سے متعلق تجویز کردہ مسودے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے 16ویں دن اسرائیل اور حماس امن منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مذاکرات شروع کریں گے۔ اس میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے باقی تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی شامل ہو گی۔
اسرائیل شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے رہائشیوں کو علاقے کے جنوب سے واپس آنے کی اجازت دے گا، بشرطیکہ ہتھیاروں کی جانچ پڑتال کی جائے۔
جنگ بندی کے آغاز کے چند روز بعد اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی سے مرحلہ وار انخلا کے حصے کے طور پر وسطی غزہ میں نیٹزاریم کوریڈور سے نکلنا شروع کر دیں گے۔ تاہم اسرائیل مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد کے ساتھ فلاڈیلفیا کوریڈور میں کچھ فوجی رکھے گا۔ مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ کو آہستہ آہستہ بیمار اور زخمی افراد کے علاج کے لیے علاقہ چھوڑنے کے لیے کھول دیا جائے گا اور مزید انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی۔
جنگ بندی کے دوسرے فیز میں زندہ مرد فوجیوں اور شہریوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ مارے جانے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔
اطلاعات کے مطابق حماس کے جن جنگجوؤں نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا انہیں رہا نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہی اپنے فوجیوں کو مکمل طور پر واپس بلائے گا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کا تیسرا فیز غزہ کی تعمیر نو سے متعلق ہے۔ خیال رہے کہ حماس اور اسرائیل کی جنگ کے دوران غزہ کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
غزہ کا بہت بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے لہٰذا اس مرحلے یعنی تعمیرِ نو کے کام میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے اور تیسرے مرحلے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ان کے بارے میں مذاکرات ابتدائی جنگ بندی کے 16 ویں دن شروع ہوں گے۔ لیکن اب بھی کُچھ سوالات موجود ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ: غزہ کے انتظامی امور کس کے ہاتھ میں ہوں گے؟
اسرائیل غزہ کا انتظام حماس کو دینے کے حق میں نہیں ہے اور اس نے اس کے اتنظامی امور فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے جو کہ غربِ اردن میں اسرائیل کے قبضے میں موجود متعدد علاقوں کا انتظام سنبھالتی ہے۔ اسرائیل موجودہ تنازع کے اختتام کے بعد بھی غزہ کی سکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں چاہتا ہے۔
تاہم اسرائیل امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ تشکیل دینے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جو فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات ہونے تک غزہ کا انتظام چلائے گی۔
دریں اثنا معاہدے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 32 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسرائیل کی یہ کارروائیاں بدھ کو غزہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد کی گئی ہیں۔