القادر ٹرسٹ فیصلہ: قانونی معاملات کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے

القادر ٹرسٹ کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور  ان کی اہلیہ بشری بی بی کوباالترتیب 14  اور 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے ۔  تحریک انصاف  نے  اپنے ردعمل میں اسے قانونی معاملے سے زیادہ سیاسی معاملہ بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔    پارٹی کے بعض لیڈر  تو اس حد تک آگے بڑھے ہیں کہ انہوں نے اسے مذہبی  معاملہ بنا تے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو ملک میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کے لیے یونیورسٹی بنانے کی سزا دی جارہی ہے۔

اس معاملہ کو مذہبی ٹچ دینے  سے  پارٹی کو پرپیگنڈا میں تو سہولت ہوسکتی ہے  لیکن   یہ  تحریک انصاف کی سیاست کے لیے  اچھانہیں ہوگا۔ مناسب ہوگا کہ ایک قانونی معاملہ کو سیاسی الزامات اور مذہبی نعروں  کے ذریعے  توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی بجائے حقائق پر بات کی جائے اور  مقدمہ کے میرٹ پر عدالتی نظام میں الزامات کا سامنا کیا جائے۔ سیاسی لیڈروں کی غلط  بیانی کی  وجہ سے پاکستان میں پہلے ہی بہت سے جذباتی اور سیاسی مسائل پیدا ہو چکے ہیں ۔  اسی قسم کی سیاست سے ملک میں مذہبی انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں دہشتگردی  کا فروغ دیکھنے میں آ رہا ہے۔  لہذا تحریک انصاف کے مستقبل کے  علاوہ  پاکستان کی بہتری کے لیے مناسب ہوگا کہ پی ٹی آئی  ، عمران  خان اور بشریٰ بی بی  کو سزا ملنے کے معاملے پر  جذباتی رد عمل دینے سے گریز کرے اور بدحواسی کی کیفیت پر  قابو پایا جائے۔

القادر ٹرسٹ کیس یا برطانیہ سے آنے والے 190  ملین پاؤنڈ کا معاملہ درحقیقت بہت واضح  مقدمہ ہے۔ استغاثہ کو اس میں زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔  بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض برطانیہ میں کچھ غیر قانونی معاملات میں گرفت میں آگئے اور انہوں نے  برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے معاہدہ کے تحت  190 ملین پاؤنڈ ادا کیے۔ حکومت برطانیہ نے  طے کیا کہ یہ رقم پاکستان میں بدعنوانی کے ذریعے  کما کر  برطانیہ منتقل کی گئی تھی،  اس لیے اس پر پاکستانی حکومت و عوام کا حق ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں اس رقم کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عمران خان کی حکومت نے برطانیہ کے ساتھ ایک ’خفیہ‘ معاہدہ کے  تحت یہ رقم   سرکاری اکاؤنٹ  میں منگوانے کی بجائے سپریم کورٹ میں بحریہ  ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں منتقل کرائی۔

واضح  رہے  کہ اس دوران  احتساب بیورو،  بحریہ ٹاؤن کراچی  کی طرف سےزمینوں کی خریداری  میں گھپلوں پر  بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تیاری کررہاتھا۔  تاہم بحریہ ٹاؤن  نے اس ریفرنس سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ میں  پٹیشن دائر کی۔  اور مقدمہ کی کارروائی کے دوران7 سال کی مدت میں  460 ارب روپے ادا کرنے پر  رضامندی ظاہر کی۔ گویا بحریہ ٹاؤن نے جیسے غیر قانونی طور سے برطانیہ فنڈز منتقل کیے اور برطانوی حکام کی گرفت پر اس کا اعتراف کرکے انہیں واپس کیا۔ بعینہ پاکستان میں فراڈ اور دھوکہ دہی کے  الزامات کا سامنا کرنے کی بجائے سپریم کورٹ  کے ذریعے  کثیر ہرجانہ ادا کرکے ڈیل کرلی گئی۔

برطانیہ اور پاکستان کے معاملہ میں صرف ایک ہی قدر مشترک تھی کہ ان دونوں میں بحریہ ٹاؤن ملوث تھا اور اس نے دونوں معاملات میں غیر قانونی حرکتوں کا اعتراف کرکے  خطیر جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔  اس کے علاوہ ان دونوں معاملات کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن عمران خا ن کی حکومت پر الزام ہے کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کوسہولت دینے کے لیے برطانیہ سے منتقل ہونے والے پچاس ساٹھ ارب روپے سپریم کورٹ میں بحریہ اکاؤنٹ میں جمع کرادیے۔ اس طرح برطانوی حکومت نے جس  مقصد سے ملک ریاض/بحریہ ٹاؤن سے  وصول کی ہوئی رقم پاکستان کے حوالے کی تھی، وہ پورا نہیں ہؤا۔ بلکہ عملی طور سے یہ رقم بحریہ ٹاؤن کو واپس کردی گئی۔ کیوں کہ اسے بحریہ ٹاؤن کے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ایڈجسٹ کرادیا گیا۔   اس کے بدلے بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کے  لیے 450 کنال سے اراضی  عطیہ کے طور پر فراہم کی ۔ اس کے علاوہ نقد عطیہ بھی دیا گیا۔ نیب کا مقدمہ تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ  خود ٹرسٹی تھے ۔ اس لیے ایک طرف بحریہ ٹاؤن   پربرطانیہ میں ہونے والے جرمانے کو سپریم کورٹ میں ادا کیے جانے والے ہرجانے میں  جمع کراکے درحقیقت بحریہ ٹاؤن کو خصوصی رعایت دی گئی۔ اس رعایت کے بدلے ہی  بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کو عطیات دیے۔

عمران خان نے اس مقدمہ کو اس کے میرٹ پر لڑنے کی بجائے شروع سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہیں  اس سے ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ہؤا  لہذا یہ مقدمہ جعلی  ہے۔ دوسری طرف نیب اسے بدعنوانی کا سنگین معاملہ قرار دیتی رہی۔ اس مقدمہ کو اگر براہ راست کرپشن کا معاملہ نہ بھی کہا جائے تو بھی عمران خان کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے تھا کہ ان کی حکومت نے ایک خفیہ معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کو آنے والے وسائل سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں کیوں جمع کرانے کا فیصلہ کیا۔ اب ایک طرف ان کی کابینہ کے متعدد ارکان نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس معاملہ میں کابینہ کو اندھیرے میں رکھا گیا اور  لفافے میں بند ایک معاہدے کی منظوری لے لی گئی۔ یہ ایک جائز سوال ہے جس کا جواب سامنے  آنا چاہئے لیکن  عمران خان کے وکیل اور تحریک انصاف کے لیڈر  اس بنیاد پر مقدمے کو بوگس اور جعلی قرار دینے کی خواہش رکھتے ہیں کہ وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر  کوئی عدالت حکم صادر نہیں کرسکتی۔  عمران خان اور ان کے وکیل اس مقدمہ کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے اگر قانونی ڈھنگ سے لڑنے کی کوشش کرتے تو شاید انہیں کوئی رعایت مل سکتی۔

نیب عدالت   میں  اس  مقدمہ کا فیصلہ  سنانے سے قبل مختلف عذر پر تین بار ملتوی کیا  گیاتھا۔ اس وقت عمران خان اور ان کے ساتھی یہی دعویٰ کرتے تھے کہ  فیصلہ کا اعلان جان بوجھ کر مؤخر کیا جارہا ہے تاکہ ان سے سیاسی رعایت لی جاسکے۔   قانون دانوں، تجزیہ نگاروں  کے علاوہ تحریک انصاف کو بھی بخوبی علم تھا کہ اس مقدمہ میں  کیا فیصلہ آسکتا ہے۔  کیوں کہ جیسا کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے عمران خان کے وکیل استغاثہ کا مقدمہ  چیلنج کرنے اور اس کے گواہوں کے بیانات میں نقائص تلاش کرنے میں ناکام رہے۔  اس کے باوجود  فیصلہ کا اعلان ہونے کے بعد اسے یہ کہہ کر مسترد  کیا جارہا ہے کہ  سب کو پتہ تھا کہ کیا فیصلہ آنے والا ہے اور اسے ملک کے ناقص نظام انصاف سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔  حیرت انگیز طور پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر  عمر ایوب نے اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے نواز شریف کے صاحبزادے کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سوال تو پوچھنا چاہیے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے کہ تم نے جس پیسے سے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدی، وہ پیسہ کس طرح باہر لے کر گئے۔  اور آگے پھر بیچی، اس رقم کا تم نے کیا کیا؟ آج وہ دندناتے پھر رہے ہیں‘۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عمران خان کو اس معاملہ میں ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ہؤا۔   عمر ایوب یہ بنیادی نکتہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ  کسی ایک جرم کا کسی دوسرے جرم سے موازنہ نہیں ہوسکتا۔ اگر حسن نواز نے کوئی غیرقانونی حرکت کی ہے تو انہیں اس کا جواب دہ ہونا چاہئے لیکن ان کے جرم سے عمران خان کا جرم بے گناہی میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔

البتہ سینیٹ  میں تحریک انصاف  کے لیڈر شبلی فراز کا بیان اس پہلو سے بے حد افسوسناک اور خطرناک ہے  کہ وہ اس فیصلہ کو  پاکستانی عوام کے عقائد سے جوڑ کر بے بنیاد  الزام تراشی کا موجب بنے ہیں۔  نیب عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے  سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’  اس ملک میں چور دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ معصوم اور ایماندار لوگ جو  نبی کریم ﷺ کی سیرت  پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسا ادارہ بناتے ہیں ، انہیں سزا سنا دی جاتی ہے۔ ایک شخص جو شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے بناتا ہے،  اسے القادر یونیورسٹی بنانے پر سزا دی جا رہی ہے جس میں نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھائی جانی تھی اور پاکستان کے نوجوانوں کو مستفید ہونا تھا‘۔ بظاہر شبلی فراز کا دعویٰ ہے کہ عمران خان چونکہ نوجوانوں کو نیکی کی طرف لگانا اور ملک میں اسلام پھیلانا چاہتے تھے، اس لیے  انہیں اس مقدمہ میں پھنسایا گیا۔  حالانکہ کیس کے شواہد اور حالات و واقعات میں کہیں القادر یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد سے بحث نہیں کی گئی۔  تحریک انصاف کے لیڈروں کا یہی سطحی اور غیر  حقیقی رویہ  ان کی  قانونی پریشانیوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ ممکن ہے چونکہ ملک میں بڑے سیاسی لیڈروں کے ’جرائم‘ کو کسی مصلحت یا عذر کی بنا پر  ’معاف‘ کردینے کی روایت موجود رہی ہے ، اس لیے القادر ٹرسٹ کا فیصلہ بھی تبدیل ہوجائے اور عمران خان ’بے گناہ‘ قرار پائیں لیکن  اس  سے مقدمہ کے شواہد اور حقیقی واقعات تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔

القادر ٹرسٹ کیس میں ابھی  اعلیٰ عدلیہ نے فیصلہ کرنا ہے لہذا اس پر کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں ہے۔   البتہ حکومتی نمائیندے اور سیاسی مخالفین اس معاملہ کو جیسے  بدعنوانی کا مقدمہ بنا کر پیش کررہے ہیں، اس سے گریز کرنے کی بھی ضرورت ہے۔  یہ کہنا مشکل ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو رعایت دیتے  ہوئے عمران خان  کسی مالی لالچ  کی امید لگائےہوئے تھے تاہم انہیں خود بھی حقائق کی روشنی میں اپنا درست مؤقف پیش کرنا چاہئے تھا۔ اس مقدمہ میں ملوث دیگر افراد جن میں  ملک ریاض ، ان کے صاحبزادے  اور  احتساب معاملات پر تحریک انصاف حکومت کے مشیر شہزاد اکبر شامل ہیں،  معاونت کرنے کی بجائے ملک سے فرار ہوگئے اور انہیں عدالت نے مفرور قرار دیا ہے۔  عمران خان  ملک سے بدعنوانی کی بیخ کنی کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اپنی حکومت کے دور میں بھی وہ تمام سیاسی مخالفین کو چور لٹیرے کہہ کر ان پر مقدمے قائم کرا رہے تھے۔ اس تناظر میں انہیں اپنے اس طرز عمل کا  قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور سے جواب دینا چاہئے کہ دیانتداری کے  دعوے کرتے ہوئے عمران خان کیسے ملک کے سب سے بڑے ’بدعنوان ‘ ادارے کے ساتھ ’تعاون‘ پر کیسے راضی ہوگئے۔ بحریہ ٹاؤن نے برطانیہ کے علاوہ سپریم کورٹ آف  پاکستان میں کثیر ہرجانہ ادا کرنے کا اعتراف کرکے اپنے جرائم کو عملی طور سے قبول کیا ہے۔

یہ ممکن ہے  کہ عمران خان کی  حکومت نے کسی غلط فہمی یا غلط معلومات کی بنیاد پر  برطانیہ سے وصول ہونے والی رقم بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی اجازت دی  ہو۔ عمران خان اگر غیر جذباتی طور سے اس ایک نکتہ پر اپنا مؤقف پیش کرتے تو ان کی قانونی اور سیاسی پوزیشن زیادہ مستحکم ہوسکتی تھی۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ اس معاملہ میں صرف حکومت ہی  غلطی کی مرتکب  نہیں ہوئی،  سپریم کورٹ نے بھی اس  پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ پاکستانی عوام کے لیے وصول ہونے والی رقم بحریہ ٹاؤن کے ہرجانے میں کیسے ادا کیا جاسکتا ہے؟ اس حوالے سے یہ سوال بھی جواب  طلب  ہے کہ سپریم کورٹ کیسے محض ہرجانہ وصول کرکے کسی کمپنی کے  غیر قانونی اقدام  کو ’قابل قبول‘ قرار دے سکتی ہے۔ قانون و آئین کی ایسی تشریح کا ایک ہی مفہوم سمجھ آتا ہے کہ اگر کسی کے پاس بے  پناہ دولت ہے تو وہ کوئی بھی قانون شکنی کرے اسے معافی کا کوئی ’قانونی ‘ راستہ فراہم ہوسکتا ہے۔

  سپریم کورٹ کو اس مقدمہ کے تناظر میں  اپنی حکمت عملی پر غور کرنا چاہئے۔ برطانیہ سے وصول ہونے والی  رقم جو ناجائز طور سے بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی، اسے حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کا حکم جاری کرنا چاہئے۔