غزہ جنگ بندی کا آغاز اتوار کو صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ہو گا: قطر

  • ہفتہ 18 / جنوری / 2025

قطر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا آغاز اتوار کی صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ہو گا۔

قطری وزیرِ خارجہ ماجد الانصاری نے ہفتے کو سماجی رابطے کی سائٹ 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کا آغاز اتوار کی صبح سے ہو گا لیکن شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ حکام کی ہدایات کا انتظار کریں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے ہفتے کی علی الصبح غزہ جنگ بندی معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد فلسطینی عسکری تنظیم حماس سے 15 ماہ سے جاری جنگ کو روکنے اور درجنوں یرغمالوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔

جنگ بندی کی خبروں کے باوجود ہفتے کو وسطی اسرائیل میں سائرن کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے آنے والے میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں آئندہ چھ ہفتوں کے دوران حماس 33 یرغمالوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں کو آزاد کر دیا جائے گا۔

'اے پی' کے مطابق حماس نے جنگ بندی کے پہلے روز ہی تین خواتین یرغمالوں کی رہائی پر اتفاق کیا ہے جب کہ جنگ بندی کے ساتویں دن چار اور بقیہ 26 یرغمالی پانچ ہفتوں کے دوران چھوڑے جائیں گے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران ہی اسرائیلی فوج کے مرد اہلکاروں سمیت بقیہ یرغمالوں کی بازیابی پر مذاکرات ہوں گے۔

حماس کا کہنا ہے کہ بقیہ یرغمالی اس وقت تک نہیں چھوڑیں جائیں گے جب تک جنگ کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہوجاتا۔ اسرائیل کی وزارتِ انصاف نے 700 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔ رہائی پانے والوں میں تمام نوجوان اور خواتین ہیں۔ وزارتِ انصاف کے مطابق قیدیوں کو اتوار کی شام چار بجے سے پہلے نہیں چھوڑا جائے گا۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوجی بفرزون کی طرف لوٹ جائیں گے جو غزہ کے اندر اسرائیلی سرحد کے قریب ہے۔ جس کے بعد نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہو گی۔