القادر ٹرسٹ کیس فیصلہ سیاسی تصادم میں کمی کا موجب بن سکتا ہے!

القادرٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے بعد ملکی حالات میں اگرچہ وقتی طور سے بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے لیکن امید  کی جا سکتی ہے کہ جوں جوں  تحریک انصاف سیاسی صورتحال کا  غیر جذباتی جائزہ لے گی  تومعاملہ فہمی اور خوش اسلوبی سے آگے بڑھنے کا راستہ  نکالنے کی کوشش کرے گی۔  اسی وقت متنازعہ معاملات درست ہونے لگیں گے۔

 اس دوران حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جس میں تحریک انصاف اب تک اپنے دو مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے پیش کر چکی ہے ۔ اگرچہ سیاسی معاملات میں  کوئی ڈیڈ لائن حتمی نہیں ہوتی ،  اس کے باوجود اگر اس دوران حکومت کسی قسم کا کوئی متوازن راستہ دریافت کرتی ہے اور تحریک انصاف  کو مصالحت کے لیے کوئی معقول پیش کش کی جاتی ہے تو سیاسی  فاصلے سمیٹنے کا امکان پیدا ہوسکے گا۔ ایسی  صورت حال میں عمران خان یا ان کے دوست مزید سیاسی مکالمہ سے سے اجتناب نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ اس وقت  عمران خان جس مشکل قانونی  و سیاسی صورتحال میں  گرفتار ہیں ، اس سے نکلنے کا واحد راستہ سیاسی مکالمہ کے ذریعے  ہی نکالا  جاسکتا  ہے۔

گو کہ تحریک انصاف نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا کہ اسے  حکومت کے ساتھ مذاکرات کو کس حد تک سنجیدگی سے  لینا چاہیے ۔   سیاسی معاملات  طے کرنے کے لیے  پی ٹی آئی کو لازمی طور پر اپنے قانونی مسائل کو ان سے تھوڑا علیحدہ کرنا پڑے گا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر اور پریس کانفرنسوں  اور بیانات  میں اپنے لب و لہجہ میں کی تندی و تیزی  میں کمی لانا ہوگی۔  اس دوران دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تحریک انصاف آمریت کے سامنے کبھی نہ جھکنے، نظام سے  بغاوت   اور مکمل آزادی و مکمل جمہوریت ملنے تک جد و جہد جاری رکھنے کی بات کرتی ہے لیکن اسے ہمیشہ سے یہ  یقین  رہا ہے اور  اس کا اعلان  بھی کیاجاتارہا ہے کہ تحریک انصاف درحقیقت  طاقتور حلقوں سے بات کرکے ہی معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر  ہے ایسی کسی  خواہش کی تکمیل نظریاتی اصولوں کے حصول کی بجائے مفادات کے تحفظ ہی کے لیے ہوسکتی ہے۔   ایسے کسی بھی سیاسی لیڈر  کی طرف سے حقیقی جمہوریت کے لیے جد و جہد  جاری رکھنے کی باتیں درحقیقت غلط اور گمراہ کن ہوں گی۔

پاکستان کے معروضی حالات کے مطابق یعنی کہ  جو ’لے آؤٹ‘  اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں سیاسی اور جمہوری معاملات  کے لیے طے کیا ہے، اسی کے اندر رہ کے متحرک رہنے کا خواہش مند لیڈر  طے شدہ رولز آف گیم کو مانتے  ہوئے کسی سیاسی پیش رفت کی امید کرسکتا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی  ان قواعد و ضوابط اور اصولوں کو  ماننا پڑے گا جو ملک میں  اس ’کھیل ‘کے لیے متعین کیے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کا مسئلہ یہی رہا ہے کہ پہلے انہوں نے احتجاج کی سیاست کے ذریعے موجودہ نظام کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ اور اب وہ دباؤ اور نعرے بازی کے ذریعے کسی بھی طرح حکومت کو  عاجزکرنا چاہتے ہیں۔  لیکن ان کا کوئی واضح سیاسی ایجنڈا ابھی تک میز پر  موجود نہیں ہے۔ کیا تحریک انصاف خالص آئینی انتظام کی جد و جہد کررہی ہے یا معاملہ فہمی کے ساتھ اسٹبلشمنٹ اور دیگر سیاسی فریقین کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادہ ہے۔ تحریک انصاف بظاہر صرف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ سانجھے داری چاہتی ہے جس کا امکان موجودہ حالات میں موجود نہیں ہے۔ اسی لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو دوسری سیاسی پارٹیوں کے  ساتھ  اشتراک و تعاون کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔

  9 مئی اور  26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کا معاملہ درحقیقت ایک نعرہ  ہے اور  حقیقی لحاظ سے ایک فروعی مسئلہ ہے کیونکہ یہ قانون شکنی کا  معاملہ ہے ۔ یہ   معاملہ ریاست ، قانون  نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں کے ذریعے  طے ہوگا۔ یہ معاملات عدالتوں میں حتیٰ کہ سپریم کورٹ میں بھی زیر غور ہیں۔ آج کل   عدالت عظمی کا آئینی بنچ  بھی فوجی عدالتوں میں سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی سزاؤں اور فیصلوں کے معاملے پر غور کر رہا ہے۔  اگر وہ فیصلہ فوجی عدالتوں کے خلاف آتا ہے تو اس سے تحریک  انصاف اور جمہوری قوتوں کو ایک  گونہ  سہولت ضرور میسر آئے گی لیکن اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوگاکہ نو مئی کے واقعات کے بارے میں ملکی عدلیہ نے  طے کر دیا ہے کہ اس  روز جوکچھ ہوا اس کو بھول کر آگے بڑھا جائے ۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ واضح کر چکی ہے کہ وہ ان واقعات کو بھول کر آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تقریباً یہی موقف 26 نومبر کے واقعات کے حوالے سے  حکومت کی طرف سے براہ راست اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے باالواسطہ طور سے سامنے آ چکا ہے ۔  ایسے میں ان دو واقعات کی عدالتی تحقیقات سے بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بلکہ اس روز ہونے والے تشدد کے ذمہ داروں کا تعین کرنا اور غلطیوں کی معافی مانگنا ہی مسئلہ کا حل ہے۔

تحریک انصاف نے ان حالات میں گزشتہ ہفتے کے دوران بیرسٹر گوہر علی اور کے  خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کا اعلان کیا ہے۔   پارٹی چئیرمین نے میڈیا سے گفتگو میں واضح طور سے بتایا ہے کہ اس ملاقات میں ہم نے اپنے مسائل پیش کیے  اور بات چیت کی گئی ہے ۔  عوام کواس سے زیادہ تفصیل نہیں بتائی گئی ۔ البتہ  بیرسٹرگوہر علی  کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی اجازت سے یہ ملاقات کی تھی۔  اس ملاقات کے بارے میں عمران خان کو    مکمل بریفنگ دے دی گئی ہے۔  اس حوالے سے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ القادر ٹرسٹ کیس کے بارے  میں تحریک انصاف کا موقف رہا  تھا کہ  عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کا فیصلہ مؤخر کیا جارہا ہے۔  تاہم تحریک انصاف کی طرف سے آرمی چیف  کے ساتھ  ملاقات کے اعلان کے ایک روز بعد ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی  کو7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ گویا آرمی چیف سے ملاقات بھی اس معاملہ میں تحریک انصاف کے لیے کسی سہولت کا سبب نہیں بن سکی۔

اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آرمی چیف سے ملاقات کے باوجود یہ واضح کیا گیا ہے کہ ملکی  عدالتی نظام جیسے بھی کام کر رہا ہے ، اسی کے ذریعے فیصلے ہوں گے۔  تحریک انصاف اور عمران خان کو عدالتی نظام سے ہی  انصاف لینا پڑے گا ۔ تحریک انصاف کے لیڈروں سے  آرمی چیف کی ملاقات کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان ادارے نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ۔  گزشتہ ہفتے  آئی  ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز میں   بتایا تھا کہ آرمی چیف نے سیاسی  لیڈروں کے ساتھ ملاقات میں دہشتگردی کے خلاف مل کر کام کرنے  کی خواہش  ظاہر کی۔ اور سیاسی لیڈروں پر واضح کیا کہ ملک میں دہشتگردی ختم کرنے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔  انہوں نے اس موقع پر ایک دو اشارے سیاسی صورتحال کی حوالے سے ضرور دیئے تھے ، جن میں   یہ بیان بھی شامل  تھا کہ ’ہم سب ہی غلطیاں کرتے ہیں ۔  ہمیں غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور ان پر پشمان ہونا چاہیے ‘۔ یہ شاید  بہت واضح اشارہ تھا کہ  اگر  تحریک انصاف آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اسے کیا کرنا چاہئے۔

 بیرسٹر گوہر علی  کو آرمی چیف سے براہ راست بات چیت شروع ہونے کی نوید سناتے ہوئے یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس ملاقات میں آرمی چیف نے مفاہمت کے لیے کیا شرائط  پیش کی ہیں۔  یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ پاک فوج کے سربراہ نے تحریک انصاف کے ساتھ دو بدو ملاقات کی ہے یعنی کہ تحریک انصاف کے سیاسی وفد کے ساتھ آرمی چیف نے ملاقات کی  اور ان کی شکایات سنیں۔ ایسا کوئی  وقوعہ ضرور کسی نہ کسی طریقے سے  ریکارڈ پر ہوتا ۔ آئی ایس پی آر  یا حکومت  ضرور کوئی نہ کوئی بیان جاری کرتی۔  یہ اعلان تحریک انصاف کی طرف سے ایک طرفہ طور سے کیا جا رہا ہے۔  لہذا  کہا جا سکتا ہے کہ ملاقات تو ہوئی ہے لیکن  یہ ملاقات دہشت گردی کے وسیع  ایجنڈا  پر ہونے والے اجلاس میں ہوئی ہے۔ ا س موقع پر کچھ باتیں ضرور ہوئیں ہوں گی ۔  شاید اسی لیے آرمی چیف نے کہا ہو  کہ غلطیاں ہو جاتی ہیں اور ان پر پشیمان بھی ہو نا چاہیے۔

تاہم  تحریک انصاف کے لیڈروں کی آرمی چیف سے ملاقات کے دعوؤں کے حوالے سے اب دووسرے ذرائع سے بھی معلومات سامنے  آئی ہیں۔ روزنامہ ڈان نے  رپورٹ کیا ہے کہ سکیورٹی ذرائع  کے مطابق یہ  ملاقات انسداد دہشت گردی   معاملات کے تناظر میں ہوئی۔ بیرسٹر گوہر نے سیاسی معاملات پر بات کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں بتا دیا گیا کہ سیاسی معاملات پر بات چیت سیاست دانوں سے کریں۔  ملاقات کے بارے میں یہ رپورٹ اس تاثر  سے قطعی مختلف ہے جو بیرسٹر گوہر علی  نے قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔  اسی حوالے سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سینیٹر عرفان صدیقی کا بیان بھی دلچسپی سے خالی نہیں ۔  ڈان نیوز کے پروگرام ’ان فوکس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ’ملاقات‘ کی ساری تفصیلات اور مکالموں کا علم ہے۔انہوں نے ایک مثال دی کہ کسی مسئلے پر خاندان کے کچھ لوگ جمع ہوں اور جاتے جاتے دو لوگ رک کر خاندان کے بڑے سے کہیں کہ ہمیں آپ سے ضروری بات کرنی ہے  کھڑے کھڑے  بات سن لیں تو یہ ملاقات نہیں ہوتی۔ تاہم ان کا کہنا تھا  کہ  اگر بیرسٹر گوہر صاحب ایسا ہی سمجھتے ہیں ، اگر علیمہ خان بھی اسے خوش آئند قرار دے رہی ہیں اور عمران خان بھی اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔ انہیں پھر اپنی مذاکراتی ٹیم سے کہہ دینا چاہئے کہ وہ جس دروازے کے کھلنے کا انتظار کررہے تھے، وہ کھل گیا ہے۔  کیوں کہ ایک ہی وقت میں بیک ڈور ڈائیلاگ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں چل سکتے ہیں۔

دریں حالات تحریک انصاف  پر بھی یہ واضح ہونا چاہئے کہ احتجاج اور غصے کی سیاست کرنے کی بجائے،  تھوڑا سا بردباری کا مظاہرہ کرے۔  سنجیدگی سے  خود کو درپیش مسائل کا  جائزہ لے اور قوم و ملک کے مسائل پر بھی غور و فکر کرے۔  وہ بہرحال ملک کے ایک بڑے طبقے کی امید ہے۔  عوام کے ووٹ  لینے والی پارٹی پر ان کی طرف سے بھی کچھ ذمہ داریاں  عائد ہوتی ہیں۔  موجودہ حالات میں حکومت سے زیادہ تحریک انصاف کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔   متوازن اور سنجیدہ سیاسی رویہ ہی تحریک انصاف کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ  کشادہ کرسکتا  ہے۔