ٹرمپ کے پہلے ہی دن کئی صدارتی حکم جاری کریں گے

  • سوموار 20 / جنوری / 2025

ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ سوموار کو امریکی صدارت سنبھالتے ہی پہلے دن میں وہ ’لوگوں کے سر چکرا دیں گے۔‘ عہدے کا حلف اٹھانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے احکامات کا ایک سیلاب سامنے آئے گا۔

ان کی جانب سے چند ممکنہ احکامات کے بارے میں عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن، موسمیاتی تبدیلی سے جڑے قوانین، خفیہ دستاویزات سمیت متعدد معاملات پر توجہ دیں گے۔

امریکہ میں کسی بھی نئے صدر کی جانب سےعہدہ سنبھالتے ہی ایگزیکٹیو حکم ناموں پر دستخط کرنا عام بات ہے۔ ان حکامات کو بعد میں عدالتیں یا نئے صدور ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کی جانب سے جس طرح کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، وہ غیر معمولی لگتی ہے اور گمان کیا جا رہا ہے کہ ان احکامات کے سامنے آتے ہی قانونی جنگ چھڑ جائے گی۔

ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی تاریخ میں پہلے دن سے ہی بے دخلی کا سب سے بڑا پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں۔ فاکس نیوز کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ وہ سرحدی ایمرجنسی کا اعلان کریں گے اور فوج کو حکم دیں گے کہ ملک کی جنوبی سرحد کا انتظام سنبھال لے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پالیسی کا اختتام کرنے والے ہیں جس کے تحت وفاقی امیگریشن حکام چرچ یا سکولوں پر چھاپہ نہیں مار سکتے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ملک بدری کا کوئی بھی پروگرام مشکلات سے خالی نہیں ہو گا جس پر اربوں ڈالر کا خرچہ بھی ہو گا اور قانونی اور عدالتی مسائل بھی آڑے آئیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنی اس پالیسی کو زندہ کریں جسے ان کے پہلے دور صدارت میں ’میکسیکو میں ہی رہو‘ کا نام دیا گیا تھا جس کے دوران امریکہ میں پناہ کے متلاشی تقریبا 70 ہزار افراد میکسیکو لوٹ گئے تھے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی سرزمین پر پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہریت دینے والا 150 سال پرانا آئینی حق ’مضحکہ خیز‘ ہے اور اپنے پہلے ہی دن اسے ختم کرنا کا اعلان کر رکھا ہے۔

لیکن ایسا ایک ایگزیکٹیو حکمنامے سے کرنا کافی مشکل ہو گا۔ کیوںکہ اس حق کی ضمانت امریکہ کا آئین دیتا ہے۔

یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ منشیات فروش گروہوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کا درجہ دے کر القاعدہ، حماس جیسی تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیں گے۔ جب ٹرمپ 2016 میں پہلی بار صدر بنے تھے تو انہوں نے سرحد پر دیوار بنانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس دیوار کے چند حصے تعمیر ہو چکے ہیں لیکن زیادہ تر نامکمل ہے اور اب ٹرمپ اس ادھورے کام کو مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ٹرمپ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ درآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف عائد کریں گے جو امریکی مصنوعات کو ترجیح دینے کے عمل کا حصہ ہو گا۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں چینی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیا تھا جسے جو بائیڈن نے برقرار رکھا تھا۔ لیکن اس بار وہ تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کا کہہ رہے ہیں۔ کینیڈا اور میکسیکو سے آنے والے سامان پر 25 فیصد، جبکہ چینی مصنوعات پر 60 فیصد تک ٹیرف لگانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیرف کی وجہ سے روزمرہ کی اشیا مہنگی ہو جائیں گے اور افراط زر میں اضافہ ہو گا۔ دوسری جانب چند ممالک جوابی ٹیرف عائد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کی حمایت کا علم بلند کر رکھا ہے اور ان کے الیکشن جیتنے کے بعد سے بٹ کوائن کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

چند لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ شاید تیزی سے وفاقی سطح پر کرپٹو کا ذخیرہ جمع کرنے کی کوشش کریں گے جو امریکہ میں تیل اور سونے کے سرکاری ذخیرے جیسا ہو گا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایک ’مستقل امریکی اثاثہ‘ ہو گا جس کا فائدہ تمام شہریوں کو ہو گا۔

جو بائیڈن آلودگی کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ فیصلوں کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ان میں سے زیادہ تر کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ وفاق کی زمین پر تیل کی تلاش پر پابندیاں ختم کر دیں گے اور امریکی توانائی کی پیداوار بڑھانے کا وعدہ پورا کریں گے۔

ٹرمپ نے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سمیت الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے بھی منسوخ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔2017 میں ٹرمپ نے چھ ماہ کے اندر پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ یہ ایک تاریخی معاہدہ تھا جس کا مقصد بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کو روکنا تھا۔ جو بائیڈن نے پہلے ہی دن 2021 میں اس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی تھی اور اب ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کو اس معاہدے سے دستبردار کروانا چاہتے ہیں۔

2021 میں سینکڑوں افراد کو امریکی کیپیٹل ہل فسادات میں ملوث ہونے پر سزا سنائی گئی تھی جو اس انتظار میں ہیں کہ کب ٹرمپ حلف اٹھائیں گے اور انہیں معافی دلوائیں گے۔ ٹرمپ نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں ان میں سے بہت سوں کو معاف کرنے کے حق میں ہوں۔ میں ہر کسی کی بات نہیں کر سکتا کیوں کہ ان میں سے کچھ بہت بے قابو ہو گئے تھے۔‘ واضح رہے کہ ان فسادات کے بعد ڈیڑھ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور 600 کو سزائیں ہوئی تھیں۔

ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران دعوی کیا تھا کہ وہ صدارت کے پہلے دن یوکرین کا تنازع ختم کر دیں گے۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کو ایسا کرنے کے لیے چھ ماہ درکار ہوں گے۔ اس وقت یہ واضح نہیں کہ اس بارے میں وہ اپنے پہلے چند دنوں میں کیا کرنے والے ہیں۔

اتوار کے دن ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو معطل کرنے کا حکم جاری کریں گے۔ ان کے مطابق اس حکم کے تحت اتنا وقت مل سکے گا کہ ٹک ٹاک میں 50 فیصد حصہ پانے کے لیے ایک امریکی شراکت دار کو تلاش کر سکے۔

اس سے قبل ٹرمپ ٹک ٹاک پر پابندی کی حمایت کر چکے ہیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنا موقف تبدیل کیا اور کہا کہ ان کی صدارتی مہم کے دوران ان کی ویڈیوز کو ٹک ٹاک پر اربوں بار دیکھا گیا تھا۔