قومی نظریات کے پرچار میں تاریخی حوالے

سوشل میڈیا پر تاریخ ہند اور تاریخ قیام پاکستان کے حوالے سے کئے جانے والے تجزیوں میں آج کل اس شکایت کا رحجان دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستانی سکولوں اور کالجوں میں شروع سے ہی غلط تایخ پڑھائی جاتی رہی ہے۔ 

بہت سے پاکستانی تجزیہ نگار مختلف حوالوں سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل تاریخی حقائق کچھ اور ہیں لیکن ہماری درسی کتب میں کچھ اور ہی پڑھایا جاتا  ہے۔ ان کا  یہ الزام ہے کہ پاکستانی سٹیٹ نے تاریخ کو اپنی قومی پالیسی یا نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی غرض سے صرف ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جو سٹیٹ کے اپنے نظریے کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی رائے میں پاکستان میں تاریح نہیں بلکہ آئیڈیالوجی پڑھائی جاتی ہے اور یہ فعل کسی جرم سے کم نہیں۔

میری تحریر کا مقصد تاریخی شعور کے اصولوں کے تحت ان الزامات کی صداقت کا جائزہ لینا ہے۔  ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہے کہ تاریخی حقائق کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے میں کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور وہ کیا  محرکات ہیں جن کی وجہ سے مختلف افراد، ممالک یا اقوام تاریخ کی ایک متفقہ تشریح کے کسی طریقے پر راضی نہیں ہو سکتے۔  ہم اس بات کو بھی زیر بحث لائیں گے کہ کیا کسی سٹیٹ کا تاریخ کے پردے میں اپنی آئیڈیالوجی کو فروغ دینا کسی بھی لخاظ سے تخریبی یا غیر اخلاقی فعل ہے؟

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو جس طرح ہر بات کے ایک سے زیادہ مطلب ہو سکتے ہیں بالکل اسی کلیے کے تحت تاریخ کو دیکھنے کے بھی مختلف زاویے ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف محققین ایک ہی مؤرخ کی مرتب کردہ  تاریخ کا غیرجانبدارانہ مطالعہ کرنے کے باوجود بھی اس سے مختلف نتائج اخذ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  ہر محقق یا تجزیہ نگار انسانی نفسیات اور فطرت کے اصول کے عین مطابق  غیر شعوری طور پر تاریخ کے اسی  رخ کو اپنی توجہ کا مرکز بنانے پر مجبور ہوتا ہے جو اس کے ذہنی رحجان سے مطابقت رکھتا ہو۔  اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پوری ایمانداری سے کی گئی غیر متعصبانہ  تحقیق بھی تمام انسانوں کو تاریخ کی کسی ایک تفہیم پر متفق کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔  یہ کسی دانستہ کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایسا بوجہ تقاضہ بشریت ہوتا ہے۔  

آپ میری اس بات سے اتفاق  کریں گے کہ تاریخ بذات خود ہمیشہ ایک کھرا سچ اور  اٹل حقیقت ہوتی ہے لیکن چونکہ اس کی اپنی زبان نہیں ہوتی ،اس لیے اپنے اظہار اور بقا  کے لیے یہ انسان کی مرہون منت ہوتی ہے۔  تاریخ قلمبند ہو کر کیا رنگ و روپ اختیار کرتی ہے، اس کا انحصار مورخ کی بصارت اور بصیرت پر بھی ہوتا ہے۔ متعدد تاریخی ادوار و واقعات کو مختلف مؤرخین نے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا ہے اور ان کے بیانات  میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔  اب یہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے  پر منخصر ہے کہ وہ کون سے مؤرخ کی تاریخ کو تسلیم کرے اور کسے رد کر دے۔ اور اس کا انحصار قاری کے تاریخی فہم کی پختدگی، اس کے اپنے نظریات اور انداز فکر پر ہے۔

یعنی مؤرخین اور محققین اور عام قاری کے  غیر جانبدار اذہان کی چھلنی سے گزرنے کے بعد تاریخ بسا اوقات ایسی لچکدار ہیئت اختیار کر لیتی ہے جسے آسانی سے اپنے من پسند پیکر میں ڈھالا جا سکتا ہے۔  باالفاظ دیگر تاریخ میں اتنی گنجائش کا موجو ہونا ممکن ہوتا ہے کہ اس کی صورت مسخ کئے بغیر تاریخ کی ایک سے ذیادہ تشریحات اخد کی جا سکیں۔ اور یہ تمام تشریحات جائز اور قابل قبول سمجھی جائیں گی۔ بشرطیکہ تحقیقی عمل جانبداری اور تعصب سے پاک ہو۔

وہ اقوام یا عوام جو کسی خاص خطے میں مختلف حکمران خاندانوں کے تحت ایک مشرک گروہ کی شکل میں اکٹھے زندگی گزار چکے ہوں اور پھر باہمی اختلافات کی وجہ سے جنگ وجدل کے بعد نئی جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم  ہو چکی ہوں تو ان کے درمیان تاریخی حقائق سے متعلق اختلافات کا پایا جانا یقینی امر ہے۔  دشمنی کے رشتے میں بندھے ایسے ممالک یا اقوام ہر معاملے میں بشمول تاریخ ایک دوسرے کے حریف ہوتے ہیں اور اس بنا پر ایک کا ہیرو، دوسرے کا ولن اور ایک کا سچ دوسرے کا جھوٹ ہوتا ہے۔

اس کی بہترین مثال انڈیا اور پاکستان ہیں۔  اور میری نظر میں یہ دونوں ممالک  تاریخ کو اپنے اپنے نظریات اور  وسیع تر قومی مفادات کے تحت اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے میں حق بجانب ہیں۔  دونوں ممالک فطری طور پر اپنے اپنے عوام کو تاریخ کے صرف انہی پہلوؤں سے روشناس کروائیں گے جو ان کی اپنی آئیڈیالوجی کو پروموٹ کرنے میں معاون ثابت  ہو۔ اسی اصول کے تحت  اگر پاکستان میں سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ ہمارے قومی نظریے کے تابع ہے تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ پوری دنیا میں بشمول انڈیا  ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ریاست اپنے بچوں کو اپنی تاریخ کے روشن پہلوؤں سے ہی آگاہ کرتی ہے اور  منفی پہلوؤں کے ذکر سے ہمیشہ گریزاں دکھائی دیتی ہے۔ 

مثال کے طور پر برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کی استعماریت   تاریخ انسانی پر ایک بد نما داغ ہے لیکن کیا یہ استبدادی قوتیں اس دور ظلمت  کی داستانیں اپنے بچوں کو سکولوں اور کالجوں میں سناتی ہیں۔ انگریز کے ہاتھوں ہندوستان کا معاشی استحصال ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن کیا انگریز اپنے بچوں کو سکولوں میں یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان سے کتنے ٹریلین ڈالر کی لوٹ مار کی۔ کیا آسٹریلیا اور امریکہ کے قدیم مقامی باشندوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم اور ان کی نسل کشی کی تاریخ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کی درسی کتب میں آپ کو ملتی ہے۔

اگر دنیا کی تمام ریاستیں تاریخ کو  اس زاویے سے پیش کرتی ہیں جس سے ان کی عظمت کا پہلو نمایاں ہو اور ان کے قومی نظریات کو بھی تقویت ملتی ہو تو پھر  ریاست پاکستان  کے ایسا کرنے پر قدغن کیسے لگائی جا سکتی ہے۔  میرے خیال میں ہمارے یو ٹیوبرز کو پاکستانی ریاست پر غیر استدلالی تنقید کرنے سے پہلے اس معاملے کا بین الاقوامی تقابلی جائزہ ضرور لینا چاہیے۔  اس طرح  کے سنسنی خیز بیانیے صرف وقتی توجہ حاصل کرنے کا موجب تو بن سکتے ہیں لیکن ان سے کسی مثبت سمت عوام کی فکری رہنمائی کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔

البتہ اس بات سے ا نکار ممکن نہیں کہ ریاست پاکستان کی نظریہ پاکستان کے فروغ  کے لئے اپنائی گئی حکمت عملی میں ایسی بنیادی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ طاقتور حلقوں نے مسلمانوں کے "علیحدہ تشخص" پر مبنی ایک آسان اور شفاف نظریے کو اپنی طاقت کو دوام بخشنے کی خواہش سے منطبق ر کے اسے پراگندہ کر دیا ہے۔ اور اس عمل نے ہماری سیاست اور سماج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔