امریکی عظمت کی سربلندی اور صدر ٹرمپ

‎ 78 سالہ نوجوان، ایکٹیو، پھرتیلے اور انوکھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوبیوں اور خامیوں پر جہاں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ وہیں اعتراض و اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی ایک خصوصیت ایسی ہے جس پر سبھی اتفاق کریں گے یہ کہ ٹرمپ ایسے

Unpredictable شخص یا صدر ہیں جن کے متعلق یقین سے کچھ بھی کہنا محال ہے۔ 

وہ جس کسی کے خلاف زہر اگل رہے ہوتے ہیں، عین ممکن ہے اسی کو پیار سے اپنے پہلو میں بٹھالیں۔ اور جس سے دوستی کے اعلانات فرما رہے ہوں، اسی کو بظاہر نظر انداز فرما دیں۔ جی کرے تو اپنے قریب ترین اتحادیوں بنجمن نیتن یاہو اور کراؤن پرنس محمد بن سلمان کو کھری کھری سنا دیں اور من میں ترنگ سمائے تو نارتھ کوریا پہنچ کر ناپسندیدہ ترین صدر سے محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ اپنے فرینڈ مودی سے نظریں چرا لیں اور جس چین کے خلاف دن رات نفرت کے بگولے چھوڑتے ہیں اسی کے صدر شی کو کال کرتے ہوئے اپنے پاس بلا لیں۔ ایسے میں نریندرا مودی انہیں یہ گیت سناتے رہ جائیں:

اپنوں پہ ستم غیروں پہ کرم اے جانے وفا یہ ظلم نہ کر

ان کا حاکمانہ اسلوب دیکھ اور سن کر بارہا یہ گمان گزرتا ہے کہ انہیں شاید امریکا کا نہیں رشیا یا چائنہ کا صدر ہونا چاہیے تھا۔ جو بھی ہے ہیں وہ انرجیٹک، صدا بہار، اپنی دھن کے پکے، اپنی ایسٹیبلشمنٹ کی اتنی زیادہ مخالفت اور میڈیا کی پھیلائی منافرت کے باوجود وہ پوری طاقت اور آن بان شان کے ساتھ نہ صرف اپنی ریپبلکن نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ عوامی اعتماد کے بھی انوکھے ریکارڈز قائم کر ڈالے۔ ” گریٹ امریکا” اور “امریکا فرسٹ” کا جو نعرہ لگا کر وہ آج وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے ہیں تو حلف اٹھانے کے بعد خوب بولے ہیں۔ زمین سے خلائی مشن کے ساتھ مریخ تک جا پہنچے ہیں۔ سب سے زیادہ جلی کٹی انہوں نے امیگریشن کے حوالے سے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو سنائی ہیں جن کی بے دخلی پر وہ تلے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنی جنوبی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی لگانے کے لیے آمادہ و تیار ہیں۔ آئینی ترمیم کی موجودگی کے باوجود وہ سیاسی پناہ  اور  پیدائشی حق شہریت کو روک دینا چاہتے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے خدانخواستہ انہیں ہیومن رائٹس سے بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔

وہ پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی دستبردار ہو رہے ہیں۔ تین باتیں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت خطرناک کی ہیں۔ اول یہ کہ امریکا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

سے نکل جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ امریکا عالمی ادارہ صحت کو سب سے بڑھ کر اکیلا جو  اٹھارہ بیس فیصد مالی تعاون فراہم کرتا چلا آرہا ہے، اب وہ اس سے دستکش ہو جائے گا۔ اس عالمی ادارے کی کارکردگی کےحوالے سے انہیں کرونا کے دور سے شکایات ہیں۔ ٹرمپ کے اس “حسن سلوک” سے اس تنظیم کو عالمی سطح پر کتنا نقصان ہوگا انہیں اس کا ادراک تو ہوگا۔ لیکن شاید احساس نہیں۔ دوسرے انہوں نے اس رواروی میں مڈل ایسٹ کی امن و سلامتی کو شاید ہنوز سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ انہوں نے حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی کا جو اتنا بڑا کریڈٹ وصول کیاہے، حلف اٹھاتے ہی یہ کہتے ہوئے اس کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے کہ وہ پر اعتماد نہیں ہیں کہ یہ جنگ بندی جاری بھی رہے گی۔ یہ ہماری جنگ نہیں ہے ان کی جنگ ہے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان کا یہ معاہدہ برقرار بھی رہے گا۔

یہ امن ڈیل جو پہلے ہی تھری فیزز میں ہے اور ہر دو فریقین پر پورے پریشر سے کروائی گئی ہے، اگر امریکی پریشر ہٹ گیا تو کیا یہ خدشہ پیدا نہیں ہوجائے گا کہ جب اسرائیل اپنے یرغمالیوں کو رہا کروا لے گا تو اس کے بعد حماس کی کسی بھی شرارت پر اسرائیلی فورسز بفر ایریا سے دوبارہ غزہ میں داخل نہیں ہو جائیں گی؟
تیسرے انہوں نے کھلے لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ امریکا میں صرف مرد اور عورت دوجینڈربستے ہیں، تیسری کوئی جنس نہیں۔ کیا یہ یو این کے علاوہ مسلمہ انسانی حقوق اور فی الواقع موجود زمینی حقائق کا منہ چڑانے والی بات نہیں ہے؟ ٹرانس جینڈر کے مسائل اور دکھوں پر یونائٹڈ نیشن کے تحت پوری دنیا میں شعوری بیداری کے ساتھ کمزور اور مظلوم طبقات کے لیے جو آوازیں اٹھی ہیں کیا صدر ٹرمپ ریاستی جبر سے ان کا گلا گھونٹ دینا چاہتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ ان کی مد مقابل ڈیموکریٹس اور کملا ہیرس نے اس سلسلے میں آواز اٹھائی تھی۔ یا امریکی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں وہ اس کا رد کرنا چاہتے ہیں جس کے متعلق وہ کہہ رہے ہیں کہ بنیاد پرست بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے دولت چھین لی ہے۔ کرپشن پھیلا دی ہے اور یہ کہ ہمارا تعلیمی نظام ملک سے نفرت کرنا سکھا رہا ہے۔

اتنی اصول پسندی ہے تو پھر وہ تھوک کے حساب سے اپنے مجرمین میں معافیوں کی ریوڑیاں کیوں بانٹ رہے ہیں؟ اگر صدر جوبائیڈن نے اپنوں کو معافیاں دی تھیں جن پر انہوں نے تنقید بھی کی تھی تو وہ خود اس سے کہیں بڑھ کر اور زیادہ بڑے پیمانے پر وہی نوازشات کیوں کر رہے ہیں؟ حتیٰ کہ کیپیٹل ہل پر حملہ آور ہونے والوں کے گناہوں کو دھونے کی لانڈری لگا دی ہے۔ وہ اپنے اتحادیوں پر بندشیں لگانا چاہتے ہیں جبکہ ٹک ٹاک سروس بحال کرنے کا فوری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا رکھ دیا گیا ہے اور پاناما کینال جسے 1977 میں صدر جمی کارٹر نے پاناما کے حوالے کیا تھا، اسے دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کے اعلانات کر رہے ہیں۔

برکس بلاک سے غصے میں وہ اس قدر باولے ہوئے جا رہے ہیں کہ سپین کو بھی اس میں شامل سمجھ کر دھمکی دے ڈالی انہیں کھٹکا ہے کہ کہیں برکس امریکن ڈالر کے بالمقابل کھڑی نہ ہوجائے۔ حالانکہ اس میں بشمول بھارت، برازیل اور سعودی عرب، امریکا کے قریب ترین اتحادی بھی شامل ہیں۔ لیکن وہ آؤ دیکھے نہ تاؤ ان سب پر ہنڈرڈ پرسنٹ ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس سے اور تو اور خود بھارت میں بھی ایک نوع کی پریشانی یا کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ عین ممکن ہے ٹرمپ اپنے اتحادی ممالک پر ٹھنڈی اور گرم پھونکیں مارتے ہوئے یہ دباؤ ڈالیں کہ تم برکس بلاک سے باہر آجاؤ۔

دوسری جانب طالبان جن کے ساتھ وہ دوحا مذاکرات کے ذریعے باضابطہ معاہدہ کر کے گئے تھے اور نتیجتاً اشرف غنی حکومت گر پڑی تھی، اب آتے ہی انہوں نے انہی طالبانوں سے یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ جیٹ جہازوں سمیت ہمارا چھوڑا ہوا بھاری جدید اسلحہ جس کی مالیت کوئی سات ارب ڈالر بنتی ہے، ہمیں واپس کرو۔ جبکہ طالبان ہاتھ آیا اتنا بھاری مال غنیمت کسی صورت امریکا کو واپس کرنا نہیں چاہیں گے۔ چاہے انسانی حقوق، ویمن رائٹس یا اکنامک ایڈ کے نام پر دی گئی ساری گرانٹس بند ہو جائیں۔ انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ہمارا مقابلہ داعش سے ہے جس کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے ہمیں ان ہتھیاروں کی ضرورت ہے بلکہ مزید اسلحہ دیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ بنیادی طور پر کاروباری شخصیت ہیں اور انہوں نے اپنی تقریب میں بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان کو مدعو کیا۔ اس لیے گمان یہی ہے کہ وہ بحیثیت صدر امریکی حکمرانی بھی اسی اسلوب میں منفعت بخش چلائیں گے۔ انہوں نے اپنی عمر 78 برسوں کی مناسبت سے روز اول جو 78 ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے ہیں، اپنے اولین خطاب کی طرح ان میں بھی یہی ترجیح جھلکتی ہے کہ وہ اپنی فرسٹ امریکا پالیسی کے تحت ہر ایشو پر امریکی مفاد کو مقدم رکھیں گے۔ ٹیرف اور معاشی بندشوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں گے۔ اگرچہ اس کا منفی رد عمل بھی برآمد ہوگا۔ جب دوسرے بھی آپ کے ساتھ اسی زبان میں بات کریں گے۔ آج اگر امریکہ عظیم ہے تو اس وجہ سے ہے کہ وہ یونیورسل ہیومن رائٹس کا علمبردار بن کر کمزور اقوام و طبقات کا سہارا بنتا ہے۔ اگر امریکی صدر نے اپنے ہی پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور اپنے قریب ترین اتحادیوں کو دور کرنا شروع کر دیا تو پھر یہی چیز الٹی امریکی عظمت کو گہنا دے گی۔

دنیا ان سے مثبت طور پر یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ اپنے نعرے “جنگوں کے خاتمے” پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نہ صرف رشیا یوکرین جنگ کا خاتمہ کریں بلکہ کسی بھی ملک کے خلاف کوئی بھی نئی جنگ چھیڑنے سے گریز کریں گے۔ دنیا میں آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کا چیمپین بن کر امریکی آئین کی مطابقت میں اپنا عالمی ایجنڈا آگے بڑھائیں گے۔