کیا اخلاق سے بات کرنے کا بل آتا ہے؟
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 24 / جنوری / 2025
میں اور کالم نگار اظہر سلیم مجوکہ ایک کام کے سلسلے میں سٹی پولیس افسر ملتان دفتر پہنچے تو مرکزی گیٹ پر تعینات پولیس والوں کی تفتیش، بدتمیزی اور اکھڑ پن سے واسطہ پڑا۔ ہم حیران ہوئے کہ اگر ہم جیسے ”بزرگوں“ اور پڑھے لکھوں کے ساتھ ان کا یہ سلوک ہے تو بے چارے عام سائل، دادرسی کے لئے اس کمپلیکس میں کیسے داخل ہوتے ہوں گے۔
ایسے میں تو بادشاہِ عالم سی پی او صاحب خود ہی کسی کو دیدار کرائیں تو کرائیں۔ خلقِ خدا تو زنجیر عدل ہی ہلاتی رہ جائے گی۔ خیر جیسے تیسے کرکے اندر داخل ہوئے اور متعلقہ برانچ کے افسر تک پہنچے تو دیکھا کہ وہ دو اہلکاروں کی سرزنش کررہے ہیں۔ وہ ایک جملہ بار بار دہرا رہے تھے: ’کیا اخلاق سے بات کرنے کا بل آتا ہے؟‘ عقدہ یہ کھلا کہ ان ایس پی صاحب کے پاس دو سائل آئے بیٹھے تھے۔ انہوں نے اس سلوک کی شکایت کی تھی جس سے ہم گزر کر آئے تھے اور انہوں نے شکایت افسر تک پہنچا بھی دی تھی جبکہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ایس پی انہیں سمجھا رہے تھے۔ سیکیورٹی کے تقاضے ضرور پورے کریں مگر توہین آمیز سلوک تو نہ کریں۔ کیا تم نرم لہجے میں لوگوں سے بات نہیں کر سکتے۔ بدتمیزی سے بات کرکے کیا تمہاری عزت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے دونوں اہلکاروں کو سمجھانے کے بعد وارننگ بھی دی کہ آئندہ ان کی ایسی شکایت آئی تو کڑی سزا دی جائے گی۔
میں اور اظہر سلیم مجوکہ ایک دوسرے کی طرف مسکرا کے دیکھنے لگے۔ ہمیں یاد آیا کہ دو ہفتے پہلے ہم ایک ٹریفک سیمینار کے سلسلے میں سی پی او آفس آئے تھے تو اس وقت بھی ہمیں اس قسم کی صورتحال سے گزرنا پڑا تھا۔ گویا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ پولیس والوں کی گویا عادت یا تربیت کا حصہ ہے کہ عوام کو عزت نہیں دینی،ان سے نرم لہجے میں بات نہیں کرنی۔ ابھی کل ہی مجھے اسلامیات کے ریٹائرڈ پروفیسر ملک محمد اسلم نے بتایا وہ امپیریل سنیما چوک کینٹ کے قریب واقع ایک بینک میں گئے۔ گاڑی پارکنگ والی جگہ پر کھڑی کی،واپس آئے تو لفٹر والے کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا چالان ہو گا،پروفیسر اسلم ملک نے کہا گاڑی تو سڑک سے ہٹ کر پارکنگ والی جگہ پر کھڑی ہے۔ اس پر لفٹر کے ایک بدتمیز اہلکار نے کہا نظر نہیں آ رہا، گاڑی کا ایک ٹائر لائن کے اوپر ہے اس لئے چالان تو ہوگا۔ لاکھ سمجھانے کے باوجود انہوں نے پروفیسر ملک محمد اسلم کو دو ہزار روپے کی چالان چٹ تھما دی۔ ملک اسلم ان سے بیٹا بیٹا کہہ کر بات کرتے رہے مگر آگے سے لہجہ درشت ہی رہا۔
ملتان کامعاملہ بھی عجیب ہے۔ یہاں افسروں نے کرائے پر اپنے لفٹرز کھڑے کر دیئے ہیں۔ علاقے بانٹ لئے ہیں، جعلی رسید بکیں چھپوائی گئی ہیں۔رقم پنجاب حکومت کو جانے کی بجائے افسروں کی جیبوں میں جاتی ہے۔ روزانہ دو تین لاکھ روپیہ شہریوں سے ان لفٹروں کے ذریعے ہتھیایا جا رہا ہے۔ ایک زمانے میں صرف ٹریفک پولیس کے لفٹرز ہوتے تھے، اب ضلعی اور ڈویژنل افسروں نے بھی اپنے لفٹرز چلا دیئے ہیں۔ کوئی سوال کرے تو بدتمیزی سے گاڑی بند کرنے کی دھمکی پھر بھی بات نہ بنے تو پرچہ درج کرکے اندر کرنے کی وارننگ بھی دی جاتی ہے۔ پروفیسر ملک محمد اسلم مجھے کہہ رہے تھے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو بتائیں ملتان میں شہریوں کے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ میں نے کہا ملک صاحب جانے دیں وزیراعلیٰ کو اور بڑے کام ہیں۔
شہبازشریف جب وزیراعلیٰ تھے تو انہیں خیال آیا سکولوں میں بچوں کو مارپیٹ سے پڑھانے کی روایت ختم ہونی چاہیے جس کے بعد یہ سلوگن دیا گیا، ’مار نہیں پیار‘ اس کے تعلیم اور بچوں کی تربیت پر کیا اثرات ہوئے اس پر تو کبھی تحقیق نہیں کی گئی۔ تاہم یہ وہ طریقہ ہے جو دنیا بھر کے مہذب ممالک میں رائج ہے۔ سکولوں میں تو اس پر عملدرآمد ہو گیا مگر کسی حکومت نے آج تک اس بارے میں نہیں سوچا کہ سرکاری اہلکاروں کی ایسی تربیت کیسے کی جائے کہ وہ لوگوں کے ساتھ تحکمانہ اور توہین آمیز اندازِ تکلم اختیار نہ کریں۔
میں خود ایسے کئی واقعات کا گواہ ہوں کہ کسی دفتر میں ایک بوڑھی مائی یا کوئی غریب سائل سرکاری کارندے سے ہمکلام ہونے کی کوشش کررہا ہے مگر وہ یا تو موقع نہیں دے رہا یا پھر اسے جھڑک کر صبر کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے سبھی کارندے کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے۔ اسی پاکستان کی پیداوار ہیں۔ جب تک ملازمت نہیں ملتی بندے کے پتر بنے رہتے ہیں۔ مگر جونہی کوئی چھوٹی موٹی سرکاری نوکری کا ٹھپہ بھی لگ جاتا ہے تو انتقام پر اتر آتے ہیں۔ جن کی خاندانی تربیت اچھی ہوتی ہے وہ ایسا نہیں کرتے۔ان کے اندر احترام اور عاجزی کی رمق موجود ہوتی ہے مگر زیادہ تر ایسے کارندے ہی ملیں گے جو ناک بھوں چڑھا کر بیٹھے ہوں گے اور کسی بات کا ایسے جواب دیں گے جیسے احسان کررہے ہوں۔
ایک بار مجھے سرکاری ملازمین کی ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان سے پوچھا وہ کام کے لئے آنے والوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں رکھتے ہیں جس سے تکبرجھلک رہا ہوتا ہے۔ کئی ایک نے کہا ہم ایسا نہیں کرتے، جبکہ کچھ کا خیال تھا ایسا نہ کیا جائے تو لوگ عزت نہیں کرتے۔ میں نے کہا عزت کا یہ کون سا معیار یا طریقہ ہے، عزت تو دل جیتنے سے ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان میں عزت صرف اختیار والے کی،کی جاتی ہے،چاہے وہ بڑے اختیار والا ہو یا کسی دفتر کا کلرک۔ جو ریٹائر ہو جاتے ہیں لوگ انہیں منہ نہیں لگاتے حالانکہ ان کی ملازمت کے دنوں میں انہیں صبح و شام سلام کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خوش اخلاقی سے پیش آنے والے کو اوپر کی آمدنی سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔ کوئی اسے مٹھائی کے نام پر پیسے نہیں دیتا۔ ایک کرخت، بدتمیز، اکھڑ اور بداخلاق سرکاری اہلکار ایک ہوا بن جاتا ہے جس تک پہنچنے کے لئے لوگ سفارشیں ڈھونڈتے ہیں۔ مگر کیا یہ کوئی اچھا راستہ ہے، لوگوں کی بددعائیں لے کر جینا بھی کوئی جینا ہے؟
بات ان ایس پی صاحب کی بہت شاندار ہے جنہوں نے پولیس ماتحتوں کو کہا تھا، اخلاق سے بات کرنے کا کیابل آتا ہے؟اچھا ڈاکٹر اسے سمجھا جاتا ہے جو مریض کی بات توجہ اور عمل سے سنتا ہے مریض کی آدھی بیماری ڈاکٹر کے اس رویے سے دور ہو جاتی ہے ۔اسی طرح کا رویہ اگر سرکاری دفاتر کے افسرو اہلکار بھی عوام کے ساتھ اختیار کریں تو عوام کی آدھی پریشانیاں دور ہو سکتی ہیں۔ آج کل کیا ہمیشہ ہی سے ہمارے لوگ اس نظام اور اس کے کارندوں کے حوالے سے پریشان رہتے ہیں۔ چھوٹے سے کام کے لئے بھی لوگ سفارش ڈھونڈتے پھرتے ہیں کیونکہ انہیں نظام اور اس کے ماحول پر یقین نہیں ہے۔
کل میرا ایک الیکڑیشن دوست طارق پریشانی کے عالم میں آیا۔ اس نے کہا بیٹے کا بخار نہیں اتر رہا، چلڈرن ہسپتال میں چیک کرانا ہے کوئی جاننے والا ڈاکٹر ہے۔ میں نے کہا تم چلے جاؤ وہاں ایک نظام موجود ہے، او پی ڈی میں سب کچھ ہو جائے گا۔ کہنے لگا وہاں کون سنتا ہے، صرف دھکے ہی ملتے ہیں۔ حالانکہ میرے ذاتی علم میں ہے وہاں بہتر انتظامات موجود ہیں۔ خیر میں نے اس کی تسلی کے لئے ایک ڈاکٹر صاحب کو فون کیا اور اسے وہاں بھیج دیا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)