غزہ سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن بھیجنے کا منصوبہ حماس نے مسترد کیا

  • اتوار 26 / جنوری / 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز غزہ کو ’پاک کرنے‘ کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مصر اور اردن سمیت عرب ممالک مزید فلسطینیوں کو پناہ دیں تاکہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن قائم کیا جاسکے۔

ٹرمپ نے غزہ کو ’تباہ شدہ علاقے‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم پورے خطے کو صاف کرنے کے لیے 15 لاکھ افراد کی بات کر رہے ہیں۔ یہ قدم عارضی یا طویل مدتی ہو سکتا ہے۔‘

حماس کے شعبہ خارجہ تعلقات کے سربراہ باسم نعیم نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام نے صرف اپنی سرزمین کے لیے 15 ماہ تک موت اور تباہی برداشت کی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعمیر نو کی آڑ میں ایسی کسی تجویز کو منظور نہیں کریں گے۔ ’ہمارے لوگ غزہ کی پہلے سے بہتر تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیہ کہ اس علاقے کا محاصرہ ختم کر دیا جائے۔‘

فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ایک بیان میں مصر اور اردن سمیت تمام ملکوں سے ’ٹرمپ کے منصوبے‘ کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ثابت قدمی اور مزاحمت کے ساتھ یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس سے پہلے کے کئی منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے حق اور وجود کے منافی ہے جبکہ اس سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا تسلسل قائم ہوگا‘۔

دریں اثنا ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے امریکہ سے جو ’بڑی تعداد میں اشیا‘ کی درخواست کی تھی وہ فی الحال فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا ان کی حکومت اسرائیل کے لیے 907 کلو گرام وزنی بموں کی کھیپ جاری کرے گی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ’اسرائیل نے بہت سی چیزوں کی درخواست کی اور ان کے لیے ادائیگی کی۔ لیکن سابق صدر جو بائیڈن نے انہیں نہیں بھیجا۔ اب ان اشیا کی ترسیل کی جا رہی ہے۔‘

گزشتہ سال سابق ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل کو ان بموں کی فراہمی ایک ایسے وقت میں معطل کر دی تھی جب اسرائیلی فوج جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر بڑے پیمانے پر حملے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بمباری اور جنگ کی وجہ سے 14 لاکھ فلسطینیوں نے پناہ لی تھی۔ بائیڈن نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے علاقوں میں اس قسم کے بم کا استعمال ایک ’بڑے انسانی المیے‘ کا سبب بنے گا۔

ایگزیوس پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسرائیلی قومی سلامتی کے صحافی بارک راویڈ نے لکھا کہ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کو 2000 پاؤنڈ وزنی بم اسرائیل بھیجنے پر عائد پابندی ہٹانے کا حکم دیا۔ اس قسم کے بڑے، فضا سے گرائے جانے والے بم انتہائی تباہ کن ہوتے ہیں اور عام طور پر انہیں فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور انفراسٹرکچر جیسے اہداف کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔