مسلمانوں کا علم کے ساتھ ’بغض‘

مسلمانوں کے بہت سے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں یہ مغالطہ ہو گیا ہے کہ مسلمانوں سے پہلےکسی کے ہاں نہ اخلاق تھا، نہ قانون۔ نہ علم تھا، نہ سائنس، نہ ریاست چلانے کے اصول تھے، نہ طب، نہ علم فلکیات۔

 یہ ایک غلط فہمی بھی ہے اور اس میں سے تکبر کی بو بھی آتی ہے۔ لیکن اصل بدقسمتی یہ ہے کہ یہ تصور کہ ہم سے پہلے کچھ نہ تھا، عین جہالت ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ تکبر اتنی بڑی حماقت نہیں جتنی جہالت۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ تاریخِ انسانی میں قدیم مصریوں کے ہاں سائنسی علوم تھے۔ ہمو ربی نے آج سے چار ہزار سال پہلے تحریری قانون بنایا۔ قدیم ہندو ریاضی اور فلکیات کے ماہر تھے۔ ہم سے پہلے رومیوں اور یونانیوں نے ریاست بھی بنائی، اس کے قوانین بھی بنائے، جمہوریت کا خاکہ بھی بنایا اور اس کا عملی نفاذ بھی کیا۔ اخلاقیات پر جو کام یونانی فلسفیوں نے کہا، اس کے لئے انسانیت ہمیشہ ان کی شکر گزار رہے گی۔

اب اسے جہل کہیے یا تکبر، عام آدمی کا تو ذکر ہی کیا، وہ جو اپنے آپ کو اہلِ علم گردانتے ہیں اور جن کے نام سے پہلے اور بعد بڑے بڑے القابات لگے ہوتے ہیں، وہ بھی یونانیوں کے علم کا نہ صرف اعتراف نہیں کرتے، بلکہ انتہائی ڈھٹائی سے یہ حقیقیت چھپاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاں یونانی علم سے استفادہ کیا گیا۔ اور مسلمانوں کے روشن دور میں  یونانی علوم سے استفادہ کرتے ہوئے علم کی شمع کو اگلی نسلوں پہنچایا گیا۔  ایسے حقائق کو آج کے طلبا و طالبات اور مستقبل کے معماروں سے چھپانا انتہائی درجہ کی علمی بددیانتی ہے۔

حال یہ ہے کہ ایک  دو روز قبل ایک بڑے جید عالم فرما رہے تھے کہ اسلام سے پہلے بھی (بعد کی بات تو چھوڑیں) جہاں جہاں اخلاق اور قانون تھا، وہ اسلام ہی کی روشنی میں تھا۔ یہ منطق ہم ایسے طلبا کی سمجھ سے تو بالاتر ہے۔ اور یہ تو ہم روزانہ سنتے ہیں کہ موجودہ طب، دیگر سائنسی علوم اور قانون اور اخلاق ہمارے ہی اسلاف نے دریافت، ایجاد اور مدون کیے۔ مغرب نے تو بس سرقہ کیا ہے اور مکھی پر مکھی مار رہا ہے۔ ہم نہ ہوتے تو مغرب اب بھی جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوتا۔ ہمیں اس خیال سے بہت فرحت محسوس ہوتی ہے۔

اس انکار اور استرداد کے جملہ نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ ہم انسانی تاریخ کے ارتقائی سفر میں اپنا مقام نہیں طے کر پا رہے۔ ہم اس معمار کی مانند ہیں جو دیوار کی اینٹیں لگاتے ہوئے اُن بنیادوں کی مادی حقیقی کا ادراک اور اقرار ہی نہ کرے جو اس سے پیشتر لوگوں  نے استوار کی ہوں اور جن کی عدم موجودگی میں دیوار کی مزید تعمیر ممکن ہی نہ ہو ۔ علم ایک درخت کی مانند ہے، جس کی جڑیں ماضی کی تہذیبوں میں پیوست ہیں۔ ہر شاخ، ہر پتہ اپنے سے پہلے کی کاوشوں کا مرہون منت ہے۔ انسانی تاریخ میں علم کے ارتقا کا سفر ہمیشہ ایک نسل سے دوسری نسل اور ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک منتقل ہوتا رہا ہے۔

بابلی تہذیب میں ہموربی نے اپنے قوانین کے ذریعے عدل و انصاف کی بنیاد رکھی جو تہذیب کی اولین قانونی دستاویزات میں سے ایک ہے۔ ساسانیوں نے اس قانونی اور علمی ورثے کو مزید وسعت دی۔ ایرانی تہذیب میں شاعری اور فلسفے کو فروغ حاصل ہوا جو بعد میں اسلامی دور میں عربوں کی علمی ترقی کا حصہ بن گئی۔ یونانیوں نے فلسفے، سائنس اور ریاضی میں غیرمعمولی ترقی کی۔ سقراط، افلاطون، ارسطو اور سیسرو جیسے مفکرین اور مکلمین  نے علوم فلسفہ اور علم کلام کی بنیادیں رکھیں۔ رومیوں کے دور میں یونانی علوم کا ترجمہ اور فروغ جاری رہا۔

جب اسلامی تہذیب کا عروج ہوا تو عربوں نے یونانی اور رومی علوم کا ترجمہ کیا اور ان میں نئے اضافے کیے۔ بغداد کا بیت الحکمت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ عرب علما نے علم کو صرف محفوظ ہی نہیں کیا بلکہ ان سے استفادہ کرتے ہوئے ریاضی، فلکیات، طب، اور فلسفے کے میدان میں انقلابی اضافے کیے۔ یہ تمام تہذیبیں اس درخت کی مختلف شاخیں ہیں، جو ایک ہی جڑ یعنی علم کی طلب سے جُڑی ہوئی ہیں۔ علم کی یہ منتقلی انسانی تہذیب کی ترقی کی ضامن رہی ہے۔  آج بھی ہمارا حال ماضی کی ان شاندار کاوشوں کا مرہون منت ہے۔ اس میں اگر کوئی بھی تہذیب اپنے سے پہلے آنے والے لوگوں کی خدمات کا انکار کرتی ہے تو وہ سوائے اپنی کم علمی کے اعلان کے اور کچھ نہیں کرتی۔

اس انکار اور طرزِ فکر کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ تاریخِ انسانی کے اس مقام پر کھڑے مسلمان، دورِ حاضر میں علوم کی ترویج اور نشو نما کرنے والوں کے بازار کی جانب پشت کر کے کھڑے ہیں۔ ایسا نہیں کہ مسلمان نوجوان مغربی ٹیکنالوجی، علومِ سیاست، معیشت، قانون یا طب سے استفادہ حاصل نہیں کر رہے۔ لیکن اجتماعی طور پر مسلمان دورِ حاضر کے علمی چشمہ کے منکر ہیں۔ انفرادی طور پر بھی جو نوجوان مغرب میں علوم کا مطالعہ کر رہے ہیں، ان سے بھی بات کریں تو وہ ذہنی طور پر ابھی بھی بغداد اور مراکش کے اسلامی علمی دور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور کشادہ دلی سے مغرب کے علمی اضافات سے استفادہ نہیں کرتے۔  اگر آپ کسی فرد یا کسی شے کی اہمیت کا انکار دیں، تو آپ اس فرد کی معیت یا اس شے کے حصول کے لیے دل لگا کر تگ و دو نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں علم کی شدید کمی ہے۔

آج بھی ہم قریباً اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہندی مسلمان انیسویں صدی میں کھڑا تھا۔ اس وقت عالم یہ تھا کہ ہمارے اسلاف نے انگریزی زبان، علم و ادب، قانون اور عسکری حکمت عملی سیکھنے سے سرے سے انکار کیا۔ سید احمد خان جیسے لوگوں کو غدار کہا گیا جنہوں نے قوم کو رائج الوقت علوم حاصل کرنے کی ترغیب دلائی۔ وقت نے ثابت کیا کہ ہمارے اسلاف کا یہ رویہ حکمت کے خلاف تھا۔ جب جناح جیسے لوگوں نے رائج الوقت تہذیب کو سمجھا اور علمی سکہ جمایا، تب ہی وہ وقت کے حاکموں کے ساتھ انہی کی زبان میں انہی کے میدان میں بات کرپائے۔

وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ماضی اور دیگر اقوام کے  تجربات سے استفادہ کریں اور وقت کے دھارے میں اپنے مقام کا درست تعین کریں۔ وہ قومیں جو اپنے ماضی میں جیتی ہیں، ان کا مزاج افسردہ، اس کی اقتصادی، علمی اور نفسیاتی صحت کمزور، ان کا لہجہ تُند اور نتیجتاً دنیا میں ان کی ساکھ مجروح ہو جاتی ہے۔

آخر میں یہ نوٹ بھی اپنی جگہ موزوں ہے کہ مغرب بھی پچھلے سو سال سے انتہائی بددیانتی اور ڈھٹائی کے ساتھ مسلمان مفکروں، موجدوں اور سائنسدانوں کے لازوال اور ناگزیر کاوشوں کا منکر ہے۔ یہ بھی علمی اور اخلاقی بد دیانتی ہے۔ لیکن فرق صرف یہ ہے کہ چونکہ وہ اس وقت علمی اور سائنسی دکانداری کے مالک ہیں، وہ اس بددیانتی کے متحمل ہوسکتے ہیں جبکہ ہم اس عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

(اختر چوہدری ناروے کی پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکر ہیں۔ اس وقت وہ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں اور اپنے مقالے پر کام کررہے ہیں)