ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس، ججز کمیٹیوں کے خلاف کارروائی کی رائے
سپریم کورٹ نے بینچوں کی تشکیل کے معاملے میں ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ عدالت میں بینچوں کی تشکیل کے حوالے سے تنازع اس وقت سامنے آیا جب ٹیکس قوانین سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کسٹم حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جسے 13 جنوری کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی کی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عرفان سعادت شامل تھے۔
تاہم ابتدائی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے اس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ یہ معامہ آئینی بینچ سنے گا یا دوسرا بینچ جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔ لیکن 20 جنوری کے نوٹیفیکیشن کے تحت یہ اپیل جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ سے ڈی لسٹ کر دی گئی اور اسے آئینی بینچ کو بھجوا دیا گیا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ کیسے اپیل کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا اور کیسے یہ اپیل آئینی بینچ کو بھیج دی گئی۔
عدالت نے اس ضمن میں ایڈیشنل رجسڑار کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کے اختیار کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کیلئے درخواست چیف جسٹس کو بھیج دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ انتظامی سطح پر جوڈیشل احکامات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں توہین عدالت کی کارروائی ججز کمیٹی کے خلاف بنتی ہے۔ تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کمیٹیوں کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جا رہی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ججز کمیٹیوں کے پاس اختیار نہیں کہ زیر سماعت مقدمہ بینچ سے واپس لے سکے۔