فیک نیوز

کیا فیک نیوز ایک بہت بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے؟ جی ہاں! فیک نیوز ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ پولیو ویکسین کے بارے میں پاکستان کے بہت سے لوگ ابھی تک اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ ویکسین مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کیلئے ایک مغربی سازش ہے اور جن بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں وہ بانجھ پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس غلط فہمی کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں ابھی تک پولیو جیسی خطرناک بیماری کا خاتمہ نہیں ہوسکا اور آج بھی کچھ علاقوں میں پولیو ورکرز پر حملے کئے جاتے ہیں۔ کیا پولیو ویکسین کے بارے میں فیک نیوز پھیلانے کا ذمہ دار کوئی اخبار یا ٹی وی چینل ہے؟ بالکل نہیں۔ پولیو کے خلاف مہم کو زیادہ نقصان ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے بعد پہنچا جب پتہ چلا کہ ایک امریکی خفیہ ادارے نے مارچ 2011  میں ایبٹ آباد کی بلال کالونی میں القاعدہ کے سربراہ اسا مہ بن لادن کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کیلئے ہیپاٹائٹس بی کی جعلی ویکسین مہم چلائی۔ جعلی ویکسین مہم چلانے کے الزام میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 2012 میں 33سال قید کی سزا دی گئی لیکن الزام یہ لگایا کہ شکیل آفریدی کا ایک عسکریت پسند منگل باغ کے ساتھ تعلق تھا۔ جب شکیل آفریدی نے اس الزام کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا تو پھر 2013 میں اس پر قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ آٹھ سال پہلے اس کے غلط علاج کے باعث اس کا ایک مریض جاں بحق ہوگیا تھا۔

یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ پہلے ایک امریکی خفیہ ادارے نے ایبٹ آباد میں ویکسین مہم کے نام پر فیک نیوز پھیلائی۔ بعد ازاں ریاست پاکستان نے شکیل آفریدی کو جیل میں رکھنے کیلئے فیک نیوز کا استعمال کیا۔ دو ریاستوں کی طرف سے پھیلائی گئی فیک نیوز کا نشانہ پولیو کے خلاف مہم بنی اور بدقسمتی سے آج بھی پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ایک چیلنج ہے۔ فیک نیوز یا ڈس انفارمیشن کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2021 میں قرارداد نمبر 76/227 منظور کی تھی اور 2022 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ ڈس انفارمیشن انسانی حقوق کیلئے ایک خطرہ بن چکی ہے لیکن ڈس انفارمیشن کے خلاف کارروائی کے نام پر میڈیاکی آزادی کو سلب نہیں کرنا چاہئے۔

بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں کے جمہوری نظام پر ’’فیک‘‘ کا لیبل چسپاں ہے۔ دی اکانومسٹ کے ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق 2023 تک پاکستان کا شمار ہائی برڈ رجیم میں ہوتا تھا لیکن 2024 میں ہائی برڈ کا تکلف ختم کرکے پاکستان کو ایک آمرانہ رجیم ڈکلیئر کردیا گیا۔ جس ریاست کوبین الاقوامی ادارے ایک جمہوریت تسلیم نہیں کرتے، وہ ریاست جب اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے تو یہ بھی فیک نیوز پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 منظور کیا ہے جس کا مقصد فیک نیوز کا خاتمہ قرار دیا گیاہے۔ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنےکیلئے ایک اتھارٹی قائم کرے گی اور یہ اتھارٹی فیک نیوز کا سدباب کرے گی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اتھارٹی ویسے ہی کام کرے گی جیسے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کام کرتی ہے۔ کہنے کو پیمرا ایک خود مختار ادارہ ہے لیکن خود پیمرا والے ہمیں بتاتے ہیں کہ انہیں کہاں سے احکامات ملتے ہیں۔ اس نئے قانون کی منظوری کے بعد ہمارے خفیہ ادارے فیک نیوز کے نام پر اپنے ناپسندیدہ صحافیوں اور سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ میں زیادہ آسانی محسوس کریں گے۔ دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ مذکورہ قانون 1973 کے آئین سےمتصادم ہے لیکن آئین کی خالق جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس خلاف قانون کے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کی کچھ دیگر جماعتوں نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کی مخالفت کی لیکن ہم کیسے بھول جائیں کہ یہ ایکٹ دراصل اسی صدارتی آرڈی ننس کا چربہ ہے جسے 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت نے نافد کیا تھا اور ہم نے پیکا ترمیمی آرڈی ننس 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ 2022 میں ہم  نے پیکا ترمیمی آرڈی ننس کو عدالت میں چیلنج کیا تو ریلیف بھی مل گیا تھا لیکن 2025 میں عدالت سے ریلیف ملنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ پچھلے تین سال میں ہماری امید مسلسل زوال کا شکار ر ہی۔

سوال یہ ہے کہ جب فیک نیوز واقعی ایک خطرہ ہے تو پھر اس خطرے کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟ سب سے پہلے تو ریاستی ادارے خود فیک نیوز پھیلانا بند کریں۔ 2016 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پیکا ایکٹ کےتحت فیک نیوز کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا لیکن چند مہینوں کے اندر اندر کچھ خفیہ اداروں نے ایف آئی اے کے ذریعہ پیکا ایکٹ کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شروع کردیا۔ پھر تحریک انصاف کی حکومت نے بھی یہی کچھ کیا اور اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی یہی کچھ کر رہی ہے۔ ابھی کل ہی مجھے عمران خان کی کابینہ کے دو ارکان نے بتایا کہ 2022 میں اس وقت کے وزیر قانون فروغ نسیم پیکا ایکٹ میں ترمیم کا بل لے کر کابینہ میں آئے تو کئی وزیروں نے اس کی مخالفت کی۔ اس وقت تو اس بل کی منظوری کا فیصلہ ملتوی ہوگیا لیکن چند دن بعد اس بل کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کردیا گیا کیونکہ اس کے پیچھے جنرل باجوہ اور فیض تھے۔ اب جنرل فیض گرفتار ہو چکے ہیں لیکن جنرل فیض کی سوچ کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک نئے ولولے کے ساتھ پروان چڑھا رہی ہے۔

نئے قانون کا مقصدسوشل میڈیا پر کچھ حکومتی شخصیات اور ایک ریاستی ادارے پر تنقید کو روکنا ہے۔ آئین کی دفعہ 25 کے تحت تمام پاکستانی شہری برابر ہیں لیکن ہماری پارلیمنٹ کی قانون سازی کا مقصد صرف حکمران اشرافیہ کا تحفظ کیوں ہے؟ کچھ ریاستی اداروں کے پروردہ نام نہاد سیاستدان یا سائبرکمانڈوز میرے خلاف فیک نیوز پھیلائیں تو انہی قوانین کے تحت مجھے تحفظ کیوں نہیں ملتا؟ میں نے اپنی مثال اس لئے دی کہ عمران خان کے دور حکومت اور شہباز شریف کے موجودہ دور حکومت میں جب بھی میں نے فیک نیوز کے خلاف کارروائی کیلئے ایف آئی اے سے رابطہ کیا تو کچھ بھی نہ ہوا۔

سب جانتےہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور عدلیہ آزاد نہیں لہٰذا میڈیا آزاد کیسے ہو سکتا ہے؟ میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے پہلے ہی کئی قوانین موجود ہیں اب مزید قوانین بنائے جا رہے ہیں جو آئین سےبھی متصادم ہیں اور عالمی قوانین سے بھی متصادم ہیں اور اس کا خمیازہ پوری ریاست کوبھگتنا پڑے گا۔ اب پاکستان میں 8 فروری کے الیکشن پر سوال اٹھانا فیک نیوز کہلائے گا۔ صدر، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور کچھ اداروں سے وابستہ اہم شخصیات پرتنقید فیک نیوز کہلائے گی اور فیک نیوز کے خلاف کارروائی کے نام پر حکومت کے ناقدین کو جیلوں میں ڈالا جائے گا۔ ڈنڈے اور بندوق کے ذریعے احترام حاصل کرنے کی کوشش کی جائےگی۔

فیک نیوز کے نام پر بنایا جانے والا نیا قانون اس ریاست کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے، جہاں یہ قانون نافذ ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوچکا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)