حکومت سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ ہے
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 27 / جنوری / 2025
سیاحت دنیا کی ایک بڑی صنعت کا روپ دھار چکی ہے اور کئی ممالک کی آمدنی کا بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی معیشت میں سیاحت کا حصہ 11 ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد ہے جو اگلے 10 برس میں بڑھ کر 16 ٹریلین ڈالر ہو جائے گا۔
امریکہ، جرمنی اور چین سیاحت کی آمدن میں سرفہرست ہیں جبکہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر اسلامی ملک ترکیہ آتا ہے جس میں سالانہ 5 ملین لوگ آتے ہیں جن میں 35 ملین کے قریب لوگ سیر، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے آتے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اگر ایک سیاح صرف 500 ڈالر خرچ کرے تو 25 ارب ڈالر بنتا ہے. سیاحت کی صنعت میں پاکستان کا نام بہت نیچے ہے۔ سیاحت کے لیے بڑے 89 ممالک میں پاکستان کا نمبر 83 ہے لیکن اگر سیاحوں کی دلچسپی اور ان کی سرگرمیوں کا اندازہ لگائیں تو پاکستان پہلے 10 ممالک میں شامل کیا جا سکتا ہے جس میں سیاحوں کی دلچسپی کا سامان اور سرگرمیاں ہیں۔ پاکستان میں قدیم ثقافت، قدرتی حسن، موسم اور جغرافیائی حیثیت سیاحت کے لیے بہت موزوں ہے۔ سندھ اور پنجاب کے آثار قدیمہ اور شمالی علاقہ جات اور کشمیر کا قدرتی حسن دنیا کے کسی بھی خطے کی سیاحت کے مقابلے میں بہتر ہے۔ امن و امان کے لحاظ سے بھی پاکستان دنیا کے ان بیشتر ممالک سے بہتر ہے جہاں لاکھوں سیاح جاتے ہیں۔
اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ پاکستان سیاحت میں سب سے پیچھے ہے؟ ہر حکومت ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے مگر نتائج ہمیشہ صفر رہتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے کبھی ان عوامل پر غور ہی نہیں کیا جو سیاحت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ بلکہ خود حکومت کے بعض اقدامات سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ ہیں جس طرح پاکستان کے تمام سرکاری محکموں میں نااہل اور لاپرواہ اہلکاروں کا غلبہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کا محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ کاہلی اور سستی کا شکار ہے۔ حکومت یا وزرا کی ترجیحات میں سیاحت بیانات تک محدود ہے اور محکمہ کی بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ اوپر سے دنیا کے سامنے ہمارا تصور بدامنی اور دہشت گردی کا ہے۔ حالانکہ پاکستان میں امن و عامہ کے حالات اتنے برے نہیں ہیں کہ یہاں سیاحوں کے لیے کوئی خطرہ ہ۔
اب ہم ان عوامل کا جائزہ لیتے ہیں جو کسی بھی ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تشہیر ہوتی ہے۔ پاکستان میں سندھ، پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں ایسی خوبصورت اور سیاحوں کی دلچسپی والی جگہیں ہیں جن کا بہت کم دنیا کو علم ہے۔ کیونکہ ہماری کسی بھی حکومت نے کبھی گوگل یا دوسرے سوشل میڈیا سرچ ٹولز پر اشتہارات نہیں دئیے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کئی ممالک اپنے سیاحتی مقامات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ لوگ دوڑے چلے آتے ہیں۔ دوسری بات سیاح جب بھی کسی ملک کی سیر کا سوچتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں کے حالات بالخصوص اپنی سیفٹی کا سوچتے ہیں۔ ہماری حکومت نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ غیر ملکی سیاحوں کو تحفظ کی گارنٹی دی گئی ہو۔ ہمارے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں کہیں بھی کوئی خطرناک جگہ نہیں ہے۔ لوگ بھی بہت اچھے ہیں لیکن دنیا کے اندر ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ کشمیر ایک جنگ زدہ علاقہ ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور بہت بڑی رکاوٹ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو خود حکومت پاکستان یا ہماری فوجی قیادت نے سیاحوں کے راستے میں کھڑی کر رکھی ہے۔ وہ یہ کہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے آزاد کشمیر میں داخلے کا این او سی لازمی قرار دے رکھا ہے۔ اور عام آدمی کو اس کی خبر بھی نہیں کہ آزاد کشمیر میں داخل ہونے سے پہلے اسلام آباد سے این او سی لینا ضروری ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ این او سی لینے کا طریقہ کار کیا ہے۔ جب کوئی غیر ملکی سیاح کشمیر میں پہنچ جاتا ہے تو ہماری ایجنسیاں اس کو روک لیتی ہیں اور این او سی دکھانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک گوری گورا راولاکوٹ کے قریب پہنچتے ہیں تو انہیں روک کر کوٹلی کی طرف واپس دھکیل دیا گیا اور جب وہ واپس ہجیرہ پہنچتے ہیں تو وہاں سے روک کر راولاکوٹ کی طرف بھیجا گیا جس سے سیاح خوف زدہ ہو کر سیدھے اسلام آباد چلے گئے اور اپنی سیٹ بدل کر واپس چلے گئے۔ ایسے لوگ واپس جا کر سوشل میڈیا پر مشہور کر دیتے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں سیاحوں کو ذلیل کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کشمیر میں داخلے کے لیے این او سی کیوں ضروری ہے؟ کہا جاتا ہے کہ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کشمیر میں کون سی حساسیت ہے؟ جس طرح بیرون ملک کی شہریت رکھنے والے کشمیریوں کو کہوٹہ کے مقام سے روک کر واپس کر دیا جاتا ہے کہ آپ کے پاس دوسرے ملک کی شہریت ہے لہذا آپ کہوٹہ کے بیچ سے نہیں گزر سکتے۔ یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ کشمیر کے رہنے والوں کو کشمیر کی طرف جانے نہیں دیا جاتا۔ حکومت پاکستان کو ان مسائل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری ایجنسیوں کو سمجھایا جائے کہ کشمیر میں کوئی خاص حساسیت ہے نہ کوئی جاسوس کسی سیاح کے روپ میں آتا ہے۔ کیونکہ اب دنیا نے ٹیکنالوجی میں اتنی زیادہ ترقی کر لی ہے کہ کسی کو جاسوسی بندوں کے ذریعے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ این او سی والی پابندی ختم ہو تو ہم وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق اور سیکرٹری سیاحت و آثار قدیمہ چوہدری عبدالرحمن صاحب سے مل کر سیاحت کو آسانی سے فروغ دے سکتے ہیں۔
اس وقت تک حکومت آزاد کشمیر سیاحت کے فروغ کے لیے کوئی زیادہ کام اس لیے نہیں کر رہی کہ اس میں ایجنسیوں کا عمل دخل ہے اور سیاحوں کو جہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے وہاں کبھی نہیں جاتے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے جس میں مختلف ممالک، تہذیبوں اور مذاہب کے سیاح خود کو محفوظ اور آرام دہ محسوس کر سکیں۔ اگر حکومت ہماری تجاویز پر عمل کرے تو ہم اپنے طور پر بھی کئی ممالک سے سیاحوں کو پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔