واشنگٹن میں طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کا تصادم، کوئی زندہ نہیں بچا

  • جمعرات 30 / جنوری / 2025

امریکہ میں مسافر بردار طیارے ابک فوجی ہیلی کاپٹر کے ساتھ تصادم کے بعد  واشنگٹن کے قریب دریا میں کگر کر تباہ ہوگیا۔ حکام کی سرتوڑ کوششوں کے باووجد کسی مسافر کو زندہ نہیں بچایا جاسکا۔

امریکن ایئرلائنز کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔ دوسری جانب بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں تین امریکی فوجی سوار تھے۔

فضا میں تصادم کے بعد طیارہ دو حصوں میں ٹوٹ کر دریائے پوٹومک میں جا گرا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق بلیک ہیلی کاپٹر بھی دریا میں ہی گرا ہے۔

حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا ہے۔ لیکن جلد ہی انتظامیہ کی جانب ایک نیوز بریفنگ کی توقع ہے تاہم پولیس حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر چینل سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں مصروف عملے نے جائے حادثہ سے 19 لاشیں برآمد کی ہیں اور اب تک کوئی بھی مسافر زندہ نہیں پایا گیا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی نئی وزیر کرسٹی نوئم نے کہا ہے کہ وہ تلاش اور امدادی کارروائی میں تیزی لانے کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ کو تعینات کر رہی ہیں۔ امریکہ میں مسافر بردار طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جان ڈونیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کا عمل ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن ہے اور جائے حادثہ پر حالات انتہائی خراب ہیں۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب رات آٹھ بج کر 58 منٹ پر امدادی کارکن جائے حادثہ پر پہنچے تو انہیں پانی میں گرا ہوا طیارہ ملا تھا۔ جان ڈونیلی کے مطابق اس وقت دریا میں 300 امدادی کارکن موجود ہیں۔

اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے حادثے کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد دریائے پوٹومک میں ریسکیو آپریشن کو سرانجام دینے کے لیے واشنگٹن کے میٹروپولیٹن علاقے سے ہنگامی خدمات کے کارکن ’انتہائی تاریک اور سرد حالات میں مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔‘

باؤزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکن ایئر لائنز کے اہلکار ہوائی اڈے پر موجود ہیں اور مسافروں کے اہل خانہ سے بات کر رہے ہیں۔