ناروے کا حکومتی بحران: سیاسی مشکلات سے نکلنے کی کوشش
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعہ 31 / جنوری / 2025
ناروے میں 30جنوری کی دوپہر کوسنٹر پارٹی اور آربائیدر پارٹی کی دوجماعتی اتحادی مخلوط حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشمکش حکومت کے اختتام پر منتج ہو گئی۔
اس سیاسی بحران نے اُس وقت سر اُٹھایا جب تین ہفتے قبل آربائیدر پارٹی کے وزیر توانائی یورپی یونین کی طرف سے جاری کیے گئےتین توانائی ڈائریکٹیوز کو منظوری کے لیے حکومت کے سامنے لائے۔ یہ ڈائریکٹو یورپی یونین کے ممبر ممالک اور یورپی اقتصادی معاہدہ میں شامل ممالک کو اس پر عمل درآمد کا پابند کرتے ہیں۔ یہ ڈائریکٹیو بظاہر کوئی زیادہ سیاسی تضاد پر مبنی نہیں ہیں لیکن دو جماعتی مخلوط حکومت میں شامل سنٹر پارٹی نے غیر متوقع طور پر ان ڈائریکٹیوز کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے آربائیدر پارٹی سے ان کی منظوری کو ستمبر میں ہونے والے انتخابات تک ملتوی کرنے کے مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ان کی حکومت میں موجودگی میں یہ ڈائریکٹیو کبھی بھی منظور نہیں کیے جاسکتے۔
اس کے ساتھ ہی ایک سیاسی کشمکش نے جنم لیا جو حکومت کے اختتام کا موجب بنی۔ ان تیں ڈائریکٹیوز کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک 2030 تک اپنی توانائی کی ضرورت کا 32 فی صد قابل تجدید توانائی سے پورے کرنے کے پابند ہوں گے۔ جبکہ دوسرا نکتہ تمام ممبرممالک کو 2030 تک اپنی توانائی کے تصرف کو گیارہ فی صد کم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ تمام تعمیراتی ڈھانچہ کم توانائی کے استعمال کے قابل بنایا جائے گا ۔
گو یہ تینوں نکات ایسے نظر نہیں آتے جس پر ناورے میں کوئی بڑا سیاسی اختلاف موجود ہو۔ لیکن قیاس یہ ہے کہ سنٹر پارٹی نے اس کو ایک عذر بنا کر یورپی یونین سے متعلق اپنے روایت پر مبنی نظریاتی اختلافی موقف کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی سطع پر گرتی ساکھ کو سہارا دینے کی سعی کے طور پر استعمال کیا ہے۔ کیونکہ پچھلے انتخابات کے مقابلے میں سنٹر پارٹی کی مقبولیت تین گنا تک کم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کے ووٹر اور قیادت کی بڑی تعداد عدم اطمینانی اور تشویش کا شکار ہے۔ لہذا پارٹی قیادت نے ستمبر میں ہونے والے انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک حکمت عملی کے تحت حکومت سے علیحدگی کا بہانہ تراشہ ہے۔ تاکہ انتخابات میں یورپی یونین کے دباؤ سے نجات کے نعرہ کو ایک دلیل بناکر پچھلے ساڑھے تین سال سے اپنی حکومتی کارکردگی پر اُٹھنے والے سوالوں سے بچا جا سکے۔
اس کی ایک ظاہری وجہ یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ پچھلے دو سالوں میں موسم سرما میں توانائی اور خاص کر بجلی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے سے عوام کی ایک بڑی تعداد تنگ ہے۔ اور یورپی یونین کی توانائی پالیسی کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ دوسری طرف اس سیاسی بحران کو آربائیدر پارٹی کے اندر قیادت سے متعلق جاری کشمکش کا نتیجہ بھی قرار دیا جارہا ہے۔ کچھ تجزیہ کارپچھلے تین ماہ سے وزیراعظم یوناس گارستورے پر پارٹی کے اندر سے قیادت چھوڑنے کے زور پکڑتے مطالبہ کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وزیراعظم نے اپنی پارٹی سربراہی پر عدم اعتماد سے توجہ ہٹانے کے لیے سنٹر پارٹی کی طرف سے اس معاملہ میں کی جانے والی ضد کو غنیمت جانتے ہوئے ایک بظاہر معمولی معاملہ پہ حکومتی بحران پیدا کر کے آربائیدر پارٹی کے اندر پارٹی قیادت کی اہلیت پر اُٹھنے والی انگلیوں کارُخ بدل دیا۔
حکومتی بحران کے پیدا ہو جانے پر آرپائیدرپارٹی اندرونی اختلاف کو آگے بڑھاکر وزیراعظم کی تبدیلی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اور نہ ہی حکومتی بُحران کی موجودگی میں پارٹی قیادت کی تبدیلی کا بحران کھڑا کرنے کا خطرہ مول سکتی ہے۔ جبکہ وزیراعظم کے حمایتی گروہ کا خیال ہے کہ سنٹر پارٹی کے مطالبہ کو رد کرنے پر وزیراعظم یوناس گار ستورےکو ایک مضبوط اور نڈر قائد کے طور پر اُبھرنے کا موقع میسر آ سکتا ہے۔ جو سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دکھا کرقومی مفادات کے محافظ کا روپ دھار سکتے ہیں۔ جس سے وزیراعظم اور آربائیدر پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
لہذا بظاہر ایک معمولی سا سیاسی مسئلہ اپنے اندر گہری سیاسی چالوں کو بھی سمیٹے ہوئے ہے جو محلات کی غلام گردشوں کا حصہ ہوتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا سنٹر پارٹی اپنی سوچی ہوئی چال کے سہارے آنے والے انتخابات میں کوئی آسانی پیدا کر سکتی ہے کہ نہیں اور کیا وزیراعظم اپنے ستاروں کوگردش سے نکال پائیں گے۔ دونوں فریق اپنی اپنی حکمت عملی کو رُوبعمل لا چکے ہیں ۔ لیکن ان کو پذیرائی ملنے کی کنجی عوام کے ہاتھ میں ہے اور یہ تو ستمبر کے انتخابات کے نتائج ہی واضح کریں گے۔