گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا

ہمارے میڈیا میں ان دنوں پیکا ایکٹ کی بڑی چرچا ہے سبھی اس کے خلاف بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں۔ پیکا ترمیمی بل جو اس وقت اسمبلی سینیٹ اور صدر کی منظوری کے بعد پیکا ایکٹ بن چکا ہے، اس کا مقصد بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا میں دی جانے والی فیک نیوز کو روکے گا۔

 پیکا، PECA یعنیThe Prevention Of Electronic Crimes Act 2025 کے مطابق سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ یہ اتھارٹی سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ کو یقین بنائے گی، رجسٹریشن کی بھی مجاز ہوگی اور رجسٹریشن ختم بھی کر سکے گی۔
پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر یہ اتھارٹی اس پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کی مجاز ہوگی۔ سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرے گی۔ سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کا متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں اتھارٹی کو درخواست دینے کا پابند ہوگا۔ اتھارٹی نظریہ پاکستان کے خلاف شہریوں کو قانون توڑنے پر آمادہ کرنے والے مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہوگی۔ اتھارٹی آرمڈ فورسز، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہوگی۔ فیک نیوز پھیلانے والے شخص کو تین سال قید یا 20 لاکھ تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس قانون کے تحت کارروائی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتاری کی خاطر کسی نوع کے وارنٹ کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔
اس وقت بظاہر دیکھا جائے تو ہمارے سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی چھایا ہوا ہے، کسی عزت دار کی عزت محفوظ نہیں جس کے ذہن میں جو آتا ہے اپلوڈ کر دیتا ہے۔ عام آدمی کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا محال بنا دیا گیا ہے۔ بلکہ سچ کے بالمقابل پروپیگنڈے کے زور پر جھوٹ زیادہ نمایاں اور چھایا ہوا دکھتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اس کی روک تھام ہونی چاہیے۔ لیکن دوسری جانب یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ ہماری سوسائٹی میں کوئی بھی قانون خواہ کتنے اچھے الفاظ کے ساتھ بنایا جاتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کروانے والے کن کن حیلوں اور طریقوں سے اس کا مس یوز کرتے ہیں کہ اس کے شکنجے میں آنے والا بے گناہ چیخ اٹھتا ہے کہ اسے تو اس سوسائٹی میں رہنا ہی نہیں چاہیے۔ قانون کی عملداری کے نام پر رشوت خوری کا ایک نیا بازار کھل جاتا ہے اور پھر اس پر صحافی تنظیموں کا یہ اعتراض سو فیصد درست ہے کہ اس حوالے سے قانون کوتشکیل دیتے ہوئے ان سے کسی نوع کی مشاورت تک نہیں کی گئی خود سیاست دان ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن فرما رہے ہیں کہ صدر زرداری نے مجھے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے والے قانون پر دستخط نہیں کریں گے۔ لیکن اگلے روز مجھے معلوم ہوا کہ وہ تو اس پر دستخط پہلے ہی کر چکے تھے۔ اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیت کے قول و فعل میں اس قدر تضاد بیانی قابل افسوس ہے۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ ہم اور پی پی اس ایشو پر ایک تھے، ہمارے ساتھ وعدے وعید کیے گئے تھے۔ پھر انہوں نے دوغلا پن دکھایا اور بل منظور کروا دیا۔ پاکستان کو نارتھ کوریا بنا دیا گیا ہے۔

حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ آج الیکٹرانک میڈیا میں جس قدر ترقی ہوچکی ہے، اس کا پہیہ پیچھے کو نہیں گھمایا جا سکتا، یہ درست ہے کہ کسی بھی شخصیت کی کردار کشی ناقابل قبول ہے لیکن اس برائی کی آڑ میں انسانی حقوق اور آزادیوں کا گلا نہیں دبایا جا سکتا۔ بالفرض آپ اندرون ملک خوف و ہراس یا سزاؤں سے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا لیں گے مگر جب یہی آوازیں بیرون ملک بیٹھے لوگ سوشل میڈیا پر اٹھائیں گے تو انہیں روکنے کا کیا اہتمام فرمائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان کی مشاورت سے مسئلے کا متفقہ حل نکالیں۔ اسی کی مطابقت میں قانون سازی کریں۔ جس شتابی سے آپ نے یہ سب اکھاڑ پچھاڑ کی ہے، یہ جمہوری پارلیمانی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پہلے ہی یہاں نظریہ پاکستتان کے نام پر آزادئ اظہار کے حوالے سے جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس نے ہماری سوسائٹی کو ایسا گھٹن زدہ، تنگ نظر و تنگ دل بنا ڈالا ہے کہ یہاں وسعت قلبی رکھنے والے وسیع الظرف لوگ خال خال ملیں گے۔ جبکہ شاہ دولے کے چوہوں کی فوج ظفر موج سے قدم بہ قدم واسطہ پڑے گا۔

 یہاں  لوگ یہ استدلال کرتے بھی ملیں گے کہ رخصت ہوتے ہوئے "خدا حافظ" مت کہو کہ یہ شرک ہے اس کی بجائے اللہ حافظ کہو۔ ان ملاؤں کی شدت پسندی مساجد تک محدود نہیں رہی بلکہ سر بازار دندناتی پھر رہی ہے۔ ایسی فضا میں اعلی انسانی آدرشوں اور وحدت ادیان جیسی وسعتوں کے حاملین سوسائٹی کے مجرم بنے بزدلوں کی طرح بلوں میں چھپتے ملیں گے۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ ہماری زبان میں جو لٹریچر پارٹیشن سے قبل انگریز کے دور غلامی میں کھلے بندوں شائع ہوتا رہا، کیا آج اس کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے۔ آج کیوں یہاں سرسید، غالب اور میر پیدا نہیں ہو رہے۔ حالت تو یہ ہے کہ ان برگزیدہ شخصیات نے ڈیڑھ دو صدیاں قبل جو کچھ کہا آج 21ویں صدی میں ان کے اس لٹریچرکو یہاں کھل کر بیان کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

درویش کو بارہا ذہن میں آتا ہے کہ سرسید کی طرح راجہ رام موہن رائے نے ہماری اس دھرتی پر جدت و شعور کی روشنی پھیلانے کے لیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے، ان پر اظہار خیال کرے۔ ہمارے اسی خطہ ہند میں نوبل پرائز حاصل کرنے والے رابندر ناتھ ٹیگور  نے علم و عرفان کی شمعیں روشن کرتے ہوئے انسانیت کی جو روشنی پھیلائی، اپنی نوجوان نسلوں کو اس کی کرنوں سے منور کرنے کا اہتمام کرے۔ ابھی تیس جنوری کو مہاتما گاندھی کی برسی منائی گئی، کیا کسی نے ہمارے سرکاری چھوڑ، غیر سرکاری میڈیا میں اس حوالے سے کوئی آواز بھی سنی ہے؟ ہمارے چینلز پر جہاں معمولی خدمات انجام دینے والوں کے دن دیہاڑوں پر تذکرے کیے جاتے ہیں، وہاں اتنے مہان انسان کا ذکر تک نہیں تھا۔ کیوں؟

درویش نے ایک مرتبہ آرٹیکل تحریر کیا  "مہاتما گاندھی کو کیوں قتل کیا گیا؟" شائع کرنے کی بجائے ایڈیٹر صاحب نے اس کی پیشانی پر تحریر فرما دیا کہ یہ آرٹیکل روزنامہ ہندوستان میں چھپ سکتا ہے، پاکستان میں نہیں۔ حالانکہ اس مضمون میں یہ صراحت تھی کہ جدید ہند کا باپو کیسے پاکستان اور مسلمانوں کی حمایت کرتے ہوئے مارا گیا۔ ہمارا یہ شہر لاہور جسے ہندو، داناؤں، مدبروں اور ساہوکاروں نے انگریز سرکار سے مل کر علم و عرفان اور وسیع المشربی کا ترقی یافتہ شہر بنایا تھا، اس میں ہندو اور سکھ آبادی ایک وقت میں مسلمانوں سے زیادہ ہی نہیں تھی، اتنی مالدار بھی تھی کہ جس کا تقابل نہیں بنتا۔ یہاں 80 فیصد سے زائد پراپرٹیز کی ملکیت انہی کی تھی۔ حب انارکلی میں محض ایک دکان کسی مسلمان کی تھی، باقی سب ہندو پراپرٹی تھی۔ میرے دادا کہتے تھے پتر تب مسلمانوں کے پاس تھا ہی کیا سواۓ بھوک ننگ کے۔ معروف ریسرچ سکالر ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق لاہور کاپچھتر فیصد سے زائد ریونیو ہندوؤں کی کاروباری سرگرمیوں سے اکٹھا ہوتا تھا۔ لیکن مہاتما گاندھی بضد تھے کہ پاکستان کو اس کے حصے کی خطیر ریونیو رقم پچپن کروڑ فوری ادا کی جائے۔ ورنہ میں مرن بھرت نہیں توڑوں گا۔ جب پنڈت نہرو بولتے ہیں کہ باپو ہم  نے یہ رقم پاکستان کو دے دی ہے تو وہ مہان انسان گویا ہوتا ہے کہ لیاقت علی کو کہو کہ میرے ساتھ فون پر اس کی تصدیق کرے۔

جی ہاں یہ وہی گاندھی ہے جس نے نواکھلی اور کلکتہ میں مسلمانوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنے پاؤں لہو لہان کروائے۔ وہ اپنے آدرشوں کے لیے جان پر کھیل گیا۔ اس کے بالمقابل ہمارے لوگوں نے لاہور میں ہندوؤں کو گاجر مولی کی طرح ایسے کاٹا کہ بقیۃالسیف خوف سے جانیں بچاتے بھاگ کھڑے ہوئے۔ نتیجتاً آج لاہور میں کوئی ہندو ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ جبکہ دہلی آج بھی مسلمان آبادی سے بھرا پڑا ہے تو کس کی مہربانی سے؟ وہ جس کے قدموں میں سہمے ہوئے مسلمان گر پڑے تو اس نے اٹھا کر سینے سے لگاتے ہوئے کہا مسلمان ایک خدا کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔ یہاں کوئی آپ لوگوں کا بال بیکا نہیں کرے گا۔ لاہور سے جو لٹے پٹے ہندو دہلی پہنچے انہیں اور تو اور جامع مسجد میں پناہ لینے پربھی نکال باہر کیا گیا۔ حکم ہوا کہ کسی لٹے پٹے ہندو کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ کسی مسلم پراپرٹی پر قابض ہونے کی کوشش کرے۔ انڈین حکومت ان کا الگ سے خود اہتمام کرے گی۔

 آج یہاں اس مہان شخص کو ہمارے سلیبس میں مکار اور فراڈیا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اے میرے بدنصیب ملک کے حکمرانو! خدارا بس کر دو نظریہ پاکستان اور دیگر مقدسات کے ریفرنس سے آزادی اظہار کا گلا دبانا اور ہیومن رائٹس کی تذلیل کرنا، اب بندکر دو حریت فکر اور انسانی وقار کا کچھ تو بھرم رہنے دو اس سوسائٹی کو اور کتنا گھٹن زدہ بناؤ گے؟ بدنصیبوں کو تھوڑا سانس لے لینے دو۔