اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ جج عمران خان کے ساتھ ایک پیج پر کیسے آئے؟

ان دنوں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے دو خطوں کا چرچا ہے۔  ایک خط تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل سے لکھا ہے اور اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ  ملک میں آئینی انتظام ناکام ہوچکا ہے لہذا سپریم کورٹ  عوامی  حقوق کی حفاظت کے لیے  معاملات اپنے ہاتھ میں لے۔ دوسرا خط اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کی جانب سے  دوسری ہائی کورٹس سے ججوں کے مبینہ تبادلوں کے خلاف احتجاج کے طور پر لکھا گیا ہے۔

عمران خان سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی اس مضمون کے خطوط ارسال کرچکے  ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس  کے نام  خط جس کی نقول ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کو بھی بھیجی گئی ہیں،  18صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ  300صفحات  پر مشتمل دستاویزات بھی روانہ کی گئی ہیں جن میں تحریک انصاف اور اس کے لیڈروں کے خلاف ہونے والے نام نہاد مظالم کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم  کا مؤقف سادہ ہے کہ  ملک میں آئینی انتظام  ناکام ہوچکا ہے۔  پارلیمنٹ کام کرنے کے قابل نہیں رہی ۔ طاقت اور دھونس کی بنیاد پر ایک مقبول پارٹی اور اس کی قیادت کو ہراسانی کا  سامناہے۔ اس حوالے سے انہوں نے خاص طور سے 9  مئی 2023 اور26 نومبر2024 کو رونما ہونے والے واقعات کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ان وقوعات  کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کے بنیادی  و سیاسی حقوق  چھین لیے گئے ہیں۔ عمران خان نے شکایت کی ہے کہ عدالتوں میں ان کی شنوائی نہیں ہوتی اور  سپریم کورٹ میں بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف ان کی  پٹیشن منظور نہیں کی گئی۔ اس طرح ملک میں بربریت  اور ظلم کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوچکا ہے جو ملکی آئین میں دیے گئے حقوق  کو پامال کررہا ہے۔ عمران خان کا مؤقف ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ کو آئین کی حفاظت اور عوام کے حقوق کی نگہبانی کے لیے بے شمار اختیارات دیے گئے ہیں۔  جب ملک میں ظلم عام ہو اور بنیادی حقوق پامال کیے جارہے ہوں تو سپریم کورٹ خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔

چیف جسٹس کے نام عمران خان کے تازہ  خط میں اٹھائے گئے نکات اور درج کی گئی شکایت کی نوعیت و حقیقت  پر بحث کیے بغیر   ہی   ملکی  سیاسی و آئینی انتظام میں سپریم کورٹ کے کردار   پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس خط میں عمران خان  کا کہنا ہے کہ چونکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور  جعلی حکومت ملک پر مسلط کردی گئی اور  سیاسی احتجاج کا راستہ بند کردیا گیا، اس لیے  یہ  ملکی آئین کی صریحاً خلاف ورزی  ہے۔ اسی لیے آئین کی نگہبانی کرنے والی سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی چاہئے۔  عمران خان جن دو سیاسی احتجاج  یعنی 9  مئی 2023 اور26 نومبر2024 کو ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دے کر اپنا مقدمہ مضبوط کرنے  کی  کوشش کررہے ہیں،  ان کے بارے میں ملکی فوج اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان مواقع پر ریاست  کو للکارنے اور  عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دیدہ  دانستہ کوشش کی گئی  تھی۔ اب ان واقعات کے  حوالے سے سینکڑوں مقدمے ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر غور ہیں۔  ایک سو کے لگ بھگ  افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا دی جاچکی ہے۔ اگرچہ یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے زیر غور ہے کہ کس حد تک فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزاؤں کو قبول کیا جاسکتا ہے۔  البتہ یہ اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب قانون شکنی ، تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں معاملات زیریں عدالتوں میں زیر غور ہوں ۔ کچھ لوگوں کو عدم ثبوت کی بنیاد پر رہا بھی کیا گیا ہو جبکہ کچھ لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں اور وہ ان کے خلاف اپیلوں کا حق استعمال کررہے ہیں۔  ایسے میں کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایک سیاسی لیڈر کے الزام اور احتجاج کی بنیاد پر سارے مقدمات ختم کرکے ، ان ملزموں کو رہا کرنے اور ملک کے انتخابات کو یک طرفہ طور سے کالعدم قرار دیتے ہوئے کوئی نیا سیاسی انتظام لانے کا حکم جاری کرسکتے ہیں؟ اگر چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے کچھ جج کوئی ایسا حکم جاری کر بھی  دیں تو اس کی قانونی یا آئینی پوزیشن کیا ہوگی؟

اس کے علاوہ دوسرا اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا کوئی سیاسی پارٹی کسی  آئینی ادارے کو  سیاسی اختلاف کی صورت  حال میں ملوث ہونے اور یک طرفہ طور سے حکم صادر کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔ اگر ایسی درخواست قبول کرلی جائے اور سپریم کورٹ واقعی موجودہ سیاسی صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے عمران خان کی خواہش و  مشورے کے مطابق حکم جاری کرنا شروع کردے تو یہ صورت حال فوج کی طرف سے ملک پر مارشل لا لگانے اور یک طرفہ طور سے معاملات خود طے کرنے کے واقعات سے کیوں کر مختلف ہوگی؟

کیا ایسے اقدام کرنے والا اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج  مارشل لا لگانے والے جرنیلوں کی طرح  آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوگا؟ ماضی میں سپریم کورٹ پر فوجی حکومتوں کی سہولت کاری کا سنگین الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ ملکی اعلیٰ عدلیہ نے ہر غیر جمہوری اقدام کو نام نہاد ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت  قبول کرتے ہوئے  پہلے ملک کے گورنر جنرل غلام محمد کی طرف سے دستور ساز اسمبلی توڑنے کو جائز قرار دیا اور بعد میں مختلف جرنیلوں کی طرف سے آئین معطل کرکے مارشل لا لگانے کو قبول کیا۔ فوجی حکمران پھر مرضی کے مطابق   پارلیمنٹ قائم کرکے، اس سے اپنے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کراتے رہے۔  البتہ جنرل پرویز مشرف  نے جب دسمبر  2007 میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین  شکنی کی اور اس کی عدالت یا پارلیمنٹ سے توثیق نہیں کراسکے تو انہیں خصوصی عدالت  نے آئین شکنی پر  موت کی سزا  دی تھی۔  فوجی حکومتوں  کے تحت آئین شکنی کو ’لیگل کور ‘دینے کے الزام میں ملکی عدلیہ کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔ اسی لیے متعدد مواقع پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب نظریہ ضرورت استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں اگرعدالت وہی کام براہ راست کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ماضی میں فوج کرتی رہی ہے تو  ایسے اقدام سے ملک میں آئینی جمہوریت کا کیا مستقبل رہ جائے گا؟

 اس نکتہ پر تقریباً اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اگر ملکی سیاست دان اپنے گروہی اور وقتی مفادات کے لیے مختلف اوقات میں فوجی حکمرانوں کا آلہ کار نہ بنتے تو شاید کسی فوجی جنرل کو ملک میں مارشل لا لگانے اور غیر آئینی طور سے حکومت کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔ البتہ اگر اب وہی سیاست دان پارلیمنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کریں کہ وہ پارلیمنٹ کے وجود اور اختیار کو نظر انداز کرکے براہ راست اقدام کریں اور موجودہ نظام ختم کردیں تو اسے کیسے آئینی، جمہوری یا انسانی حقاوق کی حفاظت کا نام دیا جاسکے گا۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس،  عمران خان کے خط میں دی گئی تجاویز کے مطابق اپنے آئینی اختیار سے تجاوز کرکے ملکی پارلیمنٹ اور نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر بدقسمتی سے ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو ملک  شاید ایسے کسی بحران سے نبرد آزما نہ ہوسکے۔

عمران خان نے سیاسی ضرورتوں اور خود سہولت حاصل کرنے کے لیے  پارلیمانی کردار  ادا کرنے کی بجائے عدالت  کا سہارا لے کر ملکی نظام کو تباہ کرنے اور عدالتی ’مارشل لا‘ جیسی کیفیت پیدا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور  پر  اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ذی وقار ججوں نے  چیف جسٹس کے علاوہ  پنجاب،سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کو لکھے گئے خط میں آئین کی حفاظت کے لیے جو مشورہ  دیا ہے،   اس میں بھی عمران خان کے خط کی طرح  آئین کے نام پر ملک کے آئینی انتظام کو مسترد کرنےہی کے لیے کہا گیاہے۔   حیرت انگیز طور پر دونوں خطوں میں آئین کی حفاظت کے لیے آئینی طریقہ کار کر نظر انداز کرنے  کی رائے دی گئی ہے۔ عمران خان تو سیاست دان ہیں اور ان کی سیاسی مجبوری اور قید کی صورت حال میں پریشانی کو سمجھا جاسکتا ہے لیکن ایک ہائی کورٹ میں کام کرنے والے ججوں سے یہ توقع نہیں دی جاتی کہ وہ قومی خزانے سے  کثیر مشاہرہ اور مالی سہولتیں حاصل کرتے ہوئے ، اپنا قیمتی وقت  سیاسی مقاصد کے لیے وقف کریں اور اسے آئین کی حفاظت کا نام دیا جائے۔

سب سے پہلے تو یہ بات نوٹ کرنی چاہئے کہ یہ خط لکھنے والے پانچ جج ان  چھے ججوں میں  بھی شامل تھے جنہوں نے  گزشتہ سال مارچ میں   سپریم  جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر عدالتی معاملات میں  اسٹبلشمنٹ کے  مداخلت کرنے کی شکایت کی تھی لیکن یہ معاملہ ہنوز کسی انجام تک نہیں پہنچا۔ اور نہ ہی  یہ  خط پر لکھنے والے کسی جج نے مداخلت کرنے والے کسی سرکاری افسر کو توہین عدالت کا نوٹس دے کر اپنی شکایت کا دستاویزی ثبوت فراہم  کیا۔ اب ان  ہی پانچ  معزز ججوں نے  ایک غیر مصدقہ میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر چیف جسٹس  کو خط لکھ کر ایک انوکھی عدالتی مثال قائم کی ہے۔ ورنہ یہ مانا جاتا ہے کہ جج خبر یا  افواہ پر غور نہیں کرتا بلکہ وہ شواہد اور ثبوت کی بنیادپر فیصلے صادر کرتا ہے۔  تاہم شاید خط  لکھنے کے لیے ججوں کو اس اصول پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔  ان ججوں کو شکایت ہے کہ کسی دوسری ہائی کورٹ سے کسی جج کو اسلام آباد ہائی کورٹ لا کر اسے چیف جسٹس نہ بنایا جائے ورنہ یہ آئین کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ ملکی آئین کے مطابق صدر پاکستان چیف جسٹس پاکستان اور صوبائی چیف جسٹسز کے مشورے سے کسی جج کا تبادلہ  کسی  ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں کرسکتے ہیں۔ ابھی تک نہ تو صدر کی  طرف سے ایسی کوئی تجویز سامنے آئی ہے اور نہ ہی چیف جسٹس سمیت صوبائی چیف جسٹسز نے کوئی  مؤقف اختیار کیا ہے۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ معزز ججوں نے خطرے کی گھنٹی بجانا شروع کردی ہے۔  یہ طریقہ کا عدالتی کی بجائے سیاسی  ہے ، جس کی اعلیٰ عدالت میں   کام کرنے والے کسی جج کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

چیف جسٹس کو  مبینہ تبادلوں کے  بارے میں متنبہ کرتے ہوئے  ان ججوں نے کہا ہے کہ اگر ایسا کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو یہ  ’ آئین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہوگا‘۔  گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر چیف جسٹس ان ججوں کی نام نہاد قانونی و آئینی رائے کے برعکس صدر کو کسی جج کے تبادلے کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ خود آئین سے دھوکہ دہی کے مرتکب ہوں گے۔  ملک کے چیف جسٹس کے بارے میں ہائی کورٹ کے بعض ججوں کا یہ رویہ تشویشناک حد تک پریشان کن ہے جس  سے آئینی انتظام کے علاوہ عدالتی وقار بھی داؤ پر لگایا  جارہا ہے۔  اعلیٰ عدلیہ میں ہر جج قابل احترام اور خود مختار ہوتا ہے اور اپنی صوابدید کے مطابق رائے اختیارکرتا ہے۔ لیکن  وہ اپنے ساتھی ججوں کی رائے کا احترام بھی کرتا ہے۔ یہاں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ جج ملک کے چیف جسٹس کی نیک نیتی اور آئین دوستی پر ہی سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں  کے تازہ خط کا مقصد و مفہوم عمران خان کے لکھے ہوئے خط سے مماثلت رکھتا ہے۔ ان دونوں خطوں میں مروجہ آئینی طریقہ کار نظرانداز کرنے اور ایک خاص سیاسی زاویے سے معاملات دیکھنے کی بات کی گئی ہے۔ عمران خان تو سیاست دان ہیں لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز ججوں کو ضرور بتانا چاہئے کہ  وہ  سیاسی عزائم کے  لیے اپنی عدالتی پوزیشن استعمال کرکے کس حد تک آئین کی خدمت کا سبب بن رہے ہیں؟