ملتان کا ایس ایچ او شفیق اور کیا کرتا!
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 02 / فروری / 2025
ملتان میں ہوا یہ ایک معمولی واقعہ تھا۔ "پروٹوکول" کے لیے پولیس نے روٹ لگایا ہوا تھا تاکہ کوئی غیر متعلقہ یا ممکنہ فسادی نہ گھس آئے اور شاہی سواری سیکیورٹی کے لئے رسک بنے۔
اس دوران ایک 60 سالہ شخص موٹر سائیکل پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ موقع پر موجود ایس ایچ او شفیق نے روایتی طاقت کے ساتھ چلتے موٹر سائیکل پر اس کا گریبان پکڑا اور پوری شدت سے زمین پر پٹخ دیا ۔ اس پر ہی بس نہیں کیا بلکہ اسے مزید زد و کوب کر کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کا فوری سبق بھی سکھایا۔
یہاں تک واقعہ بالکل "معمولی " اور" معمول " کے مطابق تھا لیکن ہوا کچھ یوں کہ کسی نے اس پورے واقعے کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ویڈیو تمام سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ تشدد اور انسانی تذلیل پر مبنی ویڈیوز دیکھنے سے عموما گریز کرتا ہوں۔ تاہم اس ویڈیو پر نظر پڑ گئی، ویڈیو دیکھ کر طبیعت انتہائی مکدر ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی ذہن میں یہ سوال بھی ابھرا کہ ایس ایچ او شفیق کے اس رویے کی تشکیل اور پرورش بھی تو کسی نے کی ہوگی؟ ایس ایچ او شفیق پولیس میں بھرتی ہوتے وقت یہ ذہن اور سوچ لے کر تو بھرتی نہیں ہوا ہوگا ۔ "فرائض " کی بجاآوری کے دوران سینیئرز اور حکمرانوں کی توقعات نے بھی تو اس رویے کی پرورش میں کردار ادا کیا ہوگا!
ہم نے بارہا پروٹوکول کا شاہانہ کروفر دیکھا۔ سیکیورٹی کے نام پر پروٹوکول کی ہیبت بٹھانے کے لیے مصروف شاہراہوں کو بند کر کے ہزاروں لوگوں کو بعض اوقات گھنٹوں زبردستی انتظار پر مجبور دیکھا۔ دہائیوں سے ہر چھوٹے بڑے حکمران اور انتظامی بابووں کی گاڑیوں پر پاکستانی پرچم اور آگے پیچھے ہوٹر بجاتی پروٹوکول کی گاڑیاں معمول رہا۔ ان کے گارڈز سڑکیں چیرتے اور لوگوں کو ان کی اوقات یاد دلاتے گزرتے دیکھے۔ ہمارے حکمران اور آئینی عہدوں کے سربراہوں کو پروٹوکول ایک استحقاق کے طور پر دستیاب رہا ہے۔ صاحبان اقتدار تو کیا وطن عزیز میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ایک سابق سربراہ نجی دورے پر تشریف لے جاتے تو صوبے کے وزیر اعلی اور ان کی انتظامیہ کو ہدایت کرتے کہ ان کے پروٹوکول کا اہتمام کیا جائے۔ بلکہ تاکید مزید کے طور پر مرسیڈیز گاڑی کا بھی اصرار ہوتا۔ ان صاحب کے ہم آج تک عدلیہ بحالی تحریک کے مقروض ہیں ۔ ایک ان پر ہی کیا موقوف ہم نے کئی چھوٹے بڑے صوبائی اور وفاقی حکمرانوں کو سرکاری پروٹوکول کے لیے تڑپتے، الجھتے اور اہل اختیار سے درخواستیں کرتے دیکھا۔
سیاسی حکمرانوں ، مضبوط آئینی اور انتظامی عہدوں پر متمکن لوگوں کے شاہانہ پروٹوکول کی ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر جہاں جہاں ممکن ہوا نجی شعبے کے لوگ بھی اس رنگ میں رنگے گئے۔ لاہور میں ایک معروف کاروباری شخصیت کو وقت کے ایک حکمران سے بہت قربت نصیب ہوئی۔ اس قربت کے دوران انہوں نے دل کھول کر سرکاری پروٹوکول انجوائے کیا۔ جب تک یہ قربت نصیب رہی موصوف کا معمول تھا کہ وہ عام مسافر کی طرح ائیرپورٹ جانے کو ہتک سمجھتے۔ ہمیشہ پہلے پروٹوکول آفیسر ایئرپورٹ پہنچتا، ان کے لیے بورڈنگ کارڈ لیتا ، سامان کی چیکنگ کرواتا اور وہ فلائٹ سے چند منٹ پہلے پورے کروفر کے ساتھ ایئرپورٹ وارد ہوتے۔ اس قربت سے پہلے یہ شاہانہ کروفر ممکن نہ تھا۔ لیکن شاہی قربت کے دنوں میں انہوں نے اس بہتی گنگا سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
پروٹوکول کے مظاہر انٹرنیشنل فلائٹس کے آتے اور جاتے وقت ایئرپورٹس پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ بڑے بڑےسرکاری و کاروباری اداروں کے سربراہان ، ان کی فیملیز اور دوست عام مسافروں کی لائن میں کھڑے ہونے کو توہین سمجھتے ہیں۔ سرکاری کارندوں کے ذریعے یا چند ہزار روپے سے خریدے ہوئے پروٹوکول کی مدد سے ایئرپورٹ پہنچتے ہی ان کا وی آئی پی سفر شروع ہو جاتا ہے۔ انٹرنیشنل فلائٹس کی آمد کے وقت پروٹوکول افسران اپنے اپنے مہمانوں کی تلاش میں ہانکے لگاتے یا پلے کارڈ لے کر کھڑے ہوئے اکثر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جہاں دوسرے مسافر امیگریشن اور سامان حاصل کرنے کے لیے خود تردد کرتے ہیں، شاہانہ پروٹوکول حاصل کرنے والے اس دوران اپنا بریف کیس تک اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہ تمام مناظر ہزاروں دیگر مسافر بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن انہیں ذرہ بھر شرم یا احساس کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ لوگوں کی چبھتی ہوئی نظروں کے مقابل پروٹوکول زدہ ان لوگوں کو سینہ تان کر اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہی دیکھا۔
ہم نے ایک بار ہانگ کانگ سے لاہور کی سفر میں ایک چشم کشا دو عملی کا مظاہرہ دیکھا۔ ہانگ کانگ بزنس لاونج میں دو پاکستانی مسافر داخل ہوئے۔ ہاتھوں میں اپنے بریف کیس اور شاپنگ بیگ تھامے ہوئے۔ انہی مسافروں کو ہم نے بنکاک ایئرپورٹ پر بھی دیکھا۔ اپنا سامان اٹھاتے، جہاز میں رکھتے دیکھا ۔ تاہم جب لاہور ایئرپورٹ پر جہاز لینڈ کیا تو ان دونوں مسافروں میں یکایک انقلابی تبدیلی آئی ۔ جہاز کے دروازے کھلے تو سب سے پہلے وہ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے ۔ وہی سامان جو انہوں نے خود بنکاک ایئرپورٹ پر رکھا، اسے اٹھانے کی بجائے ساکت کھڑے رہے۔ چند ہی سیکنڈ میں دروازہ کھلنے کے بعد تین چار پروٹوکول افسران تیزی سے داخل ہوئے اور کھٹاک سے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے اشارے سے سلام کا جواب دیا اور اسی اشارے سے سامان کی نشاندہی کی۔ آنے والوں نے تندہی سے ان کا سامان اٹھایا اور آئیں سر آئیں سر کی گردان کرتے ہوئے انہیں لے کر تیزی سے نیچے اتر گئے ۔ لاہور ایئرپورٹ اترتے ہی ان کا سینہ پھول کر کم از کم چار انچ بڑھ گیا۔ پورے سفر میں جس سامان کو عام مسافر کی طرح انہوں نے اٹھایا اور رکھا، سرزمین وطن پر پاؤں پڑتے ہی پروٹوکول کا خناس ان کی نس نس میں داخل ہو گیا۔
وزیر اعلی پنجاب نے سوشل میڈیا کی آگ بجھانے کے لئے فوراً ایس ایچ او شفیق کی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔ حوالات میں بند اس کی فوٹیج کو اہمتام سے میڈیا پر دکھایا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ اگر ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو ایس ایچ او شفیق حوالات میں نہیں بلکہ شاید اپنے سینئیر سے شاباش وصول کر رہا ہوتا اور 60 سالہ موٹر سائیکل سوار اپنے زخم سہلا رہا ہوتا ۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ حکمرانوں اور اشرافیہ نے پروٹوکول کی پابندی کرانے میں آج تک جس تسلسل کے ساتھ بے دردی سے پولیس اہلکاروں کو استعمال کیا، وہ پروٹوکول توڑنے والوں سے یہی سلوک روا رکھنے کو ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔ اگر پروٹوکول واقعی " ٹوٹ" جاتا تو بھی ایس ایچ او شفیق کی ہی شامت آنی تھی۔ وہ بے چارہ کرتا بھی تو کیا کرتا۔