ضرورت ایجاد کی ماں
- تحریر خالد محمود اوسلو
- سوموار 03 / فروری / 2025
ضرورت ایجاد کی ماں ہے کا محاورہ ہم سب نے سُن رکھا ہے۔ البتہ اس کی تازہ ترین مثال دیکھ کر اس میں پوشیدہ اصلی مطلب کا شعور اس وقت حاصل ہوا، جب چند دن پہلے چین کی طرف سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق نئی ٹیکنالوجی کے منظر عام پر لانے کی دھمکاخیز خبر نے پوری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا۔
میرےذہن پہ بھی ماضی بعید سے نقش مدہم ہوتی، اس محاورے کی تصویر میں نیا رنگ بھر دیا۔ جیسا کے ہم سب جانتے ہیں پچھلی ایک دہائی سے چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی کے پیش نظر بین الاقوامی سطع پر امریکہ اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی رقابت عروج پا چکی ہے۔ امریکہ اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی فکر میں مبتلا ہے اور چین کی ترقی کو اپنی اجارہ داری کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کی ترقی میں روڑے اٹکانے کا ہر حربہ بروئے کار لا رہا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار کے طور پر امریکہ کی طرف سے چین کو جدید ٹیکنالوجی کے علم سے محروم رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔
اپنے اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے امریکہ نے چین پر جدید ٹیکنالوجی کے حصول تک رسائی کو دشوار بنانے کے لیے تجارتی پابندیاں متعارف کرائی تھیں۔ تاکہ چین ایسے جدید پرزے حاصل نہ کر سکے جن کو استعمال میں لا کر وہ جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے قابل ہو جائے، جو مستقبل قریب میں زندگی کے ہر شعبہ کے لیے ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔ چاہے یہ صنعتی پیدوار ہو یا پھر روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے آلات یا پھر مستقبل کا دفاعی اسلحہ۔
مصنوعی ذہانت کو بلا شبہ مسقبل قریب میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کلیدی کردار حاصل ہو گا۔ امریکہ اپنی ٹیکنالوجی برتری کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کا خواں ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی طاقت کا سر چشمہ ہے۔ لیکن چین کے سائنسدانوں نے پوری دنیا کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا جب وہ امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی ذہانت اور تحقیق پر مبنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی اپنی ایپ تیار کرکے مارکیٹ میں لے آئے۔ چینی سائنسدانوں نے سیمی کنڈکٹر ڈیوائس پر پابندی ہونے پر ایک متبادل ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اپنی ایپ تیار کر لی۔ جو نہ صرف مارکیٹ میں پہلے سے موجود امریکن مصنوعی ذہانت کی ایپ کے مد مقابل آکھڑی ہوئی بلکہ اس پر انتہائی کم لاگت نے پہلے سے موجود مہنگی ایپ کی مارکیٹ ویلیو کو بُری طرح متاثر کیا۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت والی ایپ تیار کرنے والی کمپنیوں کے شئیرز کو زوال پذیر ہوئے۔ اس سے دنیا کی اسٹاک ایکسچیجز بحران سے دوچار ہو گئیں۔
امریکہ اپنے تمام تر حربوں کے باوجود چین کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیچھے دھکیلنے میں ناکامی پر شدید ہیجان میں مبتلا دکھائی دیا۔ جبکہ امریکن کمپنیاں اپنی طے شدہ حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج کے برعکس صورتحال سے ندامت کو چھپاتی نظر آئیں۔ گو یہ سب کچھ حیرت انگیز ہے لیکن غیر متوقع نہیں۔ کیونکہ چین پچھلی دو دہائیوں سے نقلی علم پر انحصار کو ترک کر کے مرحلہ وار ایجاداتی علم کی راہ پر گامزن تھا۔ دوسروں کی مصنوعات کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ چین اپنی قومی ایجاداتی صنعت کی راہ بھی ہموار کرتارہا۔ اور اب مصنوعی ذہانت کے میدان میں تجارتی پابندیوں کے باوجود اپنا لوہا منوا کر یہ ثابت کر دیاہے کہ چین اب ایک ایجاداتی صنعت کا علمبردار بھی بن چکا ہے۔ اُسے مستقبل کی ایک بڑی اقتصادی طاقت بننے سے رُوکنا آسان نہیں۔
اسی بحث کے دوران یہ نکتہ بھی اُبھرا کہ چین کو امریکہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں نے نئی ایجادات کی راہ پر ڈالا۔ جو پابندیوں کی عدم موجودگی میں شاید چین کی ضرورت نہ بنتی اور اس طرح یہ محاورہ سچ ثابت نہ ہوتا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ چین آگے بڑھنے کا تہیہ کر چکا تھا اور اُسے ترقی کی راہ میں حائل کی جانے رکاوٹوں کاادراک تھا۔ ان سے نبردآزما ہونے کے لیے کمربستہ بھی تھا اور اس کے لیے درکار تمام وسائل یکجاکر چکا تھا۔
چین کے پاس اس وقت دولت کی فروانی ہے جو اُسے تحقیق کے لیے درکار ہے اور بہت بڑی تعداد میں اس کے کے پاس دنیا کےجدیدعلم سے آراستہ ذہین ترین افرادی قوت دستیاب ہے جو مالی وسائل کی دستیابی کے سہارےاپنے ملک اور قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے بیتاب ہے۔ چین نے دنیا کی نقل کی، دنیا سے سیکھا اور اب دنیا کو سکھا رہا ہے۔ شاید چین کو معلوم ہے کہ روز اول سے دنیا میں ترقی، علم اور جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت رہی ہے۔ یہی طاقت اور خود مختاری کو حاکمیت سے ہمکنار کرتی ہے۔