تجاوزات کے خلاف آپریشن اور افسروں کی پھرتیاں
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 03 / فروری / 2025
سوشل میڈیا پر وڈیو دیکھی پہلے تو مجھے بہت دلچسپ لگی، ایک شخص آگے آگے چل رہا ہے اُس کے پیچھے ایک سؤا بردار اور وردی میں ایک دو پولیس والے ہیں، وہ کسی کار، رکشہ اور موٹر سائیکل کی طرف اشارہ کرتا ہے تو ساتھ آنے والا شخص ٹائر میں سؤا مار کر پنکچر کر دیتا ہے۔
میں سمجھا یہ اشارے کرنے والا کو ئی ٹک ٹاکر ہے،زیادہ سے زیادہ ویوز لینے کے چکر میں وڈیو بنوا کر یہ ڈرامہ کر رہا ہے۔آپ کو تو پتہ ہے آج کل یو ٹیوب ٹک ٹاک پر زیادہ ویوز لینے کی کتنی دوڑ لگی ہوئی ہے۔اِس کے پیچھے ڈالرز کمانے کا چکر بھی ہے لیکن جب میں نے اس کی وڈیو پر کمنٹس پڑھے تو معلوم ہوا موصوف صادق آباد کے ڈپٹی کمشنر ہیں، جنہوں نے سڑکیں خالی کرانے کے لئے یہ حل نکالا ہے کہ دکانوں کے سامنے کھڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں،رکشوں کے ٹائر پنکچر کر دیئے جائیں۔گویا نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
آج ایک خبر پڑھی کہ ٹائروں کو سؤا مار کر پنکچر کرنے والوں کو معطل کر دیا گیا ہے اے سی صاحب کوکچھ نہیں کہا گیا، جو اِس سا رے کھیل کے مرکزی کردار،بلکہ ہیرو تھے۔ کیونکہ انہی کے اشارے اور نشاندہی پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ٹائر پنکچر کئے جا رہے تھے۔مجھے کئی دہائیوں پہلے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آ گیا۔صدر بازار کینٹ میں پولیس موٹر سائیکلوں کی ہوا نکال دیتی تھی،جس کے بعد گھسیٹ کر موٹر سائیکل کسی پنکچر والی شاپ پر لے جانی پڑتی اور ہوا بھروا کر آگے کا سفر طے ہوتا۔کئی دہائیوں میں اتنی ترقی توہم نے بھی کر لی ہے کہ اب ہوا نکالنے کی بجائے سیدھا ٹائر ہی پنکچرکیا جا رہا ہے۔سو دو سو روپے تو لگیں گے ہی، جو خجالت اور زحمت ہو گی وہ علیحدہ ہے۔
اب سوشل میڈیا پر لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کیا یہ طریقہ مناسب ہے؟ کیا اس طرح کسی کی گاڑی یا موٹر سائیکل کو نقصان پہنچانا قانونی ہے۔ جب سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے کا حکم ہے،پنجاب میں تعینات افسر دن رات اِسی کام میں مصروف ہیں کہ کوئی نیا کر کے دکھائیں۔بلاشبہ اس آپریشن کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے،بازار کھلے ہو گئے ہیں، شہروں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔ایسے آپریشن کی عرصہ دراز سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ مگر سیاسی طور پر کوئی حکمران تاجروں اور دیگر بااثر افراد کی مخالفت اور متوقع احتجاج کے پیش نظر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہیں ڈالتا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انتظامیہ کو فری ہینڈ دے کر ایک تاریخ رقم کر دی کہ ہر قسم کی تجاوزات کا خاتمہ کر دیا جائے۔اب اِسی آڑ میں اگر کچھ افسر نمایاں ہونے کے لئے شعبہ بازی کر رہے ہیں تو اُن پر بھی نظررکھنے کی ضرورت ہے۔ ملتان میں ایک بہت اچھا کام ہوا ہے۔ انتظامیہ نے حسین آگاہی روڈ کو تجاوزات سے پاک کیا ہے تو ساتھ ہی پارکنگ کے لئے ایک جگہ بھی مختص کر دی ہے۔گاڑیاں وہاں پارک کر کے بازار میں شاپنگ کی جا سکتی ہے۔کمشنر ملتان عامر کریم خان نے بوسن روڈ پر خود پیدل چل کر راستے میں آنے والے تمام شاپنگ مالز کی انتظامیہ کو اپنی پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی کرنے کی وارننگ دی۔ ایک وقت دیا،اُس کے بعد عملدرآمد کیا۔اب بوسن روڈ جو ہمیشہ ان شاپنگ پلازوں کی سڑک پر کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے بلاک رہتی تھی، ٹریفک کے لئے کھلی رہتی ہے۔ اِس قسم کے کام کرنے کی بجائے اگر کوئی افسر سؤابردار لے کر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ٹائر پنکچر کرنا شروع کرنا دیتا ہے اور پارکنگ کے لئے جگہ مختص نہیں کرتا تو اس کی مینجمنٹ پر سوالات تو اُٹھیں گے۔
لاہور میں انتظامیہ نے ایک اچھا کام یہ کیا ہے کہ کوٹ لکھپت کے قریب ایک خوبصورت ریڑھی بازار بنا دیا ہے جہاں ایک ہی قطار میں کاؤنٹر بنائے گئے ہیں۔ سڑک سے ہٹ کر ایک خاص حدود میں رہ کر ریڑھی فروش اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایسے بازار ہر شہر میں لگنے چاہئیں اور شنید ہے کہ مریم نواز نے اس کا حکم بھی دے دیا ہے۔بعض بنیادی حقیقتوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ ایک پختہ تجاوزات ہیں جو صریحاً لاقانونیت کے زمرے میں آتی ہیں،اپنی حدود سے کئی فٹ باہر آ کر، پختہ تھڑے بنا کر،اپنا سامان سجا کر بیٹھنا پھراُس پر اعتراض کرنے والوں کو دھمکیاں بھی دینا ایک شرمناک عمل ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف جو آپریشن ہو رہا ہے، اُس سے عوام بہت خوش ہیں۔
دوسری قسم کی تجاوزات غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ بنانے،ریڑھیاں کھڑی کرنے، حدود سے باہر کاؤنٹر لگانے، سڑک پر اشیا رکھ کر بیچنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب یہ بڑی نازک سی تفریق ہے۔ اس میں دونوں پہلوؤں کو پیش ِ نظر رکھنا پڑے گا۔یہ ایک بڑی آبادی کے روزگار کا معاملہ بھی ہے اور دوسری طرف رکاوٹوں کو پیدا کرنے والا ذریعہ بھی ہے۔کل جب میرے علاقے قاسم بیلہ میں ایک بڑا آپریشن ہوا تو میں شام کے وقت پھل خریدنے اُسی بازار گیاں جہاں ریڑھی والوں کی وجہ سے چلنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ سڑک پر ویرانی طاری تھی اور یوں لگتا تھا سو فٹ کھلی سڑک آج ہی بنائی گئی ہے۔میں ریڑھی والوں کو ڈھونڈ رہا تھا، جن سے روزانہ ہی خریداری کرتا تھا۔حتیٰ کہ مجھے شیدا ریڑھی والا بھی کہیں نظر نہیں آیا۔
ایک جگہ رکا تو دو ریڑھی والے کہیں سے دیکھ کر میرے پاس آ گئے۔ میں نے کہا سناؤ کیا بنی؟ کہنے لگے آپ کے سامنے ہی ہے،ہمارا تو مال اور ریڑھیاں بھی لے گئے ہیں۔ میں نے انہیں کہا سب کو معلوم ہے تجاوزات کے خلاف مہم چل رہی ہے۔کیا تمہیں پتہ نہیں تھا۔ ایک کہنے لگا اِس بازار میں توآج تک آپریشن ہوا نہیں،میں نے کہا تمہیں معلوم نہیں وزیراعلیٰ مریم نواز کا پیغام چل رہا ہے۔ تجاوزات کے خلاف ہر سڑک، ہرعلاقے، بلکہ ہر محلے میں آپریشن ہو گا۔اِس دوران دو تین اور لوگ بھی آ گئے۔ اُن میں سے ایک بولا، کہتے تو پہلے بھی سب تھے، مگر عمل اِس بار ہو رہا ہے۔ایک ریڑھی والے نے کہا، بابو جی ہم کہاں جائیں،ہمارے تو بچے بھوکے مر جائیں گے۔ ہمیں تو کوئی کام بھی نہیں آتا، کم از کم کوئی ایسی جگہ ہی دے دیں جہاں ہم ریڑھیاں لگا کے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔میں نے کہاں ہاں تمہارا یہ مطالبہ جائز ہے۔ مریم نواز نے لاہور میں ایک ریڑھی بازار بنوایا ہے۔ ملتان کی انتظامیہ کو بھی مختلف علاقوں میں مناسب جگہوں پر ایسے بازار بنوانا چاہئیں تاکہ لوگوں کو اشیابھی ملتی رہیں اور تمہارا روزگار بھی جاری رہے۔
کسی حکومت کی طرف سے جب ایسی کوئی مہم چلتی ہے تو انتظامی افسروں کی طرف سے دو قسم کا رسپانس سامنے آتا ہے۔ایک وہ ہوتے ہیں جو ترکھان کی طرح کلہاڑی اُٹھا کر نکل پڑتے ہیں اور راستے میں جو درخت آتا ہے اُسے کاٹتے چلے جاتے ہیں۔ دوسرے افسر وہ ہوتے ہیں جو مسئلے کے تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہیں، علاقے فتح کرنے نہیں نکلتے،بلکہ یہ سوچ کر فیصلے کرتے ہیں کہ زندگی کا پہیہ بھی چلتا رہے اور مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا مقصد بھی ہرگز یہ نہیں ہو گا کہ تجاوزات کے اِس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں لوگ دو وقت کی روٹی سے محروم ہو جائیں۔ اس لئے سڑکوں سے ریڑھیاں ہٹانے کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے خاص جگہ مختص کرنے پر بھی توجہ دی جائے۔اِسی طرح ہر بڑے بازار کے ساتھ پارکنگ ایریاز رکھے جائیں تاکہ گاڑی یا موٹر سائیکل پارک کر کے خریداری کی جا سکے۔
جن پلازوں یا شاپنگ مال کی اپنی بیسمنٹ پارکنگ ہے، لیکن انہوں نے وہاں دکانیں کھلوا دی ہیں،اُن کے خلاف کارروائی کر کے وہ دکانیں مسمار کی جائیں۔ اچھا کام ہو رہا ہے تو اسے اچھے انداز سے کِیا جائے، یہی اصل کامیابی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)