اسلام آباد ہائیکورٹ میں تین نئے ججوں کی تعیناتی

سلطانی کا واحد مقصد رعایا کو پنجابی محاورے والی ’نتھ‘ ڈال کر رکھنا ہے۔ مجھ جیسے سادہ لوح افراد کو مگر جوانی ہی سے بہت ہی زیادہ پڑھے لکھے صاحبان فہم یہ کہتے ہوئے سلطانوں سے پنگا لینے کے مشورے دیتے رہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔

رواں صدی کے آغاز میں انٹرنیٹ کی بدولت ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ بھی ایجاد ہوگئے۔ وہ حقائق جو سرکار کی کڑی نگاہ تلے چلائے میڈیا میں بیان نہیں ہوسکتے تھے، وہ ان پلیٹ فارموں کے ذریعے فی الفور عوام کے روبرو آجاتے ہیں۔ فرض کرلیا گیا ہے کہ حقائق جان لینے کے سبب جو شعور ابھرا ہے وہ سلطانوں کو من مانی کرنے نہیں دیتا۔

میری بدقسمتی کہ آج سے تقریباً پانچ برس قبل زینب توفیقی کی لکھی ایک کتاب پڑھ لی۔ اس کالم میں اس کتاب کا بارہا ذکر ہواہے۔ محض یاددہانی کے لیے بیان کردیتا ہوں کہ زینب ترک ہے۔ صحافت کی تمنا اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ ترکی میں لیکن اردوان نام کے بھی ایک سلطان ہیں۔ خود کو خلافت عثمانیہ کے احیا کی علامت تصور کرتے ہیں۔ صحافت کے چاؤ میں زینب مزید تعلیم حاصل کرنے امریکا آگئی۔ وہاں پہنچی تو مصر میں عرب بہار شروع ہوچکی تھی۔ اس نے امریکی اخبارات سے رابطہ کیا۔ اپنے خرچ پر مصر پہنچی اور وہاں مظاہرین التحریر اسکوائر میں لگائے خیموں میں رہتے ہوئے عرب بہار کے نام پر ابھری تحریک کے کئی حیران کن پہلو ہم لوگوں کے سامنے لاتی رہی۔ ترک ہونے کی وجہ سے مصری ثقافت اس کے لیے اتنی بھی اجنبی نہیں تھی۔ عورت ہونے کی وجہ سے بلکہ مصری خواتین سے گہرے تعلقات استوار کرنے کی بدولت، وہ احتجاجی تحریک کے کئی ایسے پہلو بھی ڈھونڈنے میں کامیاب رہی جو شاید انتہائی تربیت یافتہ محققین بھی تلاش نہ کرپاتے۔

بالآخر تحریک عرب بہاربھی تاریخ میں ابھری کئی تحاریک کی طرح اپنے عروج کو چھوکر زوال کی پاتال میں گم ہوگئی۔ اس کے زوال نے زینب کو ایک کتاب لکھنے کو اُکسایا۔ عرب تحریک کی شدت اور گہماگہمی کا حقیقی سبب امریکا کی ان دنوں وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت دیگر سیانے افراد نے ٹویٹر کو بتایا تھا۔ ’سٹیزن جرنلزم‘ کی علامت ٹھہرائے ٹویٹر کو دورِ حاضر کا حقیقی ذریعہ ابلاغ ٹھہرایا گیا جو ’خبر‘ کو چند ہی لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچادیتا ہے۔ اس کی بدولت برجستہ انداز میں احتجاجی مظاہرے کسی بھی وقت کسی بھی مقام پر شروع ہوجاتے ہیں۔

عرب تحریک کے انتقال پر ملال نے مگر زینب کو ٹویٹر کی اہمیت وافادیت پر غور کرنے کو مجبور کیا۔ طویل تحقیق کے بعد اس نے مصر میں گزارے دنوں کی بنیاد پر ذہن میں ابھری عملی مثالوں کے ذریعے ہمیں نئے خیالات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا نام ہے ’’ٹویٹر اور آنسوگیس‘‘۔ چونکا دینے والے عنوان کے ساتھ لکھی اس کتاب کو پڑھیں تو بالآخر پیغام یہ ملتا ہے کہ مقابلہ اگر ٹویٹر اور آنسو گیس میں ہو تو بالآخر جیت آنسوگیس ہی کی ہوگی۔ یہ لکھنے کی شاید ضرورت نہیں کہ ’آنسوگیس‘ اس کتاب کے تناظر میں ریاستی جبر کا استعارہ ہے۔ وسیع تر تناظر میں پنجابی زبان میں بھی ایک سوال اٹھایا جاتا ہے جو معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ’ربّ‘ کے مقابلے میں حریف کا گھونسہ نزدیک تر ہوتا ہے یا نہیں۔ ’ربّ‘ اس محاورے کے تناظر میں شفقت ورحم کی حتمی علامت ہے اور حریف کا گھونسہ درحقیقت طاقت ور کے ہاتھ میں آئی غلیل یا آنسوگیس۔

فروری 2024 کے انتخابات کے بعد سے مجھ جیسے قلم گھسیٹوں کے سامنے حقارت سے یہ سوال رکھا جاتا ہے کہ اس روز سوشل میڈیا نے پاکستان میں اپنی طاقت ثابت کی یا نہیں۔ ’ہاں‘ کے سوا اس سوال کا کوئی اور جواب ہو نہیں سکتا۔ بلے کے انتخابی نشان سے محروم ہوجانے کے باوجود تحریک انصاف کے کارکنوں نے اپنی قیادت کے نامزد کردہ امیدواروں کو جنھیں ’آزاد‘ ٹھہراتے ہوئے مختلف ا نتخابی نشان دیے گئے تھے موبائل فونوں کی مدد سے حیران کن ووٹوں کی حمایت سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک پہنچایا تھا۔ دیانتداری سے یہ بات تسلیم کرنے کے بعد میرا جھکی ذہن یہی سوال اٹھانے سے مگر باز نہیں رہتا کہ ’8فروری کی انہونی‘ نے تحریک انصا ف اور اس کے قائد کو ٹھوس سیاسی حوالے سے بالآخر فائدہ کیا پہنچایا ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہوں تو حقائق سمجھنے کے لیے میری رہ نمائی کے بجائے شکست خوردہ ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

سیاست کی حرکیات وجدلیات کو 8فروری 2024 جیسی انہونیوں سے مسحور ہوکر نظرانداز کرنے کی وجہ سے ہم کارکن صحافی پیکا ایکٹ کا اطلاق روکنے میں ناکام رہے۔ ناکام ہونے کے باوجود عدلیہ سے مرہم کی توقع باندھی جارہی تھی۔ عدلیہ کا ذکر ہو تو اسلام آباد ہائی کورٹ ہی نگاہ میں آتا ہے۔ چند روز قبل کسی صحافی نے نہیں بلکہ صحافی سے وکیل ہوئے ایک صاحب نے وطن عزیز میں بند ہوئے مگر وی پی این کی بدولت اکثر میسر کبھی ٹویٹر اور ان دنوں ایکس کہلاتے پلیٹ فارم پر ’انکشاف‘ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعیناتی کے لیے لاہور سے ایک جج صاحب کو دعوت دی جائے گی۔ مجھے اس ٹویٹ کی خبر اس ہاہاکار کی بدولت ملی جو ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کی آزادی کو بے چین ساتھی مچائے جارہے تھے۔ ابھی یہ دہائی جاری تھی تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ عزت مآب ججوں نے ایک خط لکھ دیا۔ اس خط کے ذریعے انہوں نے سرکار کو متنبہ کیا کہ دیگر ہائی کورٹوں سے ججوں کو لے کر اسلام آباد تعینات کرنا ’آئین کے ساتھ فراڈ‘ ہوگا۔ ابھی اس خط کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہفتے کی شام صدر مملکت کے دستخطوں سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے ایک نہیں تین نئے ججوں کی تعیناتی ہوگئی ہے۔ نئے آنے والے جج لاہور، سندھ اور بلوچستان سے تشریف لائے ہیں۔

میرے دل خوش فہم کو امید تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ عزت مآب ججوں کی جانب سے لکھے خطے کے بعد حکومت دیگر ہائی کورٹس سے ججوں کو یہاں تعینات کرنے کے بارے میں ذرا سوچ بچار سے کام لے گی۔ سوچ میرے ذہن میں یہ بھی آئی کہ اسلام آباد کے وکلا دیگر شہروں سے ججوں کو اسلام آباد لانے کے آئیڈیا کی مخالفت میں ڈٹ سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں 2007 میں نمودار ہوئی عدلیہ بحالی (آزادی) جیسی تحریک بھی شروع ہوسکتی ہے۔ دورِ حاضر کے ہمارے سلطانوں نے مگر انتظار ہی نہیں کیا۔

’جھٹکے‘ کی صورت ایک نہیں تین نئے ججوں کو دیگر ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔ سلطانوں کی ڈالی پنجابی محاورے والی ’نتھ‘ فی الوقت اپنی جگہ قائم ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)