اسماعیلیوں کے پیشوا پرنس کریم آغا خان چہارم کا انتقال کرگئے

  • بدھ 05 / فروری / 2025

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے اعلان کیا ہے کہ اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا پرنس کریم الحسینی آغا خان چہارم یورپی ملک پرتگال میں 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

پرنس کریم الحسینی ’آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک‘ کے بانی تھے۔ ان کے انتقال پر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پرنس کریم الحسینی شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں موروثی امام تھے جن کے جانشین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق پرنس کریم کے جانشین کا نام ان کی وصیت میں موجود ہوگا، جو ان کے اہلِ خانہ اور دیگر مذہبی رہنماؤں کی موجودگی میں پڑھی جائے گی۔ ابھی ان کی وصیت پڑھنے اور جانشین کے اعلان کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

آغا خان چہارم کے جانشین کا ممکنہ انتخاب ان کی اولاد یا مرد رشتے داروں میں سے ہو سکتا ہے۔ اسماعیلی کمیونٹی کی ویب سائٹ کے مطابق دنیا میں اسماعیلیوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ کے درمیان ہے اور ان کی بیش تر آبادی وسطی و جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں آباد ہے ۔

اسماعیلی کمیونٹی کے مطابق پرنس کریم کا شجرۂ نسب براہِ راست پیغمبرِ اسلام سے ملتا ہے۔ وہ 1936 میں یورپی ملک سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر وقت افریقی ملک کینیا کے شہر نیروبی میں گزارا تھا۔ ان کے دادا آغا خان سوم کے انتقال کے بعد 1957 میں انہیں افریقی ملک تنزانیہ میں اسماعیلی فرقے کا پیشوا بنایا گیا تھا۔ پرنس کریم کے دادا نے ان کے والد کی جگہ انہیں پیشوائی کے لیے نامزد کیا تھا۔

جس وقت پرنس کریم آغاخان اپنی کمیونٹی کے پیشوا بنے تو ان کی عمر 20 برس تھی اور اس وقت وہ ہارورڈ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ پرنس کریم الحسینی آغا خان چہارم نے وراثت میں ملنے والی دولت کا بڑا حصہ انسانی خدمت کے منصوبوں پر لگایا۔ ان کے ترقیاتی کاموں اور دنیا میں رواداری کے فروغ کی کوششوں کی وجہ سے انہیں کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی دی گئی۔

ان کے انتقال پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی ہمدرد رہنما تھے۔ انہوں نے پرنس کریم کو ایک بہترین دوست قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ایک بیان میں پرنس کریم کو امن، رواداری اور ہمدردی کی علامت قرار دیا۔ پرنس کریم چہارم کے پاس برطانیہ اور پرتگال کی شہریت بھی تھی۔

پرنس کریم کے نیٹ ورک کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ میں ہے جب کہ وہ ایک طویل عرصے فرانس میں بھی مقیم رہے جہاں ان کی رہائش موجود ہے۔ وہ کئی سال سے پرتگال میں مقیم تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ہے۔ آغاخان چہارم کی تدفین بھی لزبن میں کی جائے گی تاہم اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی اور متعدد پوتے پوتیاں ہیں۔