شہباز شریف اور حمزہ شہباز رمضان ملز ریفرنس میں بری

  • جمعرات 06 / فروری / 2025

لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بری کردیا ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ اینٹی کرپشن کورٹ کے جج سردار اقبال ڈوگر نے 3 فروری کو بریت کی درخواستوں پر محفوظ کیا تھا۔

محفوظ فیصلہ سُناتے ہوئے جج سردار اقبال ڈوگر نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو بری کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر قومی خزانے سے رمضان شوگر ملز کے لیے نالے بنانے کا الزام تھا۔ جبکہ نیب قانون میں ترمیم کے بعد یہ ریفرنس اینٹی کرپشن کورٹ کو منتقل کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران مدعی اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔ مدعی ذوالفقار علی نے بیان ریکارڈ کروایا کہ انہوں نے کوئی درخواست نہیں دی۔ مدعی نے بیان دیا کہ 1991 میں گندہ نالہ اپنے خرچ پر بنانے کا حلف نامہ سے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔

اس کیس میں سات گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ گزشتہ سماعت پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ رکن پنجاب اسمبلی مولانا رحمت اللہ کی درخواست پر گندے نالے کے لیے ڈائریکیٹو جاری کیا گیا۔

اس پراجیکٹ کو پنجاب اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ دوسری جانب پروسیکشن کے وکیل محمد وسیم نے دلائل میں کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی ایسا گواہ نہیں ہے جسے پیش کرنا ہے۔ تمام گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ تمام شواہد فائل کے ساتھ لگائے ہوئے ہیں۔‘

سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ ’اس میں جو متعلقہ ایم پی اے تھے وہ وفات پا چُکے ہیں اس میں تمام گواہ سرکاری ہیں۔ اس کیس میں بہت سے گواہ غیر متعلقہ ہیں۔‘