مشتعل ہجوم نے ڈھاکہ میں شیخ مجیب کا گھر جلا دیا
ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوامی لیگ کے وزرا اور کارکُنان کی رہائش گاہوں اور مختلف دفاتر پر حملوں، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ بدھ کی شام ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمٰن کی رہائش گاہ اور معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی رہائش گاہ پر بھی حملے کیا گیا اور انہیں منہدم کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ کھلنا، چٹاگانگ، سلہٹ، رنگ پور سمیت ملک کے کئی دیگر مقامات پر عوامی لیگ کے رہنماؤں کے گھروں اور شیخ مجیب کے مجسموں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ بنگلہ دیشی پولیس ذرائع کی جانب سے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ڈھاکہ میں معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائش گاہ سدھاسدان پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس ذرائع نی بی بی سی کو بتایا کے جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ عمارت کی دو منزلوں پر آگ لگی ہوئی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ ’ایسے مشتعل لوگوں کے درمیان پولیس کیا کر سکتی ہے؟‘
دوسری جانب کُشتیا میں عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکرٹری محبوب العالم حنیف کے گھر کو بھی بلڈوزر کی مدد سے گزشتہ شب مسمار کردیا گیا۔ ایک مقامی پولیس عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پی ٹی آئی روڈ پر تین منزلہ عمارت کو مسمار کرنے کا کام بدھ کی رات 10 بجے کے قریب شروع ہوا۔ پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ پہلے گھر کے مین گیٹ اور چار دیواری کو گرایا گیا پھر بلڈوزر کی مدد سے ہی گھر کی مکمل عمارت کو بھی گرا دیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو جس دن شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اُسی دن محبوب العالم حنیف کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور اسے آگ لگا دی گئی تھی۔ بنگلہ دیش میں کھلنا شہر کے مولایاپوٹا علاقے میں واقع ’شیخ باری‘ کے نام سے مشہور ایک گھر کو بھی مسمار کیا گیا ہے۔ یہ گھر بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے چچا کا ہے۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنے والد اور بنگلہ دیش کے بانی کے گھر کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ (مخالفین) چند بلڈوزر سے ملک کی آزادی کو تباہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ عمارت کو گِرا سکتے ہیں لیکن تاریخ کو مٹا نہیں سکتے۔‘ بنگلہ دیش میں حالیہ مظاہروں کی ابتدا بدھ کی شام اس وقت ہوئی جب شیخ حیسنہ واجد کی پارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ بدھ کو رات گئے فیس بُک کے ذریعے تقریر کریں گی۔ بدھ کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کو چھ ماہ مکمل ہو چُکے ہیں۔
یہ سارا معاملہ اُس وقت شروع ہوا کہ جب شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے طلبا ونگ ’چھاترا لیگ‘ نے گزشتہ روز ایک آن لائن پروگرام کا اہتمام کیا جس میں شیخ حسینہ کو بھی آن لائن خطاب کی دعوت دی گئی۔ پروگرام بدھ کی رات نو بجے فیس بُک کے ذریعے نشر ہونا تھا۔
جیسے ہی اس پروگرام کی خبر پھیلی، شیخ حیسنہ مخالف مظاہرین نے ’بلڈوزر کے ساتھ مظاہرے شروع کر دیے۔ جس کے بعد پروگرام کے شروع ہونے سے قبل ہی مظاہرین نے بیلچوں اور ہتھوڑوں کی مدد سے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کی رہائش گاہ دھان منڈی 32 ہر حملہ کر دیا۔