کشمیر جنگ سے حاصل نہیں ہوگا

گزشتہ روز پاکستان نے ہر سال کی طرح یوم یک جہتی کشمیر منایا۔   ملک کے علاوہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں نے تقریبات کا اہتمام کیا اور دہائیوں سے دہرائے گئے بے مقصد اور لایعنی دعوؤں  کی بنیاد پر کشمیر آزاد کرانے اور اس پر پاکستان کا قبضہ بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ البتہ اس سال  کی سب سے تشویشناک  تقریر بدقسمتی سے ملک کے آرمی چیف نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے تین جنگیں لڑ چکا ہے۔ اگر مزید دس جنگیں بھی لڑنی پڑیں تو  ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

ایک ایسے موقع پر  یہ تقریر غیر ضروری ہے جب پاکستان  کو امن و خوشحالی کی ضرورت ہے ۔  اسے  اپنے ہمسایہ ملکوں کو للکارنے کی بجائے، ان سے تعلقات استوار  کرنے اور معاشی ترقی کے لیے کام کرنا چاہئے تاکہ برصغیر میں غربت اور احتیاج کا خاتمہ ہوسکے۔   پاکستان میں آبادی میں اضافہ کی شرح دنیا بھر میں  تیز تر ہے اور دیگر امور کے علاوہ اسے مستقبل قریب میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہونے کا امکان ہے۔ آج ہی ماحولیات کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں مقررین نے  ملک پر موسمی تبدیلیوں کے اثرات کا ذکر کیا اور اس بارے میں فوری طور سے چوکنا ہونے اور طرز زندگی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔  اس موقع پر  اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان کے موسمیاتی چیلنجز کے لیے 2050 تک سالانہ 40 سے 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری  درکار ہوگی۔

ایک ایسے وقت میں جب  ملک کو بنیادی سماجی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے کثیر وسائل کی ضرورت ہے، ملک کی مسلح افواج کا سربراہ کشمیر کی آزادی کے لیے دس جنگیں لڑنے اور کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے کا اعلان کررہا ہے۔  اس قسم کے بیانات سیاسی لیڈروں کے منہ سے سنے جائیں تو پریشانی لاحق نہیں ہوتی کیوں کہ  وہ عوام کے جذبات کو ابھار کرہی اپنی نااہلی و ناکامیوں پر پردہ ڈال سکتے ہیں ۔ تاہم  فوج کے سربراہ کو  کسی بھی مقصد کے لیے بھی  خواہ وہ کیسا ہی مقدس کیوں نہ ہو جنگ لڑنے  بلکہ مسلسل حالت جنگ میں رہنے  کا اعلان نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو  یہی ہے کہ  مسلح افواج کا سربراہ ہونے کے ناتے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا  ہے اور ملک  کے اندر اور باہر اس کے بارے میں  مختلف نوعیت کا رد عمل سامنے آتا ہے۔ اس کے علاوہ پروفیشنل سولجر کے طور  پر پاک فوج کے سربراہ کو بہتر طور سے معلوم ہونا چاہئے کہ   اس وقت  جنگ نعروں اور کسی ’غیبی مدد‘ سے لڑی اور جیتی نہیں جاسکتی بلکہ اس کے لیے وسائل، ٹیکنالوجی اور ان  تک دسترس کی شدید ضرورت ہے۔ اس کی تیسری اور اہم ترین وجہ یہ ہے کہ  کشمیر کے بارے میں پاکستان کا سرکاری مؤقف  یہ ہے کہ وہ اس تنازعہ کو بھارت کے ساتھ مذاکرات کے  ذریعے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔  کشمیر  کے سوال پر دنیا کے تمام اداروں میں پاکستان اسی بنیاد پر اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔ ملک کے موجودہ آئینی انتظام میں اس پالیسی کا فیصلہ خواہ بالواسطہ طور سے  جی ایچ کیو کے مشورے ہی سے کیا گیا ہو، لیکن اسے ملکی حکومت اور پارلیمنٹ میں طے کی ہوئی حکمت عملی ماناجاتا ہے۔ فوج  منتخب حکومت کے زیر انتظام ایک عسکری ادارہ ہے جو آئینی طور سے حکومت کے فیصلوں کا پابند ہے۔ اسی لیے اس کے سربراہ کو  جنگ کے حوالے سے جذبات میں بھی کوئی ایسا بیان نہیں دینا چاہئے جو اعلان شدہ پالیسی کے  خلاف ہو۔ کیوں کہ انہیں اس کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت لانے کے لیے اختیار   کیے گئے ہائیبرڈ انتظام کی ناکامی کے بعد سے پاک فوج کی اعلان شدہ پالیسی یہی رہی ہے کہ وہ ملکی آئین کی پابند ہے اور کسی سیاسی معاملہ میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اس کے باوجود ملک میں  یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ حکومت  بھی درحقیقت ہائیبرڈ نظام ہی کی پیداوار ہے۔ اسی لیے فارم 45 اور 47 کے حوالے سے  گزشتہ سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں شدید دھاندلی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف مسلسل شہباز شریف کو کٹھ پتلی وزیراعظم کہتی ہے  اور اس حکومت سے بات چیت کی بجائے عسکری اداروں سے معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔ اس کے برعکس  پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدستور یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ   فوج سیاسی معاملات میں ملوث نہیں ہوگی ۔ سیاسی  معاملات سیاست دانوں کو باہمی مذاکرات کے  ذریعے طے کرنے چاہئیں۔ گزشتہ دنوں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے موقع پر جب تحریک انصاف نے بالواسطہ طور سے،  اس معاملہ میں فوجی سرپرستی حاصل  کرنے  کی کوشش کی تو اسے مسترد کردیا گیا۔

ملکی سیاست کے بارے میں ایسا دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کے بعد پاک فوج کا سربراہ کیوں کر ایک ایسے بنیادی  سوال  پر پرامن کوششوں کی بجائے جنگ جوئی کا اعلان کر سکتا ہے جو قومی طور سے طے شدہ  معاملہ ہے۔ یہ دعویٰ کہ ’پاکستان نے کشمیرکی خاطر تین جنگیں لڑی ہیں، 10 اور لڑنی پڑیں تو انشا اللہ لڑیں گے‘  نہ صرف پاکستان کی اعلان شدہ پالیسی سے گریز کا اشارہ دیتا ہے بلکہ زمینی حقائق سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔  کوئی بھی ملک صرف اسی صورت میں کسی جنگ  میں کامیابی کا دعویٰ کرسکتا ہے یا اس کی امید کرسکتا ہے جب اس کے پاس  وسائل موجود ہوں۔ جو ملک روزمرہ اخراجات کے لیے بھی قرض لینے اور  سعودی عرب سے ادھار  پیٹرول  مانگنے پر مجبور ہو ، وہ کس حوصلے پر مسلسل حالت جنگ میں رہنے کا دعویدار ہوسکتا ہے۔ مظفر آباد کے دورہ کے دوران جنرل عاصم منیر کی باتیں جذبہ ایمانی سے تو معمور ہیں اور لوگوں کو پرجوش کرنے کے کام  بھی آسکتی ہیں  لیکن یہ پاکستان کو اس قابل نہیں بناسکتیں کہ وہ جنگ جوئی کے ذریعے بھارت سے مقبوضہ کشمیر  آزاد کرا لے۔  آرمی چیف جن تین جنگوں کا حوالہ دے رہے ہیں، ان میں ناکامی کی وجوہات پر غور فرمالیں تو شاید وہ  خود ہی مزید کوئی  جنگ کرنے کا اشارہ   دینے سے گریز کریں۔ فلسطین کی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی عالمی ایجنڈے پر موجود ہے لیکن ان مسائل کو حل کرانے کے لئے تحمل  کے ساتھ سفارت کاری اور جد و جہد کی ضرورت ہے۔ جنگ جوئی کی کوشش کرنے  کا نتیجہ تو وہی نکلے گا جس کا  سامنا اس وقت غزہ کے 25 لاکھ لوگ کررہے ہیں۔

پاکستان کو مان لینا چاہئے کہ  موجودہ حالات میں پاکستان، بھارت سے تو کجا کسی بھی ملک کے ساتھ  جنگ کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ افغانستان  جیسے بے وسیلہ ملک کے ساتھ بھی   جنگی حالات پیدا کرنا  بھی مناسب نہیں  ہوسکتا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاک فوج کے عزم و حوصلہ پر شک کیا جائے بلکہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ جنگیں وسائل ہڑپ کرتی ہیں اور غریب ممالک یہ قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔   افغانستان کے  تجربے سے ہی دیکھ لیا جائے کہ وہاں سے پہلے سوویت یونین  اور  پھر   امریکہ کو  اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر بے نیل و مرام  فوجوں کو واپس بلانا  پڑا۔ افغان عوام یا پاکستانی حکام سیاسی مقاصد کے لیے ان دونوں جنگوں کو خواہ کوئی بھی نام دیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ پہلے سوویت یونین کو مالی مجبوریوں اور جنگ کے بے پناہ مصارف کی وجہ سے افغانستان چھوڑنا پڑا ۔ اور  اگست 2021 میں امریکہ کو بیس سال کی عسکری کوشش کے بعد افغانستان  سے نکلنا پڑا کیوں کہ امریکہ جیسا مالدار اور طاقت ور ملک بھی جنگ کے مصارف برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔  یہی  حقیقت ہے اور اسی کو ماننے سے کوئی قوم یاملک درست  پالیسی  پر  اختیار کرسکتا ہے۔ اس معاملے  پر ٹھوکر کھانے سے  تباہی و بربادی کے سوا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

پاکستان کبھی جنگ سے کشمیر حاصل  نہیں کرسکے گا۔ اس لیے اس کے لیڈروں کو نہ تو اس آپشن  پر غور کرنا چاہئے اور نہ ہی اس کا حوالہ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کی بجائے ساری کوششیں سفارت  کاری اور باہمی اعتماد سازی پر صرف کرنے  کی ضرورت ہے۔   اسی لئے بھارت کے ساتھ باہمی اعتماد  و احترام کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات بحال کرنا ،  وقت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔  ان دونوں ملکوں کے تعلقات بحال ہونے سے ایک تو برصغیر کے عوام  کو مسلسل جنگ کے لیے تیار کرنے کی بجائے،  دوستی اور ایک دوسرے کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھانے پر آمادہ کیا جاسکے گا۔ موجودہ دور میں علاقائی تعاون ہی معاشی ترقی اور مقامی مسائل سے نمٹنے کا سب سے بہتر حل سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اپنی اپنی جگہ پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  باہم میل جول اور مل جل کر مسائل سے نمٹنے  سے گریز کا راستہ اختیار کرتی  رہی ہیں۔  پائدار امن اور عوام کی فلاح و بہبود کے مقصد سے دونوں ملکوں کو یہ طرز عمل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو خاص طور سے سمجھنا چاہئے کہ امن کے حالات میں اعتماد کی  فضا بحال  ہوتی ہے اور سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے مشکل   معاملات حل کرنے کا راستہ بھی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ دونوں ملکوں میں جب تک بد اعتمادی کی فضا موجود رہے گی، سفارت کاری کی کامیابی کا امکان بھی نہیں ہوگا۔

یوم یک جہتی کشمیر کا آغاز کشمیریوں  کی جد و جہد کے ساتھ ہمدردی  کے لیے 1991 میں نواز شریف کی حکومت نے کیا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ علاقائی اور عالمی حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب صرف یوم یک جہتی مناکر اور اس موقع پر ایسے غیر ضروری بیانات دے کر کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا جن کا زمینی حقائق اور عالمی سفارتی و اسٹریٹیجک صورت حال سے کوئی تعلق و واسطہ نہ ہو۔ پاکستان ضرور یہ دن مناتا رہے لیکن  ایک تو اس موقع پر بیان بازی کو محض کشمیریوں کے حق خود اختیاری تک محدود رکھنا چاہئے ۔ دوسرے  یہ ایک دن منانے کے لیے کثیر قومی وسائل صرف کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ ایسے طریقوں سے نہ کشمیر آزاد ہوگا اور نہ ہی پاکستان کی شان و شوکت میں اضافہ ہوگا۔