ینس ستولتن برگ کی سیاست میں واپسی

ناروے کی دو جماعتی حکومت تحلیل ہونے کے بعد آربائیدر پارٹی کی یک جماعتی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ وزیراعظم نے سنٹر پارٹی کے مستعفی ہونے والے وزرا کی خالی کی ہوئی وزارتوں پر ہی نئے وزرا کی نامزدگی پر اکتفا کیا ہے۔

کابینہ کی تشکیل نو پر تمام قیاس آرائیوں کے بر عکس پہلے سے موجود آربائیدر پارٹی وزرا کے قلمدانوں میں ردوبدل نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کابینہ کی تشکیل نو پر آربائیدر پارٹی کے سابقہ سربراہ اور وزیراعظم ینس ستولتن برگ کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپے جانے  نےسب کو حیران کر دیا ہے۔ وہ چند ماہ قبل ہی نیٹو کے جنرل سیکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوئےتھے۔ گو حکومت کی تشکیل نو پر ستولتن برگ کی شمولیت کے بارے قیاس آرائیاں تھیں لیکن کوئی بھی اس کو ممکن تصور نہیں کر رہا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے ناروے میں سیاست سے رضاکارانہ دستبرداری اختیار کرنے کے بعد دوبارہ پھر اس طرح واپسی کی کوئی نظیر موجود نہیں۔

سابق وزیراعظم ستولتن برگ کی اس واپسی کو آربائیدر پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت اور پارٹی کے اندر جاری قیادت کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ کیونکہ پارلیمانی الیکشن میں چھ ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے اور عوامی رائے عامہ کے سامنے آنے والے جائزوں میں آربائیدر پارٹی کی مقبولیت میں تنزلی کا سلسلہ جاری نظر آتا ہے۔ پارٹی تمام سیاسی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے باوجود اپنی عوامی ساکھ کو بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ لہذا وزیراعظم یوناس گار ستورے کی طرف سے ستولتن برگ کو کابینہ میں وزیر خزانہ کا عہدہ قبول کرنے پر قائل کیا جانا ترپ کا پتا تصور کیا جا رہا ہے، وزیراعظم ستورے کی طرف سے اس اقدام کو اپنی اور پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو روکنے کے لیے ستولتن برگ کی مقبولیت کو سہارا بنانے کی سعی گردانا جا رہا ہے۔

سابق وزیراعظم ستولتن برگ کو بلا مبالغہ نارویجن عوام کی بڑی تعداد پسند کرتی ہے اور خاص کر آربائیدر پارٹی کے اندر انہیں بہت بڑا مقام حاصل ہے۔ لہذا وزیراعظم یوناس گار ستورے کو اُمید ہے کہ ستولتن برگ کی حکومت میں شمولیت سے مقبولیت میں اضافہ کے ساتھ پارٹی کے اندر مایوسی کی فضا کو بدلتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو نیا ولولہ ملے گا۔ پارٹی پھر عوامی توجہ کا مرکز بن سکے گی۔ آربائیدر پارٹی اس حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل کر پاتی ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

سیاست بھی فٹبال کے کھیل کی طرح ہے جس میں کسی نئے باصلاحیت اور سٹار کھلاڑی کی آمد سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی واحد انتہائی باصلاحیت کھلاڑی کی موجودگی کے باوجود کئی ٹیمیں کوئی بڑا کارنامہ انجام دینے سے قاصر رہتی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک ٹیم کی مجموعی کارکردگی بہتر نہ ہو کسی سپرسٹار کی موجودگی بھی لایعنی ہی ثابت ہوتی ہے۔ لہذا ینس ستولتن برگ جیسے مقبول، لائق اور قابل سیاستدان کی حکومت میں شمولیت آربائیدر پارٹی کی طرف سے کھیلا جانے والا پتہ بظاہر بڑا کمال دکھائی دے رہا ہے لیکن اگر پارٹی اپنی مجموعی کارکردگی میں بہتری نہ لا سکی تو پھر اس حربے کے بے سود جانے کا خدشہ خارج از امکان نہیں۔ ایسی صورت میں آربائیدر پارٹی کو فاہدہ پہنچانے کی کوشش میں ستولتن برگ کی مقبولیت کا سحر ٹوٹنے کا بھی خطرہ ہے۔ لہذا ستولتن برگ نے ایک طرح سے پارٹی کی خاطر اپنی غیر متنازع قومی راہنما کی حیثیت اور مقبولیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ستولتن برگ کو اپنی ذات سے زیادہ آربائیدر پارٹی عزیز ہے، جس کے نظریاتی اثاثہ کو بچانے کی خاطر وہ یہ قربانی دینے کو تیار ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں بھی عروج پر ہیں کہ وزیراعظم یوناس ستورے نے ستو لن برگ کے ساتھ اپنی ذاتی دوستی اور سیاسی وابستگی کا استعمال کرتے ہوئے آربائیدر پارٹی کے اندر جاری قیادت کی کشمکش میں اپنا پلڑا بھاری رکھنے کے لیے یہ چال چلی ہے۔ کیونکہ ستولتن برگ کی حکومت میں شمولیت سے یہ قوی تاثر اُبھرتاہے کہ ستولتن برگ نے اپنا وزن وزیراعظم ستورے کے پلڑے میں ڈال دیاہے۔ اور اس طرح پچھلے دو ماہ سے وزیراعظم کی قائدانہ صلاحیتوں پر اُٹھنے والے سوال اور قیادت کی تبدیلی کیلئے جاری بحث کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس میں اب کوئی شک باقی نہیں رہا کہ اگلے الیکشن تک اب یوناس ستورے ہی وزیراعظم اور آربائیدر پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔ اس طرح وہ پارٹی کے اندر قیادت کا معرکہ جیت کر اپنے ناقدین کو خاموش کراچکے ہیں۔ لیکن وہ ستمبر میں ہونے والے قومی انتخابات جیت پائیں گے کہ نہیں، اس بارے میں کچھ کہنا ابھی ممکن نہیں۔