موروثی سیاست کی علت

سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کے قول کے مطابق جمہوریت ایسی طرز حکومت ہے،  جہاں عوام کی حاکمیت، عوام کے ذریعہ  عوام پر نافذ کی جاتی ہے۔ ہیروڈوٹس نے جمہوریت کا مفہوم اس طرح بیان کیا ہے کہ "جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں"۔

خوش قسمتی سے انسان نے اپنے تفکر اور تدبر کی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بادشاہت یا آمریت کو، جہاں فیصلہ سازی کے کلی اختیارات ایک ہی شخص یا خاندان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، ایک مرحلہ وار ارتقائی عمل کے نتیجے میں مسترد کر کے سماج کے لئے جمہوریت کو بہترین طرز حکومت قرار دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ شخصی یا خاندانی جبری نظام حکومت سے جمہوریت تک کا سفر جو انسان کی مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں سے عبارت ہے، انسانی تاریخ میں ایک عظیم عمرانیاتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں سماج  کا نظام حکومت اور معاشرے میں ہر سطح پر فیصلہ سازی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کا نتیجہ ہمیں عدل وانصاف، معاشی توازن اور عدم انتشار کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں بد قسمتی سے جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے مواقع میسر نہیں آئے اور فوجی آمریت نے ایک لمبے عرصے تک عوامی جمہوری خواہشات کو اپنے بوٹوں تلے دبائے رکھا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں  اور عوام نے جمہوریت کے لئے وقتاً فوقتاً کوشیشیں بھی کی ہیں جن کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں محدود اختیارات کے ساتھ منصب حکومت پر فائز ہونے میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا یہ شکوہ بالکل درست ہے کہ انہیں حکومت اور فیصلہ سازی کے جملہ اختیارات تقویض نہ کیا جانا جمہوریت کی اساس کے منافی  اور ملک میں اصل جمہوریت کے نفاذ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔  تمام جمہوری اختیارات حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کا انخصار فوج پر ہے اور اس میں وہ بڑی حد تک بے بسی کا شکار ہیں۔  لیکن جن جمہوری روایات کو پاکستانی سیاست میں رائج کرنے کا اختیار ان سیاسی جماعتوں کے اپنے ہاتھ اور صوابدید پر ہے، ان کے نفاذ پر یہ جماعتیں دانستہ مجرمانہ غفلت سے کام لیتی رہی ہیں۔ میری مراد پاکستانی سیاست میں موروثیت کے عنصر سے ہے۔

جمہوریت ایک سوچ اور طرز فکر کا نام ہے جو آپ کے رویوں اور عمل کے سانچے میں ڈھل کر اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ آپ وقعی جمہوریت پسند ہیں یا نہیں۔ جمہوریت کا سکہ اسی وقت تک ہی چل سکتا ہے جب تک یہ خالص ہو۔ اس میں اگر کھوٹ شامل ہو تو اس کی قدروقیمت نہیں رہتی اور نہ عوام اس کے فوائد سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں پایا جانے والا موروثیت کا عنصر جمہوریت کی بنیادی اساس کے سراسر منافی ہے اور سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں بلکہ سیاسی خاندان جمہوریت کا لبادہ اوڑھے اپنے خاندانوں کی بادشاہت قائم رکھنے کے گھناؤنے عمل کو عوامی راج کا نام دے کر کئی دہائیوں سے کمال مکاری سے عوام کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہی ہیں۔ اس سول آمریت کو جمہوریت قرار دینا ایک ناقابل معافی جرم  اور قابل مذمت ہے۔

موروثیت کی وجہ سے جمہوریت کے اثرات و ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے لہذا ملک میں آمریت ہو یا جمہوریت اگر عوام فیصلہ سازی میں ہی شامل نہیں تو ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موروثیت زدہ جمہوریت آمریت کی ہی ایک شکل ہے۔ موروثیت ایسا طرز حکمرانی ہے جس میں جمہوریت کے ذریعے غیر جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ جمہور کے انگوٹھوں کی چھاپ سے غیر جمہوری قوتیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتی ہیں اور عوام کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ہمارے سیاسی نظام میں موروثیت کا تسلسل سماج میں سیاسی بالیدگی کی راہیں دشوار تر کرتا جا رہا ہے۔

اس بنیادی انسانی حق سے انکار ممکن نہیں کہ جس طرح ڈاکٹر کے بیٹے کو ڈاکٹر اور انجنئیر کے بیٹے کو انجنئیر اور فوجی کے بیٹے کو فوجی بننے کا حق حاصل ہے، بالکل اسی اصول کے تحت ایک سیاستدان کا بیٹا بھی سیاست میں قدم رکھ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ کسی ڈاکٹر کا بیٹا ایک پراسیس سے گزر کر اور  اپنی قابلیت ثابت کرنے کے بعد ہی کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوتا ہے اور پھر پانچ چھ سال کی مشکل پڑھائی کرنے کے بعد اور امتحانات میں کامیابی کے نتیجے میں ڈاکٹر بنتا ہے۔ کسی ڈاکٹر کی اولاد کو صرف اس وجہ سے میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملتا کہ وہ ڈاکٹر کا بیٹا یا بیٹی ہے۔ اور ایم بی بی ایس کرنے کے فوراً بعد وہ دوسرے ڈاکٹرز کی طرح ہی کسی ہسپتال میں ایک عام ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے۔  اسے براہ راست کسی ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس کے عہدے پر فائز نہیں کر دیا جاتا۔  لیکن ہماری سیاست ایسی بےحجابانہ مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں سیاسی جماعتوں کے چئیرمینوں کی اولادوں کو سیاست میں قدم رکھتے ہی پارٹی کے ولی عہد کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور اپنے والدین کے بعد پارٹی کی لیڈر شپ بھی انہیں اپنی باقی خاندانی جائیداد کی طرح وراثت سمجھ کر سونپ دی جاتی ہے۔  یہ سلسلہ بادشاہت کے اصولوں کے تحت نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ قیادت کا جوہر کیا انہیں کے خون میں موجود ہے۔

ہماری جمہوری تاریخ تو ایسے بےنظیر واقع کی بھی شاہد ہے جب مرنے سے قبل ہی ایک پارٹی لیڈر اپنی وصیت کے ذریعے اپنے نابالغ  بیٹے کو پارٹی لیڈر نامزد کر دیتی ہیں اور اس "جمہوری پارٹی" کے دوسرے لیڈران اور اس پارٹی سے وابستہ دانشور طبقہ نہ صرف اس "جمہوری" فیصلے کی توثیق کرتا ہے بلکہ اپنے لیڈر کی دوراندیشی،  فہم و فراست اور جمہوریت دوست سیاسی سوچ پر قصیدے بھی لکھتا ہے۔ اس پارٹی کے سپورٹرز  "بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ" کے مصداق لڈیاں ڈالتے ہیں۔ جمہوریت کی اجتماعی آبروریزی کی ایسی مثال پوری دنیا میں ملنا مشکل ہے۔  ایسی بیمار سوچ رکھنے والی آمرانہ سیاسی جماعتوں کے حکیموں نے جمہوریت کے شہد میں زہر کی آمیزش سے ایسا مرکب تیار کیا ہے جسے سماج بخوشی پینے پر مجبور ہے۔ نیت کے فتور کی پیداوار یہ نسخہ سماج کی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی مشکلات کا مداوا تو نہیں کر سکا البتہ اس سے ان سیاسی حکیموں کا کاروبار دن دگنی اور رات چگنی ترقی ضرور  کر رہا ہے۔  بقول شاعر:

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

ہمارے عوام کی طرف سے سیاست میں موروثیت کے عنصر کو قبولیت کا درجہ ملنے کو بجا طور پر ہمارے عمومی سماجی رویوں سے بھی جوڑا جاسکتا ہے۔ مذہبی پیشوایت اور خانقاہی نظام اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ لیکن کیا سیاستدانوں کی یہ دلیل حقیقت اور خلوص نیت پر مبنی ہے کہ "موروثیت کا تعلق سماج سے ہے اور اگر سماج کو موروثی سیاست قابل قبول ہے تو اس پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی ۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ایسے لیڈروں کو رد کر دیں تو موروثی سیاست خود ہی ختم ہو جائے گی‘‘۔ اس موقف کی شرح  کے مطابق موروثی سیاست کو فروغ دینے میں سب سے بڑا ہاتھ عوام کا ہے اور اس نظام کی بینخ کنی کی ساری ذمہ داری بھی صرف عوام پر عائد ہوتی ہے۔  اس کے برعکس سماج کے خواص پر مشتمل طبقہ، جس میں سیاسی پارٹیوں کے جئید لیڈران بھی شامل ہیں جو  اپنی جماعتوں کی مرکزی کونسلز کے رکن ہونے کی بنا پر پارٹی کا سربراہ چننے کا اختیار رکھتے ہیں، وہ اس ذمہ داری سے بری الزمہ ہیں۔ با الفاظ دیگر ان سیاسی اکابرین کا اپنی پارٹی کی مرکزی کونسل میں نئے پارٹی چئیرمین کے انتخاب کے موقع پر صلاحیت اور تجربے کو یکسر نظر انداز کر کے صرف خاندانی موروثیت کی بنیاد پر پارٹی سربراہ کے چناؤ کا عمل موروثی سیاست کو فروغ دینے میں قطعی مددگار نہیں۔  البتہ اگر عوام ان کے اس عمل کو غیر جمہوری تصور کرتے ہیں تو عام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں کے منتخب کردہ پارٹی لیڈر کو مسترد کر دیں۔

سیاست اور جمہوریت کے کہنہ مشق کھلاڑیوں کی یہ تاویلیں اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی خاطر کئے گئے گناہوں کا بوجھ سادہ لوح عوام پر ڈالنے کی بھونڈی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں۔ کیا یہ خواص خود سماج کا حصہ نہیں اور کیا اس نسبتاً زیادہ باشعور طبقے کو اپنی اس سماجی ذمہ داری سے استثنا حاصل ہے کہ وہ اپنا ووٹ تو موروثیت کے حق میں استعمال کریں اور انتخاب کے دوران جمہوری روح کے منافی سوچ کی بنیاد پر اپنے ہی چنے ہوئے پارٹی لیڈر کی کامیابی کی مہم بھی زور وشور سے یہی چلائیں۔ لیکن سیاست میں موروثیت کے فروغ کا ذمہ دار عوام کو ٹھہرائیں۔ "خداوندا  تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں"

معاشرے کے جس طبقے پر اپنی عوام کی سیاسی  تربیت کی ذمہ داری ہے، وہی لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔  جو طبقہ سماجی رویوں اور سوچ  تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس  کا نصاب اخلاق اس احساس ذمہ داری سے قطعی کورا ہے۔  کیا روایت شکنی کی جرات سے عاری ان سیاستدانوں کو ان کے فرض سے بری الزمہ قرار دے کر سارا بوجھ اپنی نیم خواندہ عوام پر ڈال دینا، جس کی بڑی تعداد جاگیر دارانہ نظام کے تحت اس اشرافیہ کے زیر عتاب ہے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ جہاں عوام کا رہبر و رہنما طبقہ ایسی کوتاہ اندیش سوچ کا حامل ہو وہاں کے سماج، جمہوریت اور سیاست کا مقدر زوال و انہدام کے سوا کچھ نہیں۔

ویسے تو موروثی سیاست کسی بھی لخاظ سے قابل دفاع نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ پیغمبری سلسلے میں پائی جانے والی موروثیت کو موروثی سیاست کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔  تدبر اور منطق سے عاری اس موقف کا حامی طبقہ اس حقیقت سے  نابلد ہے کہ پیغمبری کے لئے کسی انسان کا انتخاب امر الہی ہے اور ہم بخثیت انسان اللہ کی مصلحت کو  چیلنج کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس  جمہوریت انسان کا اپنا  بنایا ہوا  ایک نظام ہے جس کے اصول اور قواعد و ضوابط انسان نے خود تشکیل دیے ہیں اور ہمیں یہ نظام جمہوریت کے آئین کے تحت ہی چلانا ہے۔  جمہوریت میں پارٹی رہنما کے چناؤ میں  وصییت مارکہ اصول انتخاب کی کوئی گنجائش نہیں۔  ہر سطح پر فیصلے اور انتخاب میں عوامی خواہشات اور نمائندگی کو اہمیت حاصل ہے۔ اگر ہم نے پارٹی لیڈر شپ بادشاہت کے اصولوں کے مطابق مخصوص خاندانوں تک ہی محدود رکھنی ہے تو پھر جمہوریت کا راگ الاپنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نظام کو بادشاہت کا نام دے دیں۔ اس سے کم ازکم جمہوری نظام اور جمہور تذلیل اور بے توقیری سے بچ جائیں گے۔

ایک بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے سماج کا صاحب فکر و دانش طبقہ، جس میں شعبہ صحافت  سر فہرست ہے، اس معاملے میں فکری جمود اور تعطل کا شکار ہے۔  یہی وجہ ہے کہ موروثی سیاست کے سماج پر مضر اثرات کو یکسر نظر انداز کر کے، اس معاملے کو  طاق نسیاں کی ذینت بنا دیا گیا ہے۔  میری نظر میں ہمارے اہل قلم کو بااختیار جمہوریت  کے تسلسل کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ موروثی سیاست سے نجات حاصل کرنے کے لئے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کی طرف بھی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

اس سیاسی نظام کے فوائد سے صرف چند خاندان یا ان کے حواری ہی مستفید  ہو رہے ہیں اور  پچھلی چند دہائیوں میں ان کی قوت،  سیاسی اثرو رسوخ، بنک بیلنس، کاروبار اور اندرون و بیرون ملک جائیدادوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔  عوام کو معاشی عدل ملا ہے اور نہ ہی جبر سے نجات۔  لہذا یہ نظام سماج  کے لئے ضروری ہے اور نہ ہی سود مند۔  اگر سماج کے ساتھ دھوکہ اور عوام کا استحصال ہو رہا ہے تو اپنے حق کے لیئے لوگوں کو خود کھڑا ہونا ہو گا۔  جب سیاسی قوت کے مراکز سماج سے غیرمخلص ہیں تو سماج کو ہی اس نظام کو چیلنج کرنا ہے۔