اسلم انصاری سے منسوب آڈیٹوریم

ڈاکٹر اسلم انصاری دبستان ملتان کا ایک معتبر حوالہ اور عالمی شناخت رکھنے والی شخصیت ہیں جو 22 اکتوبر 2024 کو اس جہان فانی سے رخصت ضرور ہوئے۔ لیکن آج بھی وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ملتان کی شاہی عید گاہ میں ان کے ہونے والے جنازے میں شہر کے سبھی مکتبہ فکر اور اہل قلم نے شرکت کی۔ آرٹس کونسل ملتان اور بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ انگلش اور دوسری علمی و ادبی تنظیموں کی طرف سے ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیے گئے۔ ان کے وفات سے قبل ان کے فارسی کلیات گلبانگ آرزو جسے اکادمی ادبیات پاکستان نے شائع کیا تھا اور اس کے تقریب رونمائی اور پذیرائی کے لیے اکادمی اقبال کے صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈاکٹر جنرل سلطان محمد ناصر اسلام اباد سے خصوصی طور پر تشریف لائے، جس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے استاد محترم ڈاکٹر ارشد ناشاد کا کلیدی خطبہ بھی شامل تھا۔۔ اس تقریب میں راقم کو نظامت کا موقع ملا اور اس تقریب میں ملتان کے سبھی اہل قلم شریک تھے۔ اور یہ ان کی زندگی کی ایک یادگار تقریب پذیرائی تھی جس سے وہ بہت خوش تھے۔ اور اس موقع پر انہوں نے اپنی کئی نئی اور پرانی مشہور غزلوں سے اشعار سنا کر سامعین سے بھر پور داد وصول کی۔

آرٹس کونسل ملتان کے ہونے والے تعزیتی ریفرنس میں ملتان کے اہل قلم نے ان کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر برادرم عامر شہزاد صدیقی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آرٹس کونسل کے ہال کا نام ڈاکٹر اسلم انصاری کے نام سے موسوم کیا جائے۔ اس پر بورڈ آف مینجمنٹ نے توجہ دی اور بالاخر آرٹس کونسل ملتان کے ہال کو ڈاکٹر اسلم انصاری ایڈیٹوریم کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ اس کی خصوصی تقریب آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں منعقد کی گئی جس کی صدارت کمشنر ملتان محترم عامر کریم خان نے کی۔ عامر کریم خان ادب اور کتاب دوست ہیں۔ انہوں نے اپنے ڈپٹی کمشنری کے دور میں ملتان کی تعمیر و ترقی کے لیے جہاں بھرپور کام کیا وہاں انہوں نے اپنے مختصر قیام میں ملتان کے سینیئر ادیبوں اور شاعروں کے گھروں کے باہر خود جا کر ان کے نام کی تختیاں آ ویزں کرائیں۔ یہ سلسلہ ابھی آگے بڑھنا تھا کہ ان کا ملتان سے تبادلہ ہو گیا۔ اب جب کہ وہ کمشنر کی حیثیت سے ملتان میں تعینات ہوئے ہیں تو دانشور اور اہل قلم بجا طور پر یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس سلسلے کو دوبارہ سے شروع کیا جائے گا اور اس بات کا اعادہ محترم عامر کریم خان نے اس تقریب میں بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملتان کے اہل قلم سے بہت متاثر ہیں اور ان کو ان کا مناسب مقام دلانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں گے اس تقریب میں نمائندہ اہل قلم  نے اسلم انصاری کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔

مقتدرہ قومی زبان کے سابق صدر نشین اور شعبہ اردو کے سابق استاد ڈاکٹر انوار احمد نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر اسلم انصاری کو ملتان کا تابندہ ستارہ ملتان کی تہزیب و ثقافت اور ادب کی پہچان اور شناخت قرار دیا۔ ڈاکٹر اسلم انصاری کے بیٹے آ صف فرخ انصاری نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو بہت سا کام ان کا ایسا ہے جسے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اور ڈاکٹر اسلم انصاری کی بازیافت کا ابھی یہ نقطہ آغاز ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اسلم انصاری کے حوالے سے ایک ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی جسے خاص طور پر ان کے بیٹے قاسم انصاری اور ان کے بھانجے میر احمد کامران مگسی نے تیار کیا تھا جبکہ ملتان کہ ثقافتی روایات کی تہذیب و ثقافت اور روایات کی امین معروف گلوکارہ ٹریا ملتانیکر بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا، اور معروف سرائیکی گیت پیلوں پکیاں وے آ چنڑوں رل یار فیم اور ان کی بیٹی راحت ملتانیکر نے ن
ڈاکٹر اسلم انصاری کی مشہور زمانہ غزل زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے، ہم ساز و آ واز کے ساتھ پیش کی جبکہ معروف گلوکار فیاض بخاری نے ان کی مشہور غزل، میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں، حادثہ کیا تھا جسے دل نے بلایا بھی نہیں، پیش کر کے سامعین سے بھرپور داد وصول کی۔

اس موقع پر ثریا ملتانیکر نے انکشاف کیا کہ اسلم انصاری کی غزل زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم، کی ریہرسل انہوں نے کی جبکہ اقبال بانو کی فرمائش پر انہوں نے اقبال بانو کو یہ غزل گانے کی اجازت دی اور آ ج یہ غزل گا کر انہیں بہت تسکین مل رہی ہے۔ محترمہ ثریا ملتانیکر اور راحت ملتانیکر نے یہ غزل گا کر ایک خوبصورت سماں باندھے رکھا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے راقم نے بھی یہ تجویز پیش کی کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ڈاکٹر اسلم انصاری چیئر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ان کے علمی ادبی کام کو نسل نو تک پہنچانے کا فریضہ بھی انجام دیا جا سکے۔ ڈاکٹر اسلم انصاری ملتان آرٹس کونسل کے پہلے ڈائریکٹر تھے۔ اب اسی ادارے کے اڈیٹوریم کو ان کے نام سے منسوب کر کے ان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ ابھی ڈاکٹر اسلم انصاری کے حوالے سے بہت سا کام ہونا باقی ہے کیونکہ ڈاکٹر اسلم انصاری دبستان ملتان کی شناخت اور پہچان ہیں۔ انہوں نے اردو، فارسی، انگریزی اور سرائیکی میں بھرپور کام کیا ہے۔ وہ سرائیکی زبان کی مٹھاس رکھنے والے ایک میٹھے خوبصورت اور پر خلوص انسان تھے۔ ان کے ان رویوں اور جذبوں کا اظہار ان کی شاعری میں بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور ایک ادارہ تھے۔ عمر کے اخری حصے میں بھی وہ قلم و قرطاس سے جڑے رہے اور ملتان کی تہذیب و ثقافت اور ادب کی پہچان بن گئے۔

کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان ایڈیشنل کمشنر عبدالجبار خان اور آرٹس کونسل ملتان کے ڈائریکٹر سلیم قیصر نے اس آڈیٹوریم کو اسلم انصاری کے نام سے منسوب کرنے کو اپنے لیے باعث اعزاز قرار دیا اور اس بات کا یقین دلایا کہ اس آ ڈیٹوریم میں اسلم انصاری کے نام اور کام کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے گا۔ اس کونسل کے بورڈ اف مینجمنٹ کے چئیرمین معروف صنعت کارمیاں عامر نسیم نے بھی اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنا خصوصی کردار ادا کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض شاکر حسین شاکر نے انجام دییے جبکہ ریڈیو ٹی وی آ رٹسٹ قیصر نقوی نے ڈاکٹر اسلم انصاری کی مشہور نظم گوتم سے مکالمہ، میرے عزیزو تمام دکھ ہے، تحت اللفظ پڑھی۔ آ رٹس کونسل ملتان کے شوکت صدیقی نے آ یات ربانی اور نعت رسولﷺ سے تقریب کا آ غاز کیا۔ یہ تقریب بھرپور رہی کہ اس میں ملتان کے نمائندہ اہل قلم اور دانشوروں نے، اس لئے بھی شرکت کی کہ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے شہر میں علم و ادب کے چراغ روشن کرنے والے شخص کے اعتراف فن کی روایت قائم کی گئی ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف اور اپنے ہیروز کے کارناموں کو زندہ رکھ کر ہی زندہ رہتی ہیں۔

پرائیڈ آف پرفارمنس یافتہ ڈاکٹر اسلم انصاری آرٹس کونسل کے پہلے ریزیڈنٹ ڈائیریکٹر تھے۔ 4 زبانوں پر ان کو عبور حاصل تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری کو 2009 میں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا اور 14 اگست 2020 کو انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ اس سے پہلے خواجہ فرید کی کافیوں کے ترجمے پرنیشنل بینک ایوارڈ اور اقبالیات پر اقبال ایوارڈ بھی حاصل کرچکے تھے۔ وہ عمر بھرشعبہ تدریس سے وابستہ رہے اور لاہور، بہاولپور، ملتان سمیت مختلف شہروں میں خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر اسلم انصاری کی تصنیفات میں اردو اورفارسی کے پانچ شعری مجموعوں سمیت سرائیکی ناول ”بیڑی وچ دریا“ اور مختلف تنقیدی اور  تحقیقی مضامین کے مجموعے شامل ہیں۔ اسلم انصاری کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ لفظوں کے حسن ترتیب پرتوجہ دیتے تھے جمال پرستی ان کی شخصیت کا حسن تھی۔ وہ ملتان میں اپنی نوعیت کے واحد قلمکار تھے۔ انہوں نے شاعری بھی کی، افسانے بھی لکھے، تحقیق میں بھی مگن رہے۔ وہ آخر وقت تک کام کرتے رہے۔ ان کا جانا خطے کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔