تحریک انصاف کو لاہور میں جلسہ کی اجازت سے انکار
لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے 8 فروری کو مینارِ پاکستان پر پی ٹی آئی کی ریلی منعقد کرنے کی درخواست کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر مسترد کر دیا ہے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے صوابی میں جلسہ کرنے کے علاوہ کارکنان کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔
یاد رہے پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ گزشتہ سال 8 فروری کو ہونے والے انتخاب میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا۔ پارٹی نے اس کے خلاف سنیچر کو ’یومِ سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی قوم 8 فروری کو پورے ملک میں نکلے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے-‘
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی 8 فروری کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہی ہے کیونکہ اس دن ہمارے لیڈر عمران خان کو جو ووٹ پڑا اس کی چوری کی گئی، ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا۔ ان کا کہنا ہے اب ہر سال یومِ سیاہ منایا جائے گا اور اس سال 8 فروری کو صوابی میں ریلی نکالے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے حامی و کارکنان کو پاکستان میں پاکستان سے باہر ہر شہر میں احتجاج کی کال دی ہے اور کہا ہے جہاں جہاں آپ ہیں وہاں اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کےمطابق شمالی پنجاب کے 10 اضلاع سے کارکنان کی بڑی تعداد صوابی جلسے میں شرکت کرے گی۔ جبکہ باقی علاقوں میں مقامی سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ 8 فروری کے احتجاج سے قبل پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسلام آباد پولیس نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تیاری کرلی ہے اور انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کی زیر قیادت اعلی سطحی اجلاس میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔