افغانستان میں سب اچھا نہیں

میں خبر بناتا نہیں، کیونکہ میں رپورٹر نہیں صحافی ہوں۔ پھر خبریں جن جن ذرائع سے سامنے آتی ہیں، ان سب پر یقین نہیں کرتا، لیکن سب کو دیکھنے کے بعد ’اصل خبر‘ سامنے آ جاتی ہے۔

پھر کئی اصل خبروں کو اکٹھا کر کے اس کے اندر پوشیدہ نکتے، جو بولنے اور نشر کرنے والے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، کشید کرتا اور آپس میں ملاتا ہوں۔ یہی صحافت اور تجزیہ ہوتا ہے کہ خبریں کس طرح اور طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اصل صحافت بھی یہی ہے کہ خبر کے بین السطور میں کیا کہا یا چھپایا جا رہا ہے۔جب موجودہ افغان حکومت دوحہ میں متشکل ہو رہی تھی تو میں نے تین چار مہینے پہلے سے لکھنا شروع کر دیا تھا کہ یہ لوگ واپس آرہے ہیں اور اشرف غنی سامان باندھنے والا ہے، جو بعض قارئین کو پسند نہیں آ رہا تھا۔ اور وہ سمجھتے تھے کہ میں آنے والوں کے لئے راستہ ہموار کر رہا ہوں، یا حمایت کرتا ہوں، جبکہ میں خبردار کر رہا تھا۔

 میرے قارئین میں موجود ایک بزعمِ خود دانشور نے میرے خلاف ایک پوری مہم چلائی کہ میں کچھ لوگوں کے حوصلے اور پتہ نہیں کیا کیا توڑ رہا ہوں، جبکہ نہ تو میں افغانستان میں آنے والوں کے لئے، مورچے چھوڑ رہا تھا، اور نہ جہاز پکڑ کر افغانستان چھوڑنے کر محفوظ ہونے والوں کی کوئی سہولت کاری کر رہا تھا۔ لیکن پھر بھی مذکورہ شخص نے میرے مدیر کو خط تک لکھ دیا تھا کہ مجھے چھاپنے سے انکار کردے اور میری جو تعریف پیج پر کی گئی ہے وہ ہٹا دی جائے۔ وہ اب بھی اسی کیفیت کا شکار ہے کیونکہ جب میں بیدار رہنے اور صفیں درست کرنے کے لئے پینک بٹن دبا دیتا ہوں تو وہ مجھے صفیں تڑوانے والا کہنے لگتا ہے۔

سال یا کچھ زیادہ پہلے، مجھے قابل اعتماد ذریعے سے خبر ملی کہ اشرف غنی کے واپس آنے کا پروگرام تقریباً تیار ہو چکا ہے۔ میں نے اس پر کالم لکھا جو آج بھی ہم سب پر موجود ہے۔ جس کے بعد پاکستان میں حملے شروع ہوئے۔ انگلینڈ میں ایک کرکٹ میچ کے دوران پاکستانی اور افغان تماش بینوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کی تصدیق کیے بغیر پاکستانی میڈیا نے افغانستان کے خلاف یک طرفہ پروپیگنڈا شروع کیا۔ پھر ایک دن گزشتہ حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے، عمران خان کے بارے میں ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا کہ اس طرح کی باتیں تو دشمن ملک افغانستان بھی پاکستان کے بارے میں نہیں کرتا۔ جس کے بعد میں نے لکھنا شروع کیا کہ نظریاتی قوم کو ہمیشہ کسی بیرونی دشمن کی تلاش ہوتی ہے، انڈیا اب وارا نہیں کھاتا، اس لیے مستقبل میں ”دو قومی نظریہ“ مشرقی بارڈر سے مغربی بارڈر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جو اب صاف نظر آ رہا ہے۔

افغانستان ڈیورنڈ لائن کو ہمیشہ فرضی لکیر کہتا اور سمجھتا آیا ہے، خواہ افغانستان میں جس کی بھی حکومت ہو۔ اس دعویٰ پر مبنی، یک طرفہ افغان بیانیہ کو کاؤنٹر کرنے کے لئے، پاکستان نے جو نئی سٹریٹجی بنائی ہوئی ہے، اس کے مطابق اگر افغانستان، پاک افغان بارڈر کو بین الاقوامی تسلیم شدہ بارڈر نہیں سمجھتا تو پھر پاکستان بھی اس کو اسی طرح ٹریٹ کرے، جس کی پاداش میں، پاکستان واخان کوریڈور میں آگے بڑھ کر اپنی سرحدیں سنٹرل ایشیا  تک بڑھا دے۔ یوں ایک تو افغانستان کو متنازعہ اور غیر واضح بارڈر کے بیانیہ کا ذائقہ محسوس ہو جائے گا، دوسرا پاکستان کا سنٹرل ایشیا اور آگے یورپ تک براہ راست رابطہ ہو جائے گا، تیسرا افغانستان اور چین کا باہمی رابطہ ختم ہو جائے گا۔ اور پاکستان کو چین کے ساتھ رابطے کا متبادل راستہ بھی دستیاب ہو جائے گا اور چوتھا جب بین الاقوامی ادارے درمیان میں بیٹھ کر اس تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ جس میں ممکن ہے، افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی پاکستانی سہولت کی طرح، پاکستان کو بھی واخان کے ذریعے سنٹرل ایشیا کے ساتھ ٹرانزٹ سہولیات اور حقوق مل جائیں گے۔ اس موضوع پر 27 مارچ 2024 کو میں نے کالم لکھا۔

جب سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر مہلک حملوں میں شدت آئی ہوئی ہے، خواہ وہ بلوچستان میں ہوں یا پختونخوا میں، پاکستانی میڈیا کے اندر افغان مخاصمت بڑھتی جا رہی ہے، جو نہ صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے مہم، خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیاتی پروگراموں میں نظر آ رہا ہے، بلکہ پچھلے دنوں آرمی چیف نے بھی دوست نما دشمن کو مٹانے کا اشارہ دے کر اس تپش کو اگلے مرحلے تک پہنچا دیا۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ پچھلی افغان ڈیولپمنٹ کے دوران جس طرح ’جمہوریت‘ کے ہم درد مجھے طالبان کا سہولت کار کہتے ہوئے گالی دے رہے تھے، اب بندوقچیوں کے ہمدرد وہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ خبر ہوگی تو ضرور دی جائے گی اور کسی کو خبر اچھی نہیں لگتی تو پھر وہ اخبار پڑھتا کیوں ہے؟

خبروں کا نچوڑ یہ ہے کہ افغانستان میں سب بالکل اچھا نہیں ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر افغان حکومت کی پذیرائی ویسے بھی بڑی محدود اور قانونی حیثیت مشکوک تھی، لیکن کم از کم اندرون ملک افغان صفوں میں اتحاد نظر آ رہا تھا، جس میں اب واضح دراڑیں نظر آنے لگی ہیں۔ وزرا  تک باہر جانے کے لئے سرکاری اجازت نامے کے پابند کر دیے گئے ہیں۔ حقانی اور قندھاری قطبین اگر حکومتی صفوں کے اندر موجود ہیں، تو غیر حکومتی گروہوں میں پختون اور غیر پختون تعصبات کو پہلے سے شہ مل رہی ہے۔ امرا اور وزرا کی بچیاں بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو اندرون ملک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی وجہ سے سر عام گریہ شروع ہو چکا ہے، جبکہ اس موضوع پر کھلے عام بات کرنا اتنا خطرناک عمل ہے کہ ایک دفعہ کھل کر بولنے والے پھر بیرونِ ملک پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان مخالف گروپوں کے ارکان کو قتل کرنے کے عمل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں بیرونی ایجنسیاں لمبے اور کھلے ہاتھوں سے اپنے ٹارگٹ تلاش کرتے ہوئے مٹا رہی ہیں۔

سرکاری تنخواہیں بروقت ملنے کے سرکاری اعلانات اگر افغانستان کے مالی عدم استحکام کے ڈر کو ختم کرنے کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں تو فوجیوں کو تنخواہ کی وصولی کے لئے بنکوں کے سامنے کھڑے ہونے سے روکنے کے احکامات ظاہر کر رہے ہیں کہ ملک کو تحفظ فراہم کرنے والے خود عدم تحفظ کے شکار ہونے کے خدشات سے دوچار ہیں۔

ترکی میں حالیہ ملاقاتیں اور سینٹرل ایشیا میں اس سے پہلے کی بات چیت بھی نئی صف بندیوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ نئے امریکی صدر نے اپنا چھوڑا ہوا اسلحہ مانگا ہے اور بھیجنے والے ڈالر روک دیے ہیں۔ روس یوکرین میں اتنا پھنسا ہوا ہے کہ افغانستان کی طرف مطلوبہ توجہ اور امداد نہیں دے سکتا۔ ٹرمپ ساری دنیا سے ڈس انگیجمنٹ کی پالیسی پر عمل پھیرا ہے تو پھر مجتمع کردہ انرجی اور طاقت کا استعمال کہاں کرے گا؟ کیوں کہ طاقت استعمال نہ کی جائے تو ناکارہ ہوجاتی ہے۔ امریکہ کو چین کے تجارتی اور ٹیکنالوجیکل پیش قدمی کے سامنے شکست در شکست ہو رہی ہے، اور موجودہ جغرافیہ میں چین کو جسمانی زخم صرف واخان کوریڈور سے دیے جا سکتے ہیں، جس کو نئے خطرے کی پیش نظر، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغانستان نے چین کی نگرانی میں دے دیا ہے۔

آخری خبر کے مطابق کل افغانستان کے صوبہ بادغیس کے نائب گورنر کے بیٹے کی لاش، پاکستان نے سرکاری طور پر افغانستان کے حوالے کردی، جس کی تابوت پر خوارجی قاری بدرالدین المعروف یوسف لکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر افغانستان کا پرانا جھنڈا لگا ہوا تھا جس پر افغانستان میں سرکاری طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔

صحافی کے لئے خبر بری  یا اچھی نہیں، صرف خبر ہوتی ہے اور میں خبر بناتا نہیں، تجزیہ کرتے ہوئے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)