ٹرمپ نے غزہ کو خریدنے کا ارادہ ظاہر کردیا

  • سوموار 10 / فروری / 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت کے لیے پرعزم ہیں۔ لیکن وہ جنگ سے تباہ شدہ زمین کے کچھ حصوں کو مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں کی طرف سے دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ گفتگو نیشنل فٹ بال لیگ سپر باؤل چیمپیئن شپ میں شرکت کے لیے نیو اورلینز جاتے ہوئے ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں  نے کہا کہ ’میں غزہ کو خریدنے اور اس کا مالک بننے کے لیے پرعزم ہوں۔ جہاں تک اس کی تعمیر نو کا تعلق ہے تو ہم اسے مشرق وسطیٰ کی دوسری ریاستوں کو دے سکتے ہیں تاکہ اس کے کچھ حصوں کی تعمیر کی جا سکے۔ دوسرے لوگ ہماری سرپرستی میں ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کی ملکیت حاصل کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ حماس واپس نہ آسکے‘۔

انہوں نے کہا کہ  وہاں واپس جانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے, یہ جگہ انہدام کی جگہ ہے۔ بقیہ جگہ کو مسمار کر دیا جائے گا۔ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ن کہا کہ وہ کچھ فلسطینی پناہ گزینوں کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر غور کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ اس طرح کی درخواستوں پر علیحدہ علیحدہ غور کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این  کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ’میرے خیال میں فلسطینیوں یا غزہ میں رہنے والے لوگوں کو ایک بار پھر واپس جانے کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی ہوگی اور ہم نہیں چاہتے کہ حماس واپس آئے‘۔ غزہ کو ایک بڑی رئیل اسٹیٹ سائٹ کے طور پر سوچیں۔ امریکا اس کا مالک بننے جا رہا ہے اور ہم آہستہ آہستہ بہت آہستہ آہستہ ایسا کریں گے۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے، ہم اسے تیار کریں گے۔

رائٹرز کے مطابق حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن عزت الرشک نے غزہ خریدنے اور اس کی ملکیت سے متعلق ٹرمپ کے تازہ ترین بیان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’غزہ ایسی جائیداد نہیں ہے جسے خریدا اور فروخت کیا جائے، یہ ہماری مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا اٹوٹ انگ ہے اور فلسطینی نقل مکانی کے منصوبوں کو ناکام بنائیں گے‘۔ اقوام متحدہ کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ نے غزہ کے 90 فیصد باشندوں کو بے گھر کر دیا ہے، جن میں سے کئی کو بار بار نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا ہے کہ قابض انتہا پسند ذہنیت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ فلسطینی سر زمین کی فلسطینی عوام کے لیے کیا اہمیت ہے اور تاریخی اور قانونی اعتبار سے وہ اس زمین سے کتنی گہری شعوری وابستگی رکھتے ہیں۔

واضح رہے اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے سعودی سرزمین پر فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز دی تھی۔