مشرق وسطیٰ میں نئی امریکی حکمت عملی
- تحریر خالد محمود اوسلو
- سوموار 10 / فروری / 2025
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کروا کر امریکی تحویل میں لینے کا بیان دے کر اپنے انوکھے اندازسیاست کو برقرار رکھا ہے۔ اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق نئے ورلڈ آرڈر کو چلانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔
جو صرف امریکی طاقت کے استعمال کی حدود وقیود پرمنحصر ہو گا۔ سردست اس بیان کو سوائے اسرائیلی انتہا پسند حلقوں کے دنیا بھر میں کہیں سے پذیرائی نہیں ملی۔ اور اسے غیرسنجیدہ اور غیر انسانی گردانا جا رہا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ امریکی صدر کو انسانیت کا درس دینے والے سوائے زبانی بیان بازی کے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ جس کی مثال غزہ میں برپا اسرائیلی بربریت پر عالمی بے حسی ہے۔ صدر ٹرمپ اگر اپنے بیان کو عملی شکل دیتا ہے تو اس کو روکنے والا کوئی نہیں۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے معرض وجود میں آنے سے لےکر یہی دستور ہے کہ طاقتور قوتیں اپنی مرضی کے مطابق بین الاقوامی قوانین کی تشریح کرتی ہیں اور مرضی سے عمل کرتی ہیں اور کسی بھی خلاف قانون اقدام پر ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صرف کمزور قومیں ہی ان واضع کردہ بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔
اس کی ماضی قریب میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ آج بھی یہ تضاد غزہ میں اسرائیلی اور یوکرائن کے خلاف روسی جارحیت پر مغربی ممالک کی طرف سے اپنائےگئے دوہرے معیار سے عیاں ہے۔ لہذا صدر ٹرمپ کے بیان کو ایک دیوانے کا خواب سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے بلکہ اسے سنجیدہ لیتے ہوئے اس میں مضمر سیاسی چال کو سمجھ کر تمام سفارتی اور سیاسی صلاحیتوں کو بروئے کار لا تے ہوئ ےصدر ٹرمپ کو اس انتہا پسندانہ کارراوئی سے باز رکھنے کی کوئی راہ نکالی جائے۔ بصورت دیگر ایک بھیانک صورتحال سے بچنا مشکل ہو گا۔
گو صدر ٹرمپ کا یہ بیان غیر حقیقی ہے اور ناقابل عمل بھی لیکن یہ امید ہر گز نہ رکھی جائے کہ ٹرمپ اخلاقی درس یا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی خاطر اپنی سوچ کو بدل سکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت مشرق وسطیٰ ایک نیا روپ دھار چکا ہے اور آج سے چند سال قبل امریکی طاقت کے ٹوٹنے کا تصور یکسر بدل چکا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی سطح پر امریکہ کو سوائے چین کی اُبھرتی اقتصادی طاقت کے کوئی چیلینج درپیش نہیں۔ چین کو اپنی اقتصادی ترقی کے علاوہ امریکہ سے کسی تصادم کی خواہش نہیں اور نہ ہی چین عسکری محاذ پر امریکی اجاراداری کو چیلنج کرنے میں اُلجھنا چاہتا ہے ۔ لہذا قوی امکان ہے کہ امریکہ اپنی عسکری و اقتصادی طاقت کی برتری سے جیو پولیٹیکل اہداف کی طرف بڑھے گا۔
اگرچہ پہلے بھی یہی صورتحال تھی لیکن ماضی قریب و بعید میں کچھ ممالک اپنے مفادات کی خاطر درپردہ کسی بھی علاقائی اتحاد کے سہارےامریکی خواہشات کی تکمیل میں آڑے آتے رہے ہیں۔ جس کی ایک مثال دس سال قبل شام میں صدرحافظ الا اسد کی حکومت کا بچ جانا اور حزب اللہ اور حوثی عسکری تنظیموں کا وجود ہے۔ لیکن اب یوکرائن کی جنگ نے روس کے بین الاقوامی کردار کو مفقود کر دیا ہے جس کا نتیجہ شام میں صدر اسد کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ آج سے چند ماہ قبل کے برعکس مشرق وسطیٰ اب مکمل امریکی غلبے میں ہے، جس کے پیش نظر اب نئے سیاسی و تزویراتی نقشے کے حاشیے امریکہ کی منشا کے مطابق ہی کھینچے جائیں گے۔ لہذا کسی بہتری کے لیےامریکی منشا کا حصول ہی متمع نظر ہونا چاہیے۔
مصر اور اردن کی طرف سے ٹرمپ کی خواہش کے سامنے ڈٹ جانے کی توقع ایک خام خیالی ہے۔ یہ دونوں ملک اور حکومتیں امریکی امداد پر چل رہی ہیں۔ لہذا کسی امریکی حکم سے انکاری ان کے بس میں نہیں۔ ان کے لیے ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کویہ باورکرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی ان ممالک میں آبادکاری وہاں کے سیاسی وسماجی نظام میں توازن کو بدلتے ہوئے ان حکومتوں کے عدم استحکام کاموجب بن سکتی ہے، جس سے امریکی مفادات بھی متاثرہو سکتے ہیں۔ لہذا باز رہا جائے ۔جہاں تک یہ دلیل کہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینی آبادی کو غزہ سے بے دخل کیسے کیاجا سکتاہے تو حالیہ اسرائیلی ظالمانہ جارحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی بے دخلی کے لیے بربریت کا نیا بازار گرم کرنا بعید از قیاس نہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف کامحور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ مقصدکیسےحاصل کیا جاتا ہے۔ خطے میں ایک مصالحانہ اور منصفانہ بنیاد پر حقوق کی تقسیم یا پھر طاقت سے جبر کا فیصلہ۔ لیکن جبر پہ قائم فیصلے نہ دیر پا ہوتے ہیں،اور نہ ہی استحکام لا پاتے ہیں۔