یرغمالی 4 دن میں رہا نہ ہوئے تو جنگ بندی ختم کردی جائے: ٹرمپ

  • منگل 11 / فروری / 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ہفتہ کے روز تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدے  ختم کر دینا چاہیے۔ چار دن کی مہلت دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کیاجائے۔

تاہم امریکی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ اُن کا ذاتی خیال ہے اور اس ضمن میں اسرائیل خود اپنا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اب بھی غزہ میں 76 اسرائیلی یرغمالی میں موجود ہیں جن میں سے 73 کو سات اکتوبر کے حملے کے بعد اغوا کیا گیا تھا جب کہ بقیہ تین یرغمالی گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے حماس کی قید میں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو قہر ٹوٹ پڑے گا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے ان کی مراد اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پتہ چل جائے گا اور اُن کو بھی۔ حماس کو پتا چل جائَے گا کہ میرا کیا مطلب ہے۔‘

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس کی جانب سے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لانی جانی تھی اور اس کے بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید 1900 فلسطینیوں کو رہائی ملنی تھی۔

جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اب تک حماس کی جانب سے 16 اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں 17 مزید یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جانا ہے۔

یاد رہے کہ تین مزید یرغمالیوں کو ہفتہ کے ر وز رہا کیا جانا تھا۔ تاہم سوموار کے روز حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل اگلی اطلاع تک معطل کر رہے ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر ہوئی ہے، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں انھیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی نہ بنانا شامل ہے۔

حماس کا کہنا کہ تحریک (حماس) نے اپنے وعدوں کا مکمل احترام کیا ہے۔  اب یرغمالیوں کی رہائی کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد پر ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا اعلان جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی ہے۔