ناکام حکومت، ناکارہ جج اور بدعنوانی کا بڑھتا انڈکس

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران  قومی منظر نامے پر تین قابل توجہ خبریں سامنے آئی ہیں۔پہلی خبر   یہ ہے کہ پاکستان کا دورہ کرنے والی آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی اور پروگرام کے نفاذ اور جائیداد کے حقوق سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ دوسری خبر کے مطابق  ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے پاکستان میں بدعنوانی  میں اضافہ کی اطلاع دی ہے۔ تیسری خبر  میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدلیہ، پارلیمنٹ، ایگزیکٹو سب زوال پذیر ہیں۔ اب امیدیں صرف نوجوان نسل سے ہیں۔

ان تینوں  خبروں پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کا تعلق ملک میں  حکمرانی کے  نظام سے ہے۔ نہ خود ہمیں اپنے نظام پر بھروسہ ہے اور نہ ہی عالمی ادارے پاکستان میں گورننس کی صورت حال سے  مطمئن ہیں۔ آئی ایم ایف جیسے ادارے پاکستان کی مدد ضرور کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنی شرائط کے نفاذ، معاشی اصلاحات کو یقینی بنانے اور معاہدوں کی تکمیل کے لیے حکومت کے وعدوں پر اعتبار نہیں کرتے ۔  پہلے  آرمی چیف سے ضمانتیں مانگی جاتی تھیں لیکن اب  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات میں ایسی ہی گارنٹی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔   چیف جسٹس کے ساتھ آئی ایم ایف ٹیم کی ملاقات حکومتی سہولت کاری ہی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ  ہمہ وقت ملک کو درست سمت گامزن کرنے کا دعویٰ کرنے  والی  شہباز شریف کی حکومت کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ آئی ایم ایف یا کوئی دوسرا ادارہ ملک کی منتخب اور پارلیمنٹ کا اعتماد رکھنے والی حکومت  پر  اعتبار نہیں کرتا۔ جب ایسی بد اعتمادی کا مظاہرہ  ہوتا ہے تو حکومت ان اداروں کے نمائیندوں کی عسکری قیادت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کا اہتمام کرادیتی ہے۔

 کبھی کسی ملک میں یہ دیکھا یا سنا   نہیں گیا  کہ بیرون  ملک سے آئے ہوئے وفود اور سفیر حکومت کے نمائیندوں  یا وزارت خارجہ کے علاوہ کسی دوسری شخصیت سے ملاقات کریں ۔اور نہ ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جمہوری انتظام میں آئی ایم ایف کے وفد کو چیف جسٹس سے بات کرکے اپنی مرضی بتانے کی اجازت  دی جائے۔ یہ طریقہ  ملک میں بدترین طرز حکومت کے دو انتہائی ابتر پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک یہ کہ حکومت اپنی اتھارٹی اور وقار کے بارے میں قطعی حساس نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس وقت شہباز شریف ایک فرد نہیں بلکہ  چوبیس کروڑ آبادی کے بڑے ملک کے وزیر اعظم کے طور پر  بیرونی ممالک اور اداروں سے معاملات طے کرتے ہیں۔ ملک میں آئینی انتظام موجود ہے اور بیرون ملک سے آنے والے ہر شخص کو ملکی حکومت کو ہی جائز  اور نمائیندہ مان کر اس کی بات پر اعتبار کرنا چاہئے۔  لیکن جب کوئی  ادارہ حکومت سے کہتا ہے کہ وہ مطمئن نہیں ہیں بلکہ انہیں ’ضمانتیں‘ حاصل کرنے کے لیے طاقت ور اداروں سے ملاقات کرنا ہوگی تو حکومت اس کی سہولت کاری کرتے ہوئے، اس بے بسی و ناکامی کو بھی اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔  اس کا دوسرا پہلو  حکومت کی قوت نافذہ سے متعلق ہے۔ حکومت نہ صرف بیرون ملک سے آئے ہوئے وفود اور مہمانوں کے سامنے بے آبرو ہورہی  ہے اور ملک کے خود مختار اداروں کی اوٹ میں پناہ لے کر  عزت بچانے کی کوشش کرتی ہے بلکہ ملک کے اندر بھی حکومتی ادارے قانون نافذ کرنے  میں ناکام ہیں۔ نہ  انتہا پسندی یا دہشت گردی پر قابو پایا جاسکا ہے، نہ جرائم کی روک تھام ممکن ہے اور نہ ماحولیات سے متعلق سادہ سے احکامات جیسے پلاسٹک تھیلوں  کا استعمال بند کرنے اور درخت نہ کاٹنے جیسے بنیادی اہمیت کے فیصلوں پر عمل کرایا جاسکتا ہے۔ ایسی بے توقیر اور کمزور حکومت لیکن ملکی معیشت بحال کرنے اور کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کا دعویٰ کرنے   سے نہیں چوکتی۔

یہ صورت حال پاکستان کو دنیا میں  ایک کمزور اور ناقابل اعتبار ملک کے طور پر پیش کرتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ بیرون ملک سے اربوں ڈالر سرمایہ لاکر ملک میں خوشحالی کا نیا دور لانے والی ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ بار باراعلانات کے باوجود بات  افہام و تفہیم کی یادداشتوں سے آگے نہیں بڑھتی۔   آرمی چیف کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے بعد اب چیف جسٹس کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنے والی حکومت یہ سمجھنے سے قطعی طور سے قاصر ہے کہ ایسا طرز عمل حکومت ہی نہیں ملک کے بارے میں ایک  ایسی تصویر سامنے لاتا ہے جس میں آہستہ آہستہ پاکستانی  ریاست ناقابل اعتبار ہوجائے گی۔ جو حکومت  ملکی خود مختاری اور  وضع داری   نبھانے  کی بجائے اسے نیلام کرنے میں کوئی پریشانی محسوس نہ کرے، اس سے  ملک کو درست منزل کی طرف لے جانے کی توقع کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔

آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے میڈیا سے بات چیت میں اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ سپریم کورٹ آئی ایم ایف سے ’ڈکٹیشن‘  لینے پر مجبور کردی گئی ہے۔  جسٹس آفریدی ایک پروفیشنل جج ہیں۔ وہ میڈیا سے بات کرنے یا عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس کے نام پر  سیاسی بیانات دینے کے قائل نہیں ہیں لیکن آئی ایم ایف کی ٹیم سے غیر معمولی حالات میں ہونے والی ملاقات کے بعد انہوں نے عدلیہ کی خود مختاری کی یقین دہانی کرانا ضروری سمجھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا گیا کہ ’ ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے۔  یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ آپ کو ساری تفصیلات بتائیں۔  وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا۔ وفد کو بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں‘۔ چیف جسٹس کی اس وضاحت سے بظاہر عدلیہ کی خود مختاری کی یقین دہانی  کرائی گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اگر ملک میں بدانتظامی  عام ہو اور حکومت   اپنی اتھارٹی  و اختیارات کومنوانے میں ناکام ہورہی ہو تو مضبوط ادارے بھی  کمزور  لگنے  لگتے ہیں۔ عدلیہ پر ایک وار درون خانہ  نام نہاد خود مختار ججوں کی طرف سے ہورہا ہے اور دوسرا وار  حکومت نے چیف جسٹس کو عالمی اداروں کے سامنے ضامن بنانے کی کوشش کرکے کیا ہے۔

کسی ملک میں گورننس  کی صورت حال سے بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ کی نئی رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ  پاکستان میں کرپشن کی درجہ بندی  دو پوائینٹ کی  کمی  ہوئی ہے۔ اب یہ بدعنوان ممالک کی فہرست میں  135  ویں نمبر پرہے۔ گزشتہ سال پاکستان 29 پوائینٹ کے ساتھ 133ویں پوزیشن پر تھا۔   اب اس کے 27 پوائینٹ ہیں۔  یہ بظاہر دو پوائینٹ کی کمی ہے  لیکن اس  کمی کے سادہ الفاظ میں یہ معنی ہیں کہ ملک میں بدعنوانی بڑھ رہی ہے۔ یعنی رشوت، اقربا پروری، سرکاری دھونس اور وسائل کے ناجائز استعمال کی صورت حال  خراب ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے تاریخی طور پر  پاکستان کا یہ ریکارڈ  بدترین  ہے۔ جب ملک میں بدعوانی عام ہو اور حکومت اس کی روک تھام کرنے میں کامیاب نہ ہورہی ہو بلکہ اس میں اضافہ کا سبب بنی ہو تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ وہ حکومت ناکام ہے۔ 

موجودہ حکومت نے بیرونی امداد و سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت کو تیز تر کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ملک میں  آزادی رائے کو محدود کرنے اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے  ریاستی  طاقت کااستعمال عام ہے۔   اس کے باوجود اگر حکومت کرپشن پر قابو پانے میں ناکام ہے تو وہ کیسے بیرونی سرمایہ کاروں کو اعتبار دلائے گی کہ پاکستان میں ان کا  سرمایہ محفوظ ہوگا اور وہ اس سے زیادہ منافع حاصل کرسکیں گے۔  سرمایہ کار خواہ وہ کوئی فرد ہو، ملک ہو یا ادارہ ، سب سے پہلے اپنے سرمائے کا تحفظ چاہتا ہے، اس پر منافع کی خواہش رکھتا ہے اور پھر یہ ضمانت مانگتا ہے کہ ضرورت  پڑنے پر وہ آسانی سے اپنا سرمایہ جہاں چاہے منتقل کرسکتاہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے بھی درحقیقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اسی قسم  کی ضمانتیں مانگنے کے لیے ملاقات کی تھی۔ کیوں کہ حکومت اپنی کمزوری اور نااہلی کی وجہ  سے یہ ضمانت دینے میں ناکام ہے۔

تیسری خبر ملکی عدلیہ میں بعض ججوں کی طرف سے عدالت کو سیاسی ڈبیٹنگ فورم بنانے سے متعلق ہے۔  بعض عالی وقار ججوں کا حوصلہ ہے کہ معاملہ خواہ کچھ  ہی ہو، وہ حسب خواہش و ضرورت اپنے ’سیاسی ‘خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں چوکتے۔ یوں تو  ججوں کا خطوں کے ذریعے سیاست کرنا بھی معیوب اور افسوسناک ہے لیکن اگر عدالتی کارروائی کے دوران جج پوری قوم کو ناکام  قرار دے کر  قومی اداروں کی  تنزلی  کا اعلان کرنے  لگیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی قوم کی اصلاح ججوں کے ریمارکس اور احکامات سے بھی ممکن  ہوسکتی ہے؟ اسلام آباد ہائی  کورٹ  میں  آج فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے خلاف ایک درخواست پر غور کیا جارہا تھا۔ اس درخواست میں سی ایس ایس کے نتائج جاری کرنے سے پہلے نئے امتحانات   کا انعقاد روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔  فاضل جج نے اس معاملہ پر تو فیصلہ محفوظ کرلیا لیکن سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ’ پاکستان میں رہنا مستقل لڑائی ہے۔ 24 سے 25 کروڑ لوگ ہیں۔ لڑائی کرنے والے زیادہ اور بچنے والے کم ہیں۔ مجھ سمیت 45 سال سے زائد عمر کے لوگ ناکارہ ہیں۔  نوجوانوں نے ہی اس ملک کے لیے کچھ کرنا ہے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، ایگزیکٹو سب زوال پذیر ہوچکے ہیں۔  اب امیدیں صرف نوجوان نسل سے ہیں‘۔

بظاہر ان ریمارکس کا درخواست یا امتحان منعقد کرانے کے تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن سماعت کرنے والے جج کو اس سے غرض نہیں کیوں کہ ان کے  خیال میں  چونکہ  آئین ججوں کی خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے ، ا س لیے وہ  انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر کوئی بھی بھاشن  دے سکتے ہیں۔ لیکن جج صاحب کو  خود ہی  بتانا چاہئے تھا کہ دوسروں کی بات تو جانے دیں ،  اگر وہ خود کو ناکارہ  و  ناکام سمجھتے ہیں تو  کیاان کا ضمیر ایک ناکارہ شخص کو ہائی کورٹ کے منصف کی کرسی پر براجمان دیکھ کر شرمسار نہیں ہوتا؟ کیا وجہ ہے کہ اپنی نااہلی و ناکامی کا اعتراف کرنے کے بعد بھی وہ منصف  کے طور پر لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنا جائز سمجھتے ہیں؟