شاہ حسین نے ٹرمپ کے غزہ پلان کو مسترد نہیں کیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن کے شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات میں ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دوہرایا ہے کہ غزہ میں فلسطینی واپس نہیں جا سکیں گے۔ یہ علاقہ امریکہ کے کنٹرول میں ہو گا اور اسے ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس موقع پر اردن کے شاہ عبداللہ نے ٹرمپ کے منصوبہ کے خلاف بات کرنے کی بجائے صرف اتنا کہا کہ کہا ہے کہ وہ اس معاملہ پر سعودی عرب اور دیگر ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس بات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ کس طرح صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔
یہ ایک ایسا منصوبہ ہےجو ممکنہ طور پر صرف اس صورت میں کام کر سکتا ہے جب اردن مزید پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر راضی ہو۔ ٹرمپ اور شاہ عبداللہ نے اوول آفس میں ملاقات کی۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اردن اور مصر کی امداد روکنے کی دھمکی دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس بارے میں دھمکی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس سےبالا ترہیں‘۔ یہ امریکی صدر کے اس سابق بیان سے مختلف موقف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر مصر اور اردن نے غزہ کے فلسطینیوں کولینے سے انکار کیا تو وہ ان دونوں ملکوں کی امداد روک سکتے ہیں۔
شاہ عبداللہ سے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کی تعمیر نو کےمنصوبے کے بارے میں بار بار پوچھا گیا لیکن انہوں نے اس پر کوئی ٹھوس تبصرہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی اس تجویز پر بات کی کہ ان کا ملک غزہ سے بڑی تعداد میں نئے مہاجرین کو قبول کر سکتا ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ اردن کیوں فلسطینیوں کو اپنے پاس رکھے گا۔ تو انہوں یہ سوال شاہ عبداللہ سے پوچھے جانے کے لیے کہا۔ ’میں نہیں جانتا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ کہنا چاہیں۔ ہم نے اس پر بات کی ہے۔ آپ ابھی کچھ کہنا چاہیں گے‘؟ اردن کے شاہ عبداللہ نے اس پر کہا کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ سعودی فرمانروا کی دعوت پر مصر اور عرب ملک ان کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم کس طرح سے کام کریں جو سب کے لیے فائدہ مند ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ظاہر ہے ہمیں امریکہ کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اور خطے کے لوگوں بالخصوص میرے اپنے اردن کے لوگوں کے مفادات کو بھی۔ ہم اس پر تفصیلی بات کریں گے ۔ فوری طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم دو ہزار فلسطینی بچوں کو لے رہے ہیں جو کینسر کا شکار ہیں یا شدید بیمار ہیں۔ اور پھر ہم مصر کے پلان کا انتظار کریں گے کہ کس طرح ہم صدر ٹرمپ کے غزہ چیلنج سے متعلق پلان پر کام کر سکتے ہیں۔
اس پر ٹرمپ نے اردن کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ غزہ سے کینسر کے شکار دو ہزار بچوں کو لے رہے ہیں۔ یہ خوبصورت اظہار ہے۔ اور میں اس کی تعریف کروں گا۔ غزہ منصوبے پر امریکی صدر نے کہا کہ ہم اس پر کام کرتے رہیں گے۔۔ آپ دیکھیں گے کہ مصر کے ساتھ بھی بات آگے بڑھے گی۔ اردن کے ساتھ بھی، دیگر اعلی سطح کی شراکت داری بھی ہو گی۔ یہ پیچیدہ کام نہیں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ا مریکہ جس بڑے زمینی رقبے پر کنٹرول چاہ رہا ہے، اس سے خطے میں استحکام آئے گا۔ مشرق وسطی میں پہلی بار استحکام آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی جو ابھی غزہ میں رہتے ہیں، خوبصورت انداز میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔ تحفظ کے ساتھ، نہ کہ ہر دس سال بعد وہ مارے جا رہے ہوں یا گھروں سے نکالے جا رہے ہوں۔ میں کئی برسوں سے یہ سب کچھ دیکھتا آ رہا ہوں، وہاں سوائےمصائب کے اور کچھ بھی نہیں۔۔
اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ تجاویز بھی دہرائیں کہ امریکہ غزہ پر کنٹرول کر سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے لیے امریکی فنڈز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ امریکی اتھارٹی کے تحت ممکن ہو گا۔ البتہ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے غزہ میں امریکی کنٹرول کے بارے میں کہا کہ ہم کچھ خریدنے نہیں جا رہے ہیں۔ ہم اسے حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تعمیر نو کے بعد علاقے میں نئے ہوٹل، دفتری عمارتیں اور مکانات تعمیر ہو سکتے ہیں۔ ہم اسے زبردست بنائیں گے۔