پاکستان کے اندرونی و بیرونی مسائل
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 13 / فروری / 2025
سب سے پہلے مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن اور اس کے ذمہ داران کا شکر گزار ہوں۔ میں ایک انتہائی معمولی اقلیتی سوچ کا حامل ہوں۔ اس لیے کسی نوع کی تلخ نوائی پر پیشگی معذرت قبول فرمائیں۔
حکیم صاحب نے درویش کی کتابوں اور مذہبیت کا حوالہ دیا ہے سو اس سلسلے میں خود ہی وضاحت کیے دیتا ہوں کہ یہ ناچیز بنیادی طور پر ایک مولوی ہے، جو اپنی اوائل عمری میں درس قرآن بھی دیتا رہا۔ اس لیے آپ اسے ریٹائرڈ مولوی کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح ہمارے عام دیہاتی گھرانوں میں ہوتا ہے، یہ درویش اور اس کے گھر والے بریلوی اہل سنت تھے۔ جبکہ یہ ناچیز دیوبندی ہوگیا تو اپنی دادی سے کہتا کہ آپ یہ جمعرات کا اور گیارویں شریف کا ختم نہ دلوایا کریں۔ حالانکہ اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ کھیر ہی تو پکائی جاتی تھی جسے عام غریب لوگ کھا لیتے تھے۔ لیکن وہ ایک سوچ تھی بدعات کے حوالے سے مگر وہ کہتیں کہ نہیں پتر یہ تو شروع سے ہی دین کا حصہ ہے،
بہرحال پھر حدیث شریف پڑھتے ہوئے اہل حدیثوں یا وہابیوں میں شامل ہوگیا۔ وہ دن یاد ہے جب کعبہ شریف پر بلوائیوں نے قبضہ کر لیا اور مشہور ہوگیا یا کر دیا گیا کہ یہودیوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ اہل حدیثوں کی مسجد میں ظہر پڑھتے ہوئے دعائیہ ہاتھ اٹھائے ہم لوگ بھی قنوت پڑھ رہے تھے، اس قنوت میں یہود پلس امریکا پر لعنتیں بھیج رہے تھے۔ اور بہت سے لوگ رو رہے تھے، اسی دوران مودودیہ بھی ہو چکا تھا۔ پھر خمینی کا اسلامی انقلاب آیا تو شیعہ مسلک سے قربت مزید بڑھ گئی۔ یہ بھی لمبی داستان ہے، مابعد اصلاحی صاحب اور غامدی صاحب سے ہوتے ہوۓ براستہ سرسید اور ڈاکٹر طہ حسین دیگر مذاہب عالم کی طرف مراجعت ہوئی۔ بدھا اور جیزز تک رسائی ہوئی اور اب بالآخر بابا بلھے شاہ سرکار کا مرید بن گیا ہے یہ کہتے ہوۓ کہ:
“گل سمجھ آگئی تے رولا کی، رام رحیم تے مولا کی “
اور آج آپ کے سامنے پاکستان کے اندرونی و بیرونی مسائل پر اظہار خیال کے لیے شکر گزاری کے ساتھ کھڑا ہوں۔ مولانا ظفر علی خان کی شخصیت بھی بڑی دلچسپ تھی۔ ایک طرف تو انہوں نے دیوبند کے متعلق یہ کہہ رکھا ہے کہ:
شاد باذ و شادزی اے سرزمین دیوبند
ہند میں تو نے کیا اسلام کا پرچم بلند
دوسری جانب اتنے وسیع المشرب تھے کہ ہندو بھائیوں سے ہم آہنگی کے لیے فرمایا:
مولوی نہ ملے گا تو مالوی ہی سہی، خدا خدا نہ سہی رام رام کر لیں گے
حضرات گرامئ قدر! عرض یہ ہے کہ جب سے پیدا ہوا ہوں یہ سن رہا ہوں کہ پاکستان اندرونی و بیرونی مسائل میں گھرا ہوا ہے یا یہ کہ ہمارا ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ تو بندہ کسی نہ کسی دن ضرور یہ سوچتا ہے کہ وہ خوفناک یا اندوہناک مسائل ہیں کیا؟ جن میں ہمارا یہ پیارا ملک پھنسا ہوا ہے۔ یہ سوچتے ہی پہلی خرابی جو ذہن میں آتی ہے وہ اس کی ڈوبتی و ہچکولے کھاتی معیشت ہے، اس کی قومی گاڑی ہے جس کی کبھی تو بریکیں فیل ہو جاتی ہیں اور کبھی لائٹیں کبھی رنگ پسٹن اور کبھی انجن، کم از کم چار مرتبہ تو اس کے انجن کی اوورہالنگ بھی ہو چکی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ گاڑی آج بھی مانگے تانگے کے پہیوں اور پرزوں سے چل رہی ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر کہوں گا کہ اس کمزور جان کو مسائل ہی مسائل درپیش ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹیشن میں ہمیں جو وسائل دستیاب ہوئے تھے، جنہیں ہم اثاثہ جات کہہ سکتے ہیں، ان کے ساتھ کچھ لائیبیلیٹیز بھی تھیں۔ اب ہم اپنی مسلح فورسز کو اپنا اثاثہ کہیں گے یا لائیبیلیٹیز ؟ جو بھی کہیں، ہمارے حجم سے روز اول ہی یہ اچھی خاصی زیادہ تھیں۔ جغرافیہ، پاپولیشن اور اس نئے ملک میں موجود انفراسٹرکچر کو ایک جانب رکھتے ہوئے ملاحظہ فرمائیں تو یہ سب پانچواں چھٹا حصہ بنتی ہیں۔ مجموعی ہندوستان ک۔ا جبکہ فورسز الحمدللہ ہمیں انڈین فورسز کا ون تھرڈ مل گئی تھیں، جنہیں ہم لوگوں نے پالنے پوسنے اور مزید بڑھاوا دینے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
کسر نہ اٹھائے رکھنے کی جرات کر بھی کون کمبخت سکتا تھا یا ہے۔ وہ پرعزم جھپٹا مار کر ایسی سوچ رکھنے والے کا ذہن صاف بھی کر سکتے ہیں۔ کیا کسی کی مجال ہے کہ وہ اپنے ان طاقتور محافظوں کے بجٹ پر ترچھی نظر ڈال سکے۔ جو ایسی سوچ پالے گا وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارے گا۔ یا اپنی محرومیوں کو دعوت دے گا۔ ظاہر ہے جب ہم ڈیفنس کو اپنی نمبر ون پرائیریٹی قرار دیں گے تو اس کی قیمت ایجوکیشن اور ہیلتھ سمیت زندگی کے دیگر تمام ترقیاتی منصوبہ جات اور تمام سویلین شعبہ جات کو ادا کرنی پڑے گی۔
درویش کو اچھی طرح یاد ہے کہ جنرل ضیاالحق نے ایک مرتبہ اس نوع کا قومی مذاکرہ یا مباحثہ کروایا تھا جس کا عنوان تھا “پاکستان کا مسئلہ نمبر ون کیا ہے؟” اس میں ہمارے محترم ڈاکٹر جاوید اقبال کے علاوہ جناب حسین حقانی اور احسن اقبال نے بھی اپنے اپنے خیالات پیش کیے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جو ایشوز یا رولے تب ضیاالحق کے وقت تھے، اتنی دہائیاں گزرنے کے باوجود وہی بکھیڑے آج بھی ہیں۔ آج بھی اگر اس نوع کا مباحثہ کروایا جائے تو لوگ اپنی اپنی ترجیحات کی مطابقت میں ویسے ہی بولیں گے۔ کئی ایسے بھی مل جائیں گے جو آج بھی کشمیر کو پاکستان کا مسئلہ نمبر ون کہہ ڈالیں گ۔ے جیسے کہ اس وقت کئی حضرات نے کہا یامسئلہ افغانستان کو پاکستان کا مسئلہ نمبر ون کہہ دیا۔ اگرچہ اس طرح سوچنے والوں کی سوئی آج بھی وہیں کہیں اٹکی ہوئی ہے لیکن بہر کیف اس حوالے سے زیادہ اشتباہ اس وقت یا موجودہ حالات میں نہیں رہا ہے یانہیں رہنا چاہیے۔
جناب چئیرمین آپ اور تقریباً سبھی احباب اس سلسلے میں میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ اس وقت پاکستان کا ایشو نمبر ون کوئی اور نہیں، ہماری ڈوبتی بلکہ ہچکولے کھاتی معیشیت ہے۔ جب تک ہماری معاشی کشتی بھنور میں ہے ہم کچھ اور سوچ ہی نہیں سکت۔ے پیٹ میں روٹی نہ ہو، تو کیا کوئی انسان کچھ اور سوچ سکتا ہے؟ بھوکے آدمی کے سامنے آپ سورج چاند کی باتیں بھی کریں گے تو وہ انہیں دو روٹیاں ہی خیال کرے گا۔ حضرت بابا فرید جیسے عظیم صوفی بزرگ نے کیا خوب کہہ رکھا ہے کہ پنج بنا اسلام دے تے چھیواں ٹک، جے چھیواں نہ لبھے تے پنجے جاندے مک۔ لہذا اس پر تو شاید ہی کسی دوست کو اعتراض یا شکایت ہو کہ اس وقت ہماری پرابلم نمبر ون غربت، بےروزگاری اور معاشی بدحالی ہے جس کا لازمی فوری و بدیہی نتیجہ خوفناک مہنگائی کی صورت ہمارے سامنے ہے۔ بات ایلیٹ کلاس کی نہیں، ہمارے عام آدمی کی ہے۔ مہنگائی نے جس کی زندگی یہاں اجیرن بنا رکھی ہے۔
سچائی کے ساتھ اگر آپ مجھے حقائق بیان کرنے کی اجازت مرحمت فرما دیں تو عرض گزار ہوں کہ ہمارے یہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ ” ٹو نیشن تھیوری” کا مطلب یہ تھا کہ اس خطہ ہند میں ایک انڈین نیشن نہیں بلکہ ٹو نیشنز یعنی ہندو اور مسلمان رہتے ہیں۔ حالانکہ اس طرز فکر پر سوچنے والوں کے لیے اسی رواداری میں یہ تخیل بھی آتا ہوگا کہ یہاں اچھی خاصی تعداد میں سکھ بھی ہیں جن کا اپنا انڈیپینڈنٹ ریلیجن ہے۔ دیگر مذاہب بدھ مت، مسیحیت، پارسی مذہب کی موجودگی سے بھی انکار نہیں۔ لیکن پارٹیشن کی بنیاد ہندو مسلم بڑے مذاہب کے حقیقی یا مصنوعی ٹکراؤ پر استوار ہونے والی قومیت کو بنایا گیا جسے اس وقت کی حاوی ایسٹیبلشمنٹ نے نمک مسالے کے ساتھ خوب بڑھاوا دیا۔ یہ مطالبہ اٹھانے والوں کا استدلال یہی تھا کہ ہم علیحدہ ملک اس لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم وہاں اپنے مذہب عقیدے یا اسلامی روایات کی مطابقت میں زندگی گزار سکیں۔ حالانکہ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اسی ہندوستان میں جو مینارٹی مسلم خطے ہیں ان میں بھی تو کروڑوں مسلمان بستے ہیں۔ مسلم میجارٹی خطوں کا تو یہ اصل ایشو تھا ہی نہیں۔ وہاں تو پہلے ہی مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔ پنجاب اور بنگال جو دو بڑے مسلم میجارٹی خطے تھے، دونوں کے وزرائے اعظم سر خضر حیات ٹوانہ اور حسین شہید سہروردی اس وقت کے پاپولرمسلمان لیڈران تھے۔ اس نوع کا اگر کوئی مسئلہ تھا بھی تو وہ ان مسلمانوں کا تھا جو انڈیا کے ہندو میجارٹی اور مسلم مینارٹی خطوں میں آباد تھے۔ جیسے یوپی، بہار، آسام، کرناٹکا وغیرہ۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اتنی بڑی ریاست حیدرآباد، آندھرا پردیش وہاں مسلمان محض 13 فیصد تھے۔ لیکن اتنے طویل دور سے نظام حیدرآباد کی برکت سے مسلمان وہاں سونے کی اس کان پر حکمرانی کرتے چلے آرہے تھے جو پارٹیشن کی صورت میں ان سے چھن گئی یا چھوٹ گئی اور چھوٹ جانی ہی تھی۔
عرض مدعا یہ ہے کہ ہم نے یہ جو توجیہہ گھڑی “ٹونیشن تھیوری” کی اس نے ہمیں فائدہ کم دیا اور نقصان زیادہ۔ متحدہ پنجاب اور متحدہ بنگال پر مسلمان جتنی بڑی حکمرانی سے مستفید ہو رہے تھے، اس پر بہت بھاری کٹ لگا۔ نتیجتاً تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت ہی نہیں ہوئی، 10 لاکھ سے زائد انسان گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالے گئے۔ پارٹیشن سے قبل مسلم حکمرانی کے جو سبز باغ دکھائے گئے تھے اس پر بہت جلد خزاں طاری ہو گئی جس امارت، ترقی اور خوشحالی کے سپنے دکھائے گئے تھے وہ سب چکنا چور ہو گئے۔ اور اب حالت یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اس مملکت خداداد کو چھوڑ کر یورپ اور امریکا بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ اپنی اس تڑپ میں وہ غیر قانونی راہیں اختیار کرنے سے بھی باز نہیں آرہے۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہمارے یہ نوجوان اپنی زندگیاں رسک میں ڈال رہے ہیں۔ آئے روز خبریں آتی ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کو یورپ لے جاتی کشتیاں یونان یا مراکو کے قریبی ساحلوں میں ڈوب رہی ہیں۔ اور اتنے نوجوان سمندر میں ڈوب کر مرگئے ہیں۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو چھوڑ کر یورپ امریکا بھاگ جانے کی تمنائیں آج بھی نسل نو میں زوروں پر ہیں۔ درویش کا سوال یہ ہے کہ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو پھر ہندوستان کا کھلواڑ کرتے ہوئے الگ اسلامی ملک بنوایا ہی کیوں تھا؟ یورپ اور امریکا بھاگ جانے کی آرزو یا حسرت کے پیچھے مذہب یا کلمے کی محبت تو نہیں ہے۔ اگر اسلام کی محبت میں یہ سب ہوتا تو ان نوجوانوں کا رخ سعودی عرب کی طرف ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ یہاں حالت یہ ہے کہ ہمارے جو نوجوان سعودی عرب میں نوکریاں کررہے ہیں، کوششیں ان کی بھی یہی ہوتی ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کسی بھی وقت ویسٹ کا رخ کریں۔
مسئلہ واضح ہوا کہ ایشو عقیدے کا نہیں، بہتر معیار زندگی یا معاشی خوشحالی کا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ہم نے بڑی بڑھکیں ہانکتے ہوئے یہ ملک بنوایا تھا تو پھر ہم نے اس کی معاشی خوشحالی یا بہتر معیار زندگی کا کیا سوچا تھا؟ اپنی نئی نسلوں کے لیے اس کا کیا اہتمام کیا تھا؟ نہیں کیا تو کیوں نہیں؟ اس کے ساتھ ہی مسائل کی نہ ختم ہونے والی ایک فہرست ہمارے سامنے آجائے گی۔ یہ کہ دیکھیں جی اس ملک میں کرپشن بہت زیادہ ہے جو کرسی پر بیٹھتا ہے وہ لوٹ مار کرتے ہوئے اپنی جیبیں بھرنی شروع کر دیتا ہے۔ پھر ہماری سوئی اس کرپشن یا بددیانتی کے ایشو پر اٹکی رہتی ہے، جسے اس ملک میں بطور سلوگن اتنا زیادہ استعمال کیا گیا ہے کہ ہمارے طاقتوروں نے جب بھی اچھی بھلی مستحکم حکومتوں پر شب خون مارنا ہو یا سیاسی بونوں نے اپنا قد کاٹھ بڑا کرنا ہو تو اس گھسے پٹے نعرے کو خوب رگیدا جاتا ہے۔ نو ڈاؤٹ یہ مسئلہ ایک حد تک پوری دنیا میں ہے لیکن ہمارے یہاں اس پر بند باندھنے کی بجائے اسے بطور ہتھیار اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا وتیرہ عام ہے۔ جس نے ہمارے ملک میں اس خرابی سے بھی بڑی اور زیادہ تگڑی خرابیاں ڈال دی ہیں جس سے ملک میں موجود دیگر بڑی بڑی لعنتیں نظر انداز ہوجاتی ہیں۔
مثال کے طور پر ہمارے عدالتی نظام کا بیڑا غرق ہوا پڑا ہے۔ انصاف ہوتا ہے نہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہاں انصاف بکتا ہے اور خود جوڈیشری والے اس کے بڑے بیوپاری ہیں۔ اس مفاد پرستی اور سیاست بازی میں کیا کسی کا دھیان اس طرف جاتا ہے کہ ہمارے یہاں تعلیم کی کیا صورتحال ہے؟ کس قدر شرمناک المیہ ہے کہ ہمارے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں یعنی انہوں نے کسی سکول کا منہ تک نہیں دیکھا، ہماری نئی نسل کا باہر کے ملکوں میں جانا کوئی بری بات نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کس تعلیم اور کس ہنر کے ساتھ؟ ہم ان بیچاروں کو محض لیبر کلاس میں کیوں بھیج رہے ہیں؟ ہمارے یہاں تعلیم خواہ وہ علم و عرفان کی ہو یا ٹیکنیکل اس طرف کس کی کتنی توجہ ہے؟ اپنے بجٹ کا کتنا حصہ ہم تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں؟ کچھ یہی حال ہیلتھ کا ہے ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی ذرا حالت زار کو دیکھیں کھوکھلے نعرے جتنے چاہے لگاتے رہیں توبہ توبہ ہے آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ اگر آپ کا کوئی بیمار عزیز اس طرح رل رہا ہو، ذرا اپنے دفاعی بجٹ سے ایجوکیشن اور ہیلتھ کے بجٹ کا تقابلی جائزہ تو لیں تمام حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے ۔
ہمارے عوام کے دکھوں کو سمجھیں، کیا یہاں کسی کی زندگی محفوظ ہے امن و امان کی صورتحال کس قدر خراب ہے۔ پولیس کے معنی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا نہیں، شرفا کی تذلیل کرنا ہے۔۔ کہنے کو ہمارا ملک اسلامی جمہوری اور آئینی ریاست ہے لیکن یہاں امن و سلامتی والا کوئی اسلام نہیں ہے۔ صرف فرقہ وارانہ منافرت ہے ۔بریلوی، دیوبندی، وہابی، شیعہ مودودیہ کی تقسیم ہے، جیسے کہ ابھی بیان کیا یہ درویش خود بھی ان تمام فرقوں کو بھگت کر آیا ہے۔ سب کو باریکی سے پرکھا اور آزمایا ہے۔ ان مذہبی فرقہ بندیوں نے محض منافرتوں کو ابھارا ہے۔ انسانوں کو جوڑا نہیں توڑا ہے۔ یہ ہمارے صوفی سادھو ہی ہیں جو انسانوں میں نفرتوں کی جگہ محبت بانٹتے رہے ہیں۔
ہمارا دعوی تو یہی رہا ہے کہ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا جبکہ عملی مظاہرہ اس کے برعکس رہا ہے۔ مذہب کے نام پر اٹھائی گئی منافرت نے ہی اس خطے کو بٹوارے تک پہنچایا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے بعد ہی ٹھہراؤ آجات۔ا دو بھائیوں نے اگر اپنے شرارتی بچوں کی وجہ سے آنگن میں دیوار بنالی تھی تو اس کے بعد ہی بھائیوں سے محبت بھرے تعلقات قائم رہت۔ے جیسے کہ خود جناح نے کہا تھا کہ ہمارے تعلقات امریکا اور کینیڈا جیسے ہوں گے۔ مگر منافرتیں پارٹیشن کے باوجود ختم نہ ہوسکیں۔ جس طرح یہاں اندرونی طور پر چار مارشل لا لاگو کیے گئے ہیں، اس طرح بیرونی طور پر یہاں انڈیا کے ساتھ چار جنگیں لڑی گئی ہیں۔ کس کی شرارت یا زیادتی سے یہ سب ہوئی ہیں؟ اس بحث میں جائے بغیر پاکستان کے ایک معتبر اور قابل احترام سیاستدان ائیر مارشل اصغر خاں کا بیان پیش کرتا ہوں جو سوشل میڈیا پر بھی ان کی زبانی موجود ہے۔ آپ سب ملاحظہ فرما سکتے ہیں، یہ کہ “پاک ہند چاروں جنگیں انڈیا نے نہیں پاکستان نے شروع کی تھیں”۔ بہانے جو بھی ڈالے گئے پروپیگنڈے جو بھی کیے گئے، یہاں نہ جمہوریت آسکی نہ ذمہ دار حکومتیں قائم ہوسکیں۔ لوٹ کھسوٹ دھینگا مستی ہمارا وتیرہ بنی رہی۔
پارٹیشن سے قبل دنگے فساد بھی دوسروں کی طرف سے نہیں ہماری طرف سے شروع کیے گئ۔ے جسے شک ہے وہ پارٹیشن سے قبل 16 اگست 1946 کی ڈائریکٹ ایکشن ڈے کی کال اور اس کے رد عمل میں ہونے والے فسادات کی تفصیلات ملاحظہ کر لے جو لیگ اور اس کے قائد طرف سے دی گئی تھی۔
اسی طرح ادھر اس ہمارے والے حصے کا تاریخی حوالے سے جائزہ لیں تو راولپنڈی سے منافرت آغاز بھی ہمارے لوگوں نے کیا تھا جب ماسٹر تارا سنگھ کی ماں کو زندہ جلا دیا گیا اور ہندوؤں کے ساتھ سکھوں پربھی بدترین مظالم ڈھائے گئے۔ اور یہ سلسلہ ملتان سے سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، چکوال اور نارووال تک پھیلتا چلا گیا۔ لاہور میں بھی ہندوؤں کے خلاف ان کی کاروباری حب شاہ عالمی میں آگ لگاتے ہوئے جو کچھ کیا گیا ہے جو قیامت صغری بپا کی گئی، یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ لاہور جہاں کی شہری ہندو آبادی مسلمانوں سے کم نہ تھی اور پراپرٹی کے لحاظ سے بھی 75 سے 80 فیصد انہی کی ملکیت تھی، آج اس لاہور میں کوئی ہندو ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ جبکہ میں نے دہلی میں خود اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کی آبادیاں ملاحظہ کی ہیں۔ دہلی آج بھی مسلمانوں سے بھری پڑی ہے۔ ان کے کھابے قابل ملاحظہ ہیں۔ جوابی ری ایکشن میں بھی ہندو قیادت نے وہاں سے مسلمانوں کو نہیں نکالا۔ انڈیا میں مسلم آبادی دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی ہے، 9 فیصد سے بڑھ کر مجموعی آبادی کا 15 فیصد بن چکی ہے جبکہ اس تضادستان میں پچیس یا انیس پرسنٹ سے کم ہوتے ہوۓ محض ون پرسنٹ رہ گئی ہے۔ اور اس کا جینا بھی ہماری مسلمانی نے حرام کیا ہواہے۔
ہمارے آج کے مسائل کی جڑیں انہی زیادتیوں میں پیوست ہیں۔ آج ہمارے اندرونی مسائل غربت، مہنگائی لاقانونیت سے آگے بڑھ کر جہالت اور جنونیت تک پہنچے ہوئے ہیں۔ درویش نے ایک مرتبہ معروف مسلم سکالر ڈاکٹر اسرار احمد سے پوچھا ڈاکٹر صاحب مسلمانوں کا بیڑا غرق کرنے میں انہیں ظالم جنونی بنانے میں آپ کا رول زیادہ ہے یا مولانا مودودی کا ؟ تو ڈاکٹر صاحب اپنے مخصوص سٹائل میں موٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے فی البدیہہ بولے” نہ تو یہ اقبال کیا آپ کا چاچا لگتا ہے اسے کیوں چھوڑ دیا”۔ درویش نے ڈاکٹر جاوید اقبال سے ایک مرتبہ پوچھا ڈاکٹر صاحب ابا جی کا کیا کام تھا کسی قاتل دہشت گرد کے جنازے میں جانے کا؟ وہ کیوں گئے تھے؟ تو فرزند اقبال ڈاکٹر صاحب فورا” بولے اصل میں ابا جی اپنی زندگی میں بہت پاپولر ہو چکے تھے۔ اس لیے وہ اپنی اس پاپولیرٹی کو مینٹین رکھنے کے لیے وہاں گئے تھے نہ جاتے تو ان کی یہ پاپولیرٹی ڈیمیج ہو جاتی۔ بس یہی بے اعتدالیاں ہیں جو پہیم ہمارے مسائل بڑھاتی چلی گئیں۔ رہتی کسر ہماری آئین سے لاپرواہی اور لاقانونیت نے نکال دی۔
طاقتوروں نے یہاں براہ راست جو حکمرانی کی سو کی جب سویلین حکومتیں بنتی رہیں تب بھی اصل حکمرانی انہی کے پاس رہی جس سے نت نئے مسائل پیدا ہوتے چلے گئے۔ اندرونی طور پر ہمارے اندر جو خلفشار اور تباہیاں آئیں سو آئیں، بیرونی طور پر ہماری خارجہ پالیسی میں بھی اسی منافرت نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔ آج بھی ہماری خارجہ پالیسی کا محور انڈیا دشمنی پر استوار ہے اور میں یہ پورے دعوے اور اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ جب تک ہم نے انڈیا دشمنی کا کیڑا اپنے دماغوں سے نہیں نکالیں گے تب تک ہم مسائل کے گرداب سے کبھی اوپر نہ اٹھ سکیں گے۔ ہم خارجی محاذ پر بھی اسی طرح اپنی تذلیل کرواتے رہیں گے جس طرح داخلی مسائل کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ اور حالت یہ ہے کہ ہم دو چار ارب ڈالر کے لیے بڑی طاقتوں کے سامنے ناک رگڑ رہے ہیں جبکہ انڈیا کے پاس 600 ارب ڈالر کے ریزوز پڑے ہیں۔ لیکن آکڑ ہماری یہ ہے کہ ہم کشمیر چھین لینے کے سپنے قوم کو دکھاتے رہتے ہیں۔ پانچ فروری کو چھٹی کے ساتھ جوش و خروش کے ساتھ مناتے رہتے ہیں جبکہ میری بیان کردہ سچائی آپ لکھ لیں کہ ہم انڈیا سے کشمیر قیامت تک حاصل نہیں کر سکتے۔ نہ لڑ کر نہ کسی اور طریقے سے۔ مسئلے کا حل صرف یہی ہے جو ان کے پاس ہے، وہ ان کا ہے اور جو ہمارے پاس ہے وہ ہمارا منوا لیا جائے۔
اسی پر معاہدہ کر لیا جائے یہاں یو این کی قراردادوں کا رولا ڈالا جاتا ہے، سب بے معنی و فضول شیخ چلی کی بڑھکیں یا باتیں ہیں۔ جسے شک ہے وہ معاہدہ تاشقند کی شقیں ایک مرتبہ پھر پڑھ لے۔ جو شخص تاشقند کے راز افشا کرنے کے لیے ڈرامے کرتا تھا وقت نے خود اس کو بھی شملہ معاہدے میں اسی جگہ لاکھڑا کیا جس میں یو این کی بجائے دو طرفہ بات پر آنا پڑا۔ اور پھر حالات نے ہمیں اس سے بھی نیچے پہنچا دیا۔ انڈیا نے اپنے آئین میں وہ ترمیم کر لی جو ہر ساورن سٹیٹ کا بونافائیڈ رائیٹ ہے۔ آج آپ اپنی ایک ٹانگ پر چاہے جتنی دیر مرضی کھڑے ہو جائیں کوئی بھی انڈین گورنمنٹ تین سو ستر کی دھارا کبھی واپس نہ لوٹا پائے گی۔
میری تلخ نوائی کا برا منانے کی بجائے میری دست بستہ گزارش ہے کہ اے میرے عزیز دوستو اور بھائیو خدا کے لیے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ فرمائیں۔ آگے ہاتھ مارنے کی بجائے جو بچا ہے اسے سنبھالیں، ہندؤوں اور انڈیا کے خلاف منافرت اور دشمنی کے جذبات ابھارنے یا پالنے سے باز آجائیں۔ یہی بیماری ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ انڈیا کو بڑا بھائی مان کر چلیں گے تو مسائل آہستہ آہستہ بہتری کی طرف آتے چلے جائیں گے۔
مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن میں کی گئی تقریر)