ٹرمپ کی یورپ مخالف حکمت عملی گارگر نہیں ہوگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران جیت کی صورت میں اقتدار ملنے پر چوبیس گھنٹے کے اندر یوکرائن کی جنگ بند کروانے کے بلند و بانگ دعوئے کیے تھے ۔ چوبیس گھنٹے میں تو ایسا ممکن نہ ہوا البتہ صدارتی عہدہ سنبھالنے کے ستائیس دن بعد بالآخر اپنے کیے گئے وعدےکوعملی جامہ پہنانے کی طرف پیشقدمی کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔

انہوں نے ڈیڑھ گھنٹے تک روسی صدر پوٹن سے فون پر بات کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس فون کال کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی اور امن معاہدہ کے لیے صدر پوٹن سے متفق ہو گئے ہیں اور جلد با ضابطہ امن مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ جس کے لیے صدر ٹرمپ نے چار رکنی مذاکرتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں وزیر خارجہ مارکوروبیو، ڈائریکٹر سی آئی اے جان ریٹکلیف، قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والتز اور نمائندہ خصوصی سٹیو ویٹکوف شامل ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دے دیا کہ وہ مستقبل قریب میں صدر پوٹن سے ملاقات بھی کریں گے۔

گو صدر ٹرمپ سے یوکرائن جنگ بندی کے سلسلے میں ایسی کاوش متوقع تھی لیکن یہ توقع ہر گز نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ اپنے یورپی اور خاص کر نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کو مشاورتی عمل سے باہر رکھیں گے ۔ یورپ اور نیٹو کے ممبر ممالک کے لیے سب سے زیادہ ششدر کر دینے والی بات صدر ٹرمپ کی فون پر صدر پوٹن کی بات چیت ہی نہیں بلکہ اس کے فوراً بعد امریکی وزیر دفاع پییٹ ہیجٹ کی جانب سے یوکرائن سے متعلق دفاعی پالیسی کا بیان تھا جس میں نیٹو اور یورپین اتحادیوں کے یوکرائن سے متعلق موقف کے برعکس دو ٹوک الفاظ میں یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کو جارج ازامکان قرار دیتے ہوئے اس بات کا عندیہ بھی دے دیا کہ یو کرائن کو امن کے لیے اپنے کچھ علاقوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتےہیں۔

امریکہ کی نئی انتظامیہ کا یہ موقف صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے موقف کی نفی ہی نہیں بلکہ صدر پوٹن کے موقف کی تائید بھی ہے جس کی بنیاد پر روس یوکرائن پر حملہ آور ہوا تھا۔ کیونکہ روس منسک معاہدہ پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ نیٹو سے یہ ضمانت طلب کر رہا تھا کہ یوکرائن کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کےاس نئے موقف نے یورپ اور خاص کر اُن قوتوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے جو روس یوکرائن جنگ پر جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں اور کسی قسم بھی امن معاہدہ کو روسی کی مکمل پسپائی سے مشروط کرتے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور پوٹن کی ٹیلیفون کال اور امریکی وزیردفاع پییٹ ہیجٹ کے بیان کے ردعمل میں بیشتر یورپی ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سے برملا اختلاف کیا ہے۔ وہ یوکرائن کی بقا کو یورپ کی بقا سے منسلک دیکھتے ہیں اور ان کی نظر میں صدر ٹرمپ کے امن فارمولے کے تحت یوکرائن کے ساتھ یورپی بقا کو بھی ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ لاحق ہے۔

اس میں شک نہیں کہ یوکرائن، ٹرمپ امن فارمولا پر امریکہ کے یورپی اتحادی اپنے اختلاف اور احتجاج میں حق بجانب ہیں اور اُن کے تحفظات کا اظہار حقیقت پر مبنی ہے۔ کیونکہ جو بات وجہ تنازعہ بنی اگر اُس پر پسپائی اختیار کرکے روسی مطالبہ کے عین مطابق شرائط پر عمل ہی کرنا ہے تو پھر تین سال سے جاری جنگ اور اس سے ہونے والی ساری قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ لیکن ان تمام دلائل کی موجودگی کے باوجود یورپ کی بے بسی کی بنیاد یورپ کا امریکی دفاع پر انحصار ہے۔ پورپ کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے امریکہ اور نیٹو کے اس قدر محتاج ہیں کہ امریکی منشا کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ کیونکہ یورپ کے دفاع کا کا ضامن نیٹو اتحاد ہے اور اس میں کلیدی کردار امریکہ کا ہے۔ لہذا ٹرمپ کی بحثیت امریکی صدر عائد کردہ شرائط کو تسلیم کرنے میں ہی یورپ کی عافیت ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے روایتی حلیف اور مددگار یورپ کو کہاں تک کو بظر انداز کرتے ہیں۔ قوی امکان یہی ہے کہ صدر ٹرمپ یوکرائن کی جنگ کو بند کروانے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں اور اسے ہر صورت عملی جامہ پہنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس کو امریکہ کی بین الاقوامی بالا دستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ امریکہ کو اپنے نقطہ نظر کے تناظر میں یورپ اور یوکرائن کی پرواہ نہیں۔ وہ امریکی مفادات کو اولیت دینے کے نظریہ کی خود ساختہ پالیسی کے پیش نظر یوکرائن اور یورپ کے تحفظات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آگے بڑھنے میں یکسو دکھائی دے رہے ہیں ۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کا یورپ کو اس طرح نظر انداز کرنا اُس پالیسی سے کھلا انحراف ہے جو پچھلی صدی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے چلے آتے امریکہ یورپ اتحاد کی شناخت رہی ہے۔

اس اتحاد میں اتنے بڑے رخنے کا چند ماہ پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا مظاہرہ یورپ کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے اپنائے جانے کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اگرچہ اس طرح کا رویہ تیسری دنیا کے ممالک سے اپنائے جانے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ لیکن اس بات کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ امریکہ یہی رویہ اپنے ایسے اتحادی یورپ کے ساتھ بھی اپنا سکتا ہے جو ماضی میں بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی کئی نامناسب من مانیوں میں شریک جرم رہا ہے۔ لیکن اس وقت ٹرمپ کی زیر قیادت امریکہ اپنے طے شدہ اہداف کے خبط میں ایسا گرفتار دکھائی دیتا ہے کہ وہ یورپ جیسے وفادار اور قریبی اتحادی کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا۔ امریکہ کی اس سوچ پر بظاہر یہی قیاس ہے کہ صدر ٹرمپ کے نقطہ نظر میں مستقبل قریب اور بعید میں امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج چین ہے لہذا وہ اپنی تمام توجہ اور توانائی چین کو روکنے پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور صدر ٹرمپ کے خیال میں چین کی اُبھرتی ہوئی اقتصادی طاقت مستقبل میں امریکی مفادات کے راستے میں حائل ہو سکتی ہے جس کے تصادم کا روپ دھارنے کا بھی خطرہ ہے۔

لہذاصدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ یوکرائن جنگ نے روس کو مغربی ممالک کی عداوت کے پیش نظر چین کا مطیع بننے پر مجبور کر دیا ہے جس سے بین الاقومی سطح پر چین کی اُبھرتی ہوئی اقتصادی قوت کو تقویت مل رہی ہے۔ لہذا صدر ٹرمپ کے نزدیک یوکرائن جنگ کا خاتمہ چین کی آسانیوں پر قدغن کے لیے ضروری ہے جو بین الاقوامی سطح پر امریکی بالادستی کی برقراری کے ہدف کا ایک اہم نکتہ ہے جس کی خاطر امریکہ یورپی اعتراضات سے صرف نظر کر رہاہے۔

صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ یوکرائن کی جنگ بندی روس کو چین کی محتاجی سے نجات کا موجب بنے گی جس کا فائدہ یورپ اور امریکہ کو ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی شاید یہ بھی حکمت عملی ہے کہ اس سلسلہ میں یورپ کے دفاع سے جُڑے خدشات اور عدم تحفظ سے فائدہ اُٹھاکر یورپ والوں کو اپنے دفاعی اخرجات میں اضافہ پر مجبور کیا جا سکتا ہے تاکہ یورپ اپنے دفاع کے لیے اخراجات کا بڑا حصہ خود اُٹھائے۔ موجودہ امریکی حکومت کا مطالبہ ہے کہ نیٹو ممبران ممالک اپنے بجٹ کا کم سے کم پانچ فی صد دفاع کے لیے مختص کریں جو اس وقت ڈیڑھ سے دو فی صد ہے۔ ایسا اضافہ امریکی دفاعی صنعت کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا ۔ کیونکہ یورپ کو دفاع کے لیے درکار سازوسامان کی بڑی مقدار امریکہ ہی مہیا کرے گا۔ لہذا صدر ٹرمپ ایک تیر سے دو شکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور جس کا بنیادی نکتہ امریکی معیشت کو تقویت پہنچانا ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ کا بظاہر روایتی انداز سیاست کے برعکس عمل اور غیرسفارتی رویہ کے پیچھے اپنے اہداف کو حاصل کرنا بھی ہے۔

صدر ٹرمپ امریکی صنعت کو فروغ دینے کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ کہ صدر ٹرمپ کہاں تک اپنے طے شدہ اہداف کو سابقہ امریکی خارجہ پالیسی کا رخ بدل کی حاصل کر پاتے ہیں۔ کیونکہ اس سے صدر ٹرمپ نے امریکہ کے اپنے اتحادیوں کے اعتماد کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ گو دنیا میں یہی تاثر ہے کہ امریکہ کو اپنی مرضی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن یورپ کے ساتھ امریکی مفادات کے تصادم کا اُبھرتا تاثر امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادوں کو ہلا دے گا۔ کیونکہ امریکہ کی طاقت میں یورپ کا اتحادی ہونا بھی ایک حقیقت ہے۔ لہذا یورپ کو نظرانداز کرنا کسی صورت بھی امریکہ کے لیے سود مند نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یورپ کا سہارا گنوانا کسی صورت عقلمندی نہیں کہلا سکتا۔

دوسری سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یورپ مشرق وسطی اور تیسری دنیا کے ممالک کے برعکس شخصی حکمرانیوں پر قائم نہیں جن کو امریکہ اپنی مرضی سے باآسانی عدم استحکام کی دھمکی دے کر اپنی مرضی پہ آمادہ کر لیتا ہے۔ پورا یورپ عوامی حکمرانی کے تابع ہے جہاں درپردہ کوئی بھی حکومت امریکی خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی جسارت نہیں کر سکتی۔ لہذا صدر ٹرمپ کو یورپ پر اپنایا ہوا رویہ اتنا کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ یورپ کے ساتھ معاملات کو بر صورت دوطرفہ اعتماد کی فضا میں ہی طے کرنے پڑیں گے اور دنیا کے دوسرے خطوں کے برعکس یورپ کی رضامندی سے قطع نظر آگے بڑھنے سے فوائد کم اور نقصانات کا خدشہ زیادہ ہے۔ صدر ٹرمپ کو اپنے طے شدہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکامی کے ساتھ امریکہ کی کمزوری کا موجب بننے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

لہذا اس بات کا قومی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے شُتر بے مہار رویے کو امریکی نظام ہی لگام دینے کے لیے آگے بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ یورپ امریکہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار رکھتا ہے جس کو امریکن اسٹبلیشمنٹ اتنی آسانی سے ضائع نہیں ہونے دے سکتی۔